26/04/2026
“بارش اور تم”
علی کو بارش ہمیشہ سے پسند تھی… لیکن اس دن بارش کچھ خاص تھی۔
وہ یونیورسٹی کے پرانے درخت کے نیچے کھڑا تھا، جب اچانک اس کی نظر اُس پر پڑی—آمنہ۔ سفید لباس، ہلکی مسکراہٹ، اور بارش کے قطروں میں بھیگتے ہوئے بال… جیسے وقت رک گیا ہو۔
“آپ یہاں اکیلے؟” آمنہ نے ہنستے ہوئے پوچھا۔
علی تھوڑا گھبرا گیا، “جی… بارش دیکھنے آیا تھا۔”
“یا کسی کا انتظار؟” اس نے شرارتی انداز میں کہا۔
علی کے پاس جواب نہیں تھا، مگر دل نے آہستہ سے کہا—“ہاں، شاید تمہارا۔”
وہ دونوں ایک ہی چھتری کے نیچے آگئے۔ باتوں کا سلسلہ شروع ہوا، اور پھر جیسے ختم ہی نہ ہوا۔ ہر ملاقات میں ایک نیا رنگ تھا—کبھی ہنسی، کبھی خاموشی، کبھی صرف نظریں۔
وقت گزرتا گیا… اور ایک دن علی نے ہمت کر کے کہا:
“آمنہ، مجھے لگتا ہے… میں تم سے محبت کرنے لگا ہوں۔”
آمنہ نے خاموشی سے اسے دیکھا، پھر مسکرا کر بولی:
“مجھے لگتا ہے… تمہیں کافی دیر ہو گئی یہ بات سمجھنے میں۔”
علی حیران رہ گیا، “مطلب؟”
“مطلب یہ کہ… میں تو پہلے ہی تمہاری ہو چکی ہوں۔”
بارش پھر شروع ہو گئی… مگر اس بار علی کو چھتری کی ضرورت نہیں تھی۔
کیونکہ اب اس کے پاس آمنہ تھی۔