02/09/2026
🌹زکریا بک ڈپو دیوبند کی "تفسیراتِ احمدیہ" میں تحریف 🌹
از قلم محمد عامر فضیل مرکزی رمولوی
متخصص فی الفقہ جامعۃ الرضا بریلی شریف
دیوبندی وہ سارق، محرف اور خائن مثل یہود قوم ہے، جو اہل سنت کے متفقہ اسلاف کی کتابوں میں ان مقامات پر تحریف و حذف سے کام لیتی ہے جہاں اسلاف کی عبارات ان کے موجودہ باطل اعتقادات سے ہم آہنگ نہ ہوں۔
چنانچہ تفسیراتِ احمدیہ کے مختلف قدیم و جدید نسخوں میں حضرت ملا جیون علیہ الرحمہ کا یہ قول، آیتِ کریمہ "وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ "کے تحت مذکور ہے:
"ههنا علم ان البقرة المندورة للأولياء كما هو الرسم في زماننا حلال طيب لانه لم يذكر اسم غير الله عليها وقت الذبح وان كانوا ينذرونها له"
(تفسیراتِ احمدیہ، مکتبۃ الشرکۃ، ص 36)
یعنی اس سے معلوم ہوا کہ جو گائے( یا کوئی اور حلال جانور )حضراتِ اولیائے کرام کے لیے نذر کیا جاتا ہے، جیسا کہ ہمارے زمانے میں اس کا رواج ہے، وہ حلال و طیب ہے؛ کیونکہ ذبح کے وقت اس پر غیر اللہ کا نام نہیں لیا گیا، اگرچہ وہ جانور اولیاء کے لیے نذر کیا گیا ہو۔
یہی عبارت مکتبہ رحیمیہ، دیوبند کے مطبوعہ نسخے ص 42 پر بھی موجود ہے بلکہ دیگر نسخوں میں بھی یہ عبارت موجود ہے۔
لیکن جب یہی کتاب زکریا بک ڈپو، دیوبند نے شائع کی تو اس عبارت کو ہی غائب کر دیا اور صرف یہ ناقص جملہ باقی رکھا:
"ومن ههنا علم وقت الذبح وان كانوا ينذرونها له"
(تفسیراتِ احمدیہ، زکریا بک ڈپو، دیوبند، یوپی، انڈیا، ص 55)
اب کوئی دیوبندی اس ناقص جملے کا واضح مفہوم بتا سکےگا ؟ نہیں ،کیونکہ جملہ تام نہیں, کہتے ہیں: چور چوری کرتا ہے مگر نشان قدم ضرور چھوڑ جاتا ہے!
دیابنہ کی اس حرکت کا سبب بھی صاف ظاہر ہے کہ یہ عبارت ان کے باطل اعتقاد کی تردید کرتی ہے؛ کیونکہ ان کے نزدیک اولیائے کرام کے لیے نذر ماننا شرک ہے،شئ منذور کا کھانا درست نہیں ،جبکہ حضرت ملا جیون علیہ الرحمہ نے اس مقام پرنذر کیے گئے جانور کو حلال و طیب قرار دیا ہے،جو دیابنہ کے منہ پر زبردست طمانچہ ہے ۔لیکن دیوبندی تو وہ بے شرم قوم ہے جو خود نہیں بدلتی، اپنے اسلاف کی کتابیں بدل ڈالتی ہے کیونکہ انہیں!
شرم نبی خوف خدا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
نوٹ!
تمام علمائے کرام سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ اگر ہمارے اسلاف کی کسی کتاب کا حوالہ بعد کے نسخے میں نہ ملے تو فوراً حوالہ دینے والے پر اعتراض نہ کیا جائے، بلکہ قدیم و جدید نسخوں کا تقابلی و تحقیقی مطالعہ کیا جائے، بعید نہیں کہ دیابنہ نے اپنے اعتقادات کے تحفظ کے لیے اصل عبارت میں دستِ تصرف دراز کیا ہوجیسا کہ ان کا وطیرہ ہے۔
اور اہلِ ثروت و اصحابِ علم سے یہ بھی گزارش ہے کہ اہلِ سنت کے مطابع و کتب خانے زیادہ سے زیادہ قائم کریں، اسلاف کی اہم عربی و اردو تصانیف کے قدیم مستند نسخے تحقیق و تصحیح کے ساتھ شائع کرکے عام کریں، تاکہ اصل تعلیمات محفوظ رہیں اور تحریف و علمی خیانت کے ذریعے اغیار کوحقائق کو چھپانے کی گنجائش باقی نہ رہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق خیر مرحمت فرماۓ آمین بجاہِ سید المرسلین ﷺ
منقول