وارثِ علومِ خیرآباد و بندیال شریف

وارثِ علومِ خیرآباد و بندیال شریف اہلیان بندیال شریف کے لیے بالخصوص اور تمام اہل سنت کے لیے بالعموم

حکیم الامتِ دیوبند علاّمہ اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں : حضرت غوث اعظم رحمۃُاللہ کے دھوبی کا انتقال ہوگیا آپ کی نسبت کے صدق...
02/09/2026

حکیم الامتِ دیوبند علاّمہ اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں : حضرت غوث اعظم رحمۃُاللہ کے دھوبی کا انتقال ہوگیا آپ کی نسبت کے صدقے بخشش ہوگئی ، فرشتوں نے پوچھا اس نے کہا میں غوث اعظم رحمۃُ اللہ علیہ کا دھوبی ہوں ۔ ( الافاضاتُ الیومیہ جلد دوم صفحہ نمبر 100 ، 101 مطبوعہ ادارہ تالیفات اشرفیہ ملتان)

حکیم الامتِ دیوبند علاّمہ اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں : حضرت غوث اعظم رحمۃُ اللہ علیہ کے دھوبی نے قبر میں فرشتوں سے کہا میں غوث اعظم کا دھوبی ہوں فرشتوں نے ہنس کے چھوڑ دیا ۔ (حضرت تھانوی کے پسندیدیدہ واقعات صفحہ نمبر 36 مطبوعہ لاہور)

مرتب:محمد شاہد ظفر بندیالوی

🌹زکریا بک ڈپو دیوبند کی "تفسیراتِ احمدیہ" میں تحریف 🌹         از قلم محمد عامر فضیل مرکزی رمولوی           متخصص فی الفق...
02/09/2026

🌹زکریا بک ڈپو دیوبند کی "تفسیراتِ احمدیہ" میں تحریف 🌹

از قلم محمد عامر فضیل مرکزی رمولوی
متخصص فی الفقہ جامعۃ الرضا بریلی شریف

دیوبندی وہ سارق، محرف اور خائن مثل یہود قوم ہے، جو اہل سنت کے متفقہ اسلاف کی کتابوں میں ان مقامات پر تحریف و حذف سے کام لیتی ہے جہاں اسلاف کی عبارات ان کے موجودہ باطل اعتقادات سے ہم آہنگ نہ ہوں۔
چنانچہ تفسیراتِ احمدیہ کے مختلف قدیم و جدید نسخوں میں حضرت ملا جیون علیہ الرحمہ کا یہ قول، آیتِ کریمہ "وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ "کے تحت مذکور ہے:
"ههنا علم ان البقرة المندورة للأولياء كما هو الرسم في زماننا حلال طيب لانه لم يذكر اسم غير الله عليها وقت الذبح وان كانوا ينذرونها له"
(تفسیراتِ احمدیہ، مکتبۃ الشرکۃ، ص 36)
یعنی اس سے معلوم ہوا کہ جو گائے( یا کوئی اور حلال جانور )حضراتِ اولیائے کرام کے لیے نذر کیا جاتا ہے، جیسا کہ ہمارے زمانے میں اس کا رواج ہے، وہ حلال و طیب ہے؛ کیونکہ ذبح کے وقت اس پر غیر اللہ کا نام نہیں لیا گیا، اگرچہ وہ جانور اولیاء کے لیے نذر کیا گیا ہو۔
یہی عبارت مکتبہ رحیمیہ، دیوبند کے مطبوعہ نسخے ص 42 پر بھی موجود ہے بلکہ دیگر نسخوں میں بھی یہ عبارت موجود ہے۔
لیکن جب یہی کتاب زکریا بک ڈپو، دیوبند نے شائع کی تو اس عبارت کو ہی غائب کر دیا اور صرف یہ ناقص جملہ باقی رکھا:
"ومن ههنا علم وقت الذبح وان كانوا ينذرونها له"
(تفسیراتِ احمدیہ، زکریا بک ڈپو، دیوبند، یوپی، انڈیا، ص 55)
اب کوئی دیوبندی اس ناقص جملے کا واضح مفہوم بتا سکےگا ؟ نہیں ،کیونکہ جملہ تام نہیں, کہتے ہیں: چور چوری کرتا ہے مگر نشان قدم ضرور چھوڑ جاتا ہے!
دیابنہ کی اس حرکت کا سبب بھی صاف ظاہر ہے کہ یہ عبارت ان کے باطل اعتقاد کی تردید کرتی ہے؛ کیونکہ ان کے نزدیک اولیائے کرام کے لیے نذر ماننا شرک ہے،شئ منذور کا کھانا درست نہیں ،جبکہ حضرت ملا جیون علیہ الرحمہ نے اس مقام پرنذر کیے گئے جانور کو حلال و طیب قرار دیا ہے،جو دیابنہ کے منہ پر زبردست طمانچہ ہے ۔لیکن دیوبندی تو وہ بے شرم قوم ہے جو خود نہیں بدلتی، اپنے اسلاف کی کتابیں بدل ڈالتی ہے کیونکہ انہیں!
شرم نبی خوف خدا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
نوٹ!
تمام علمائے کرام سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ اگر ہمارے اسلاف کی کسی کتاب کا حوالہ بعد کے نسخے میں نہ ملے تو فوراً حوالہ دینے والے پر اعتراض نہ کیا جائے، بلکہ قدیم و جدید نسخوں کا تقابلی و تحقیقی مطالعہ کیا جائے، بعید نہیں کہ دیابنہ نے اپنے اعتقادات کے تحفظ کے لیے اصل عبارت میں دستِ تصرف دراز کیا ہوجیسا کہ ان کا وطیرہ ہے۔
اور اہلِ ثروت و اصحابِ علم سے یہ بھی گزارش ہے کہ اہلِ سنت کے مطابع و کتب خانے زیادہ سے زیادہ قائم کریں، اسلاف کی اہم عربی و اردو تصانیف کے قدیم مستند نسخے تحقیق و تصحیح کے ساتھ شائع کرکے عام کریں، تاکہ اصل تعلیمات محفوظ رہیں اور تحریف و علمی خیانت کے ذریعے اغیار کوحقائق کو چھپانے کی گنجائش باقی نہ رہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق خیر مرحمت فرماۓ آمین بجاہِ سید المرسلین ﷺ

منقول

02/09/2026
وصال(شہادت) کی خبر سن کر ہاتھ اٹھا کر دعائے مغفرت کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔۔۔بخاری شریف،کتاب المغازی...
01/09/2026

وصال(شہادت) کی خبر سن کر ہاتھ اٹھا کر دعائے مغفرت کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔۔۔

بخاری شریف،کتاب المغازی،باب غزاة اوطاس
حدیث نمبر: 4323
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا فَرَغَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَيْنٍ، بَعَثَ أَبَا عَامِرٍ عَلَى جَيْشٍ إِلَى أَوْطَاسٍ، فَلَقِيَ دُرَيْدَ بْنَ الصِّمَّةِ فَقُتِلَ دُرَيْدٌ، وَهَزَمَ اللَّهُ أَصْحَابَهُ، قَالَ أَبُو مُوسَى: وَبَعَثَنِي مَعَ أَبِي عَامِرٍ، فَرُمِيَ أَبُو عَامِرٍ فِي رُكْبَتِهِ رَمَاهُ جُشَمِيٌّ بِسَهْمٍ، فَأَثْبَتَهُ فِي رُكْبَتِهِ، فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا عَمِّ مَنْ رَمَاكَ؟ فَأَشَارَ إِلَى أَبِي مُوسَى، فَقَالَ: ذَاكَ قَاتِلِي الَّذِي رَمَانِي، فَقَصَدْتُ لَهُ فَلَحِقْتُهُ، فَلَمَّا رَآنِي وَلَّى فَاتَّبَعْتُهُ، وَجَعَلْتُ أَقُولُ لَهُ: أَلَا تَسْتَحْيِي، أَلَا تَثْبُتُ؟ فَكَفَّ، فَاخْتَلَفْنَا ضَرْبَتَيْنِ بِالسَّيْفِ، فَقَتَلْتُهُ، ثُمَّ قُلْتُ لِأَبِي عَامِرٍ: قَتَلَ اللَّهُ صَاحِبَكَ، قَالَ: فَانْزِعْ هَذَا السَّهْمَ، فَنَزَعْتُهُ، فَنَزَا مِنْهُ الْمَاءُ، قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، أَقْرِئْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّلَامَ، وَقُلْ لَهُ: اسْتَغْفِرْ لِي، وَاسْتَخْلَفَنِي أَبُو عَامِرٍ عَلَى النَّاسِ، فَمَكُثَ يَسِيرًا ثُمَّ مَاتَ، فَرَجَعْتُ، فَدَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ عَلَى سَرِيرٍ مُرْمَلٍ وَعَلَيْهِ فِرَاشٌ قَدْ أَثَّرَ رِمَالُ السَّرِيرِ بِظَهْرِهِ وَجَنْبَيْهِ، فَأَخْبَرْتُهُ بِخَبَرِنَا وَخَبَرِ أَبِي عَامِرٍ، وَقَالَ: قُلْ لَهُ اسْتَغْفِرْ لِي، فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعُبَيْدٍ أَبِي عَامِرٍ"، وَرَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَوْقَ كَثِيرٍ مِنْ خَلْقِكَ مِنَ النَّاسِ"، فَقُلْتُ: وَلِي، فَاسْتَغْفِرْ، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ذَنْبَهُ، وَأَدْخِلْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُدْخَلًا كَرِيمًا"، قَالَ أَبُو بُرْدَةَ: إِحْدَاهُمَا لِأَبِي عَامِرٍ، وَالْأُخْرَى لِأَبِي مُوسَى.
ترجمہ:
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید بن عبداللہ نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ حنین سے فارغ ہو گئے تو آپ نے ایک دستے کے ساتھ ابوعامر رضی اللہ عنہ کو وادی اوطاس کی طرف بھیجا۔ اس معرکہ میں درید ابن الصمہ سے مقابلہ ہوا۔ درید قتل کر دیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے لشکر کو شکست دے دی۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوعامر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھی بھیجا تھا۔ ابوعامر رضی اللہ عنہ کے گھٹنے میں تیر آ کر لگا۔ بنی جعشم کے ایک شخص نے ان پر تیر مارا تھا اور ان کے گھٹنے میں اتار دیا تھا۔ میں ان کے پاس پہنچا اور کہا:چچا! یہ تیر آپ پر کس نے پھینکا؟ انہوں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو اشارے سے بتایا کہ وہ جعشمی میرا قاتل ہے جس نے مجھے نشانہ بنایا ہے۔ میں اس کی طرف لپکا اور اس کے قریب پہنچ گیا لیکن جب اس نے مجھے دیکھا تو وہ بھاگ پڑا میں نے اس کا پیچھا کیا اور میں یہ کہتا جاتا تھا، تجھے شرم نہیں آتی، تجھ سے مقابلہ نہیں کیا جاتا۔ آخر وہ رک گیا اور ہم نے ایک دوسرے پر تلوار سے وار کیا۔ میں نے اسے قتل کر دیا اور ابوعامر رضی اللہ عنہ سے جا کر کہا کہ اللہ نے آپ کے قاتل کو قتل کروا دیا۔ انہوں نے فرمایا کہ میرے (گھٹنے میں سے) تیر نکال لے، میں نے نکال دیا تو اس سے پانی جاری ہو گیا پھر انہوں نے فرمایا: بھتیجے! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میرا سلام پہنچانا اور عرض کرنا کہ میرے لیے مغفرت کی دعا فرمائیں۔ ابوعامر رضی اللہ عنہ نے لوگوں پر مجھے اپنا نائب بنا دیا۔ اس کے بعد وہ تھوڑی دیر اور زندہ رہے اور شہادت پائی۔ میں واپس ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا۔ آپ اپنے گھر میں بانوں کی ایک چارپائی پر تشریف فرما تھے۔ اس پر کوئی بستر بچھا ہوا نہیں تھا اور بانوں کے نشانات آپ کی پیٹھ اور پہلو پر پڑ گئے تھے۔ میں نے آپ سے اپنے اور ابوعامر رضی اللہ عنہ کے واقعات بیان کئے اور یہ کہ انہوں نے دعا مغفرت کے لیے درخواست کی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی طلب فرمایا اور وضو کیا پھر ہاتھ اٹھا کر دعا کی، اے اللہ! عبید ابوعامر کی مغفرت فرما۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغل میں سفیدی (جب آپ دعا کر رہے تھے) دیکھی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی، اے اللہ! قیامت کے دن ابوعامر کو اپنی بہت سی مخلوق سے بلند تر درجہ عطا فرمائیو۔ میں نے عرض کیا اور میرے لیے بھی اللہ سے مغفرت کی دعا فرما دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اے اللہ! عبداللہ بن قیس ابوموسیٰ کے گناہوں کو بھی معاف فرما اور قیامت کے دن اچھا مقام عطا فرمائیو۔ ابوبردہ نے بیان کیا کہ ایک دعا ابوعامر رضی اللہ عنہ کے لیے تھی اور دوسری ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے لیے۔

دیوبندیوں کے مولویوں اور علماء کا آنا دیوبندیوں کے لیے عید ہوسکتا ہے اور اس پر کسی دیوبندی نے نہیں پوچھا کہ عیدیں تو دو ...
01/09/2026

دیوبندیوں کے مولویوں اور علماء کا آنا دیوبندیوں کے لیے عید ہوسکتا ہے اور اس پر کسی دیوبندی نے نہیں پوچھا کہ عیدیں تو دو ہیں یہ عیدیں کہاں سے نکل آئیں۔
صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے دن کو عید کہنا ان کے نزدیک ناجائز و غلط ہے۔۔۔
عجیب منافقت اور دہرا معیار ہے،العیاذ باللہ۔۔۔

کانپور کا جلوس محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو دیوبندی جمیعۃ علماء ہند کے زیر انتظام تقسیم ہند سے قبل سے چلا آ رہا ہے م...
30/08/2026

کانپور کا جلوس محمدی
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
جو دیوبندی جمیعۃ علماء ہند کے زیر انتظام تقسیم ہند سے قبل سے چلا آ رہا ہے
مولانا اشرف سیالوی صاحب ایک خطاب میں کہ رہے تھے عجیب مذہب ہے دریائے سندھ کے اس طرف جلوس جائز ہے اس طرف ناجائز دریائے چناب کے اس طرف جائز اس طرف ناجائز ان کا اشارہ ڈیرہ اسماعیل خان میں دیوبندی جلوس اور چناب نگر میں دیوبندی جلوس میلاد النبی کی طرف تھا
بہرحال اس مسئلے میں رشید گنگوہی کے فتوی کو امت کے مجموعی مزاج نے یکسر مسترد کر دیا ہے
اور حاجی امداد اللہ مہاجر مکی جو ان لوگوں کے پیرو مرشد تھے ان کا فیصلہ ہفت مسئلہ ہی سکہ جمائے ہوئے ہے
گنگوہی صاحب نے میلاد منانے پر اشرف علی تھانوی کو لکھا تھا جو میرا مرید ہے وہ اس عمل سے باز نہ آئے تو میرا مرید نہیں پتہ نہیں ان کا اپنے شیخ سے 180 درجہ کا اختلاف ہوتے ہوئے بھی ان کی بیعت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی سے رہی یا نہیں

منقول

Address

Bandial Janubi, Tehsil Quaidabad, District Khushab
Punjab
41310

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when وارثِ علومِ خیرآباد و بندیال شریف posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share