18/11/2024
گلی ڈنڈا
گلی ڈنڈا روایتی گیمز میں مشہور کھیل ہے. گلی ڈنڈا دیہی علاقوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے شہروں میں آج بھی بڑے شوق سے کھیلا جاتا ہے۔ گلی ڈنڈا لکڑی کے دو ٹکڑوں جس میں ایک ڈنڈا یعنی ایک لمبی لکڑی کی چھڑی اور ایک گلی لکڑی کا ایک چھوٹا بیضوی شکل کا ٹکڑا ہوتا ہے کے ساتھ کھیلا جاتا ہے۔ گلی ڈنڈا کی بنیاد پر کئی نئے گیمز وجود میں آئے اگر انٹرنیشنل لیول پر بات کی جائے تو پاکستان کے ساتھ ساتھ انڈیا، بنگلہ دیش، نیپال، افغانستان، کمبوڈیا ،کیوبا اور اٹلی میں آج بھی گلی ڈنڈا کے مقابلے منعقد ہوتے ہیں جو گلی ڈنڈا انٹرنیشنل فیڈریشن کے تحت منعقد ہو رہے ہیں۔ گلی ڈنڈا فیڈریشن تسلیم شدہ اتھارٹی ہے جس کے انڈر ایشیا، یورپ ،افریقہ اور جنوبی امریکہ سے بیس ممالک ممبر ہیں ۔گلی ڈنڈا انٹرنیشنل فیڈریشن کے 2021 سے2025 کے الیکشن میں پاکستان ٹریڈیشنل سپورٹس اینڈ گیمزوایسوسی ایشن- ٹی ایس جی پاکستان کے بانی وہ جنرل سیکرٹری طارق جاوید علی گلی ڈنڈا انٹرنیشنل فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے.
گلی ڈنڈا کی ابتدا ہندوستان میں موریان سلطنت کے دور سے شروع ہوئی۔ تاریخی حوالوں سے پتہ چلتا ہے کہ عام لوگ سڑکوں پر گلی ڈنڈا کھیل کھیلتے تھے اور بعض اوقات شاہی خاندان کے افراد تفریح کے لیے کھیلتے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ گلی ڈنڈا کھیل اتنا مشہور ہوا کہ اس کو ہر گلی محلے میں کھیلا جانے لگا ۔ہندوستان ایک وسیع ملک تھا جس کی پٹی میں جنوبی ایشیا کا ایک بڑا حصہ شامل تھا ۔لیکن جیسے جیسے جغرافیائی سرحدیں کھینچی گئیں، ہندوستان تقسیم ہوا اور نئے ممالک وجود میں آئے۔ تا ہم ،لوگوں میں کبھی بھی گلی ڈنڈا کا شوق کم نہیں ہوا۔گلی ڈنڈا کھیل ہندوستان سے دوسرے ممالک میں پھیل گیا۔ جیسے گلی ڈنڈا کو مختلف ممالک میں مختلف ناموں سے جانا جاتا ہے بنگلہ دیش میں دنگولی، نیپال میں ڈانڈی- بائیو ,افغانستان میں لپا -ڈگی اور سری لنکامیں کٹی -پلوکے نام سے جانا جاتا ہے .مختلف ناموں کے ساتھ مختلف علاقوں میں گلی ڈنڈا کے مختلف رولز اپنائے گئے .جس سے کھلاڑیوں نے اپنے اپنے رولز کے مطابق کھیلا. مختلف رولز ہونے کی وجہ سے یہ کھیل مشہور ہوتا گیا .جو روایتی کھیل بن گیا .اور لوگ گلی ڈنڈا کو تفریح کے لیے کھیلنے لگے۔ گلی ڈنڈا کو مختلف زبانوں میں مختلف دوسرے ناموں سے جانا جاتا ہے جیسے پنجاب میں گلی ڈنڈا ،پشتو میں لپا -دو گی /لپاڈگی۔سرائیکی میں گیتی ڈنا، سندھی میں اتی ڈاکار/ اٹی ڈکر، انگریزی میں ٹپ کی ۔
اس کھیل کے لیے دو لکڑی کی چھڑیاں درکار ہوتی ہیں۔ گلی ایک چھوٹا سا لکڑی کا ٹکڑا ساڑھے تین انچ لمبا اور ایک چوتھائی انچ قطر مرکز میں اور دونوں سروں پر ٹیپرنگ ہوتی ہے یعنی چھیل کر نوکدار کر دیے جاتے ہیں۔ ڈنڈا چھڑی دو فٹ لمبی جبکہ اس کی موٹائی ایک انچ کی گول شکل میں ہوتی ہے۔ جس کو کسی بھی بڑھئی کی دکان سے تیار کروایا جا سکتا ہے۔
گلی ڈنڈا چار کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلا جا سکتا ہے۔ گلی ڈنڈا دو ٹیموں کے درمیان کھیلا جاتا ہے۔ لیکن مجموعی طور پر ایک ٹیم کی تعداد سو تک بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن دونوں ٹیموں کی تعداد ہمیشہ برابر ہوتی ہے۔ گلی ڈنڈا کو ایک چھوٹے سے دائرے میں کھڑے ہو کر کھیلا جاتا ہے ،کھلاڑی گلی کو پہلے ایک چھوٹے سے پتھر پر ایک دائرے کے اندر رکھتے ہیں گلی کا ایک سرا زمین کو چھوتا ہے جبکہ دوسرا سرا ہوا میں ہوتا ہے۔ اس کے بعد کھلاڑی ڈنڈے کا استعمال گلی کو اٹھانے کے لیے کرتے ہیں اس کے ایک سرے پر مارتے ہیں جس سے گلی ہوا میں اڑتی ہے جب یہ ہوا میں ہوتی ہے کھلاڑی گلی کو دوبارہ مارتا ہے جہاں تک ہو جتنی بار ممکن ہو اس گلی کو ڈنڈے سے مارا جاتا ہے گلی کے مارنے کے بعد کھلاڑی کو ایک مخالف ٹیم ممبر کے ذریعے گلی کو بازیاب کرنے سے پہلے دائرے کے باہر پہلے سے متفقہ نقطے کو دوڑکر چھونے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کھیل کا یہ پہلو کرکٹ میں رنز جیسا ہوتا ہے۔ گلی ڈنڈا میں دو ٹیمیں بنتی ہیں جس میں ایک ٹیم کو چمگادڑ اور دوسری ٹیم کو میدان کہتے ہیں۔ سب سے پہلے چار فٹ قطر کا ایک چھوٹا دائرہ کھینچا جاتا ہے۔ بیچ میں ایک چھوٹا سا لمبا سوراخ کھودا جاتا ہے جو گلی سے چھوٹا ہونا چاہیے ۔فیلڈرز ایسی پوزیشن میں کھڑے ہوتے ہیں جہاں سے وہ گلی کو پکڑ سکتے ہیں ۔پہلا کھلاڑی گلی کو سوراخ میں رکھتا ہے اور اسے ڈنڈے کے ساتھ ہوا میں تیزی سے اونچا کرتا ہے اور پھر اسے مارتا ہے اگر وہ پہلے ناکام ہو جاتا ہے تو اسے ایک اور باری مل جاتی ہے اگر فیلڈر زمین کو چھونے سے پہلے گلی کو پکڑ لے تو بلے باز آؤٹ ہو جاتا ہے اور دوسرا کھلاڑی گلی کو مارنے کی کوشش کرتا ہے ۔اگر گلی نہ پکڑی جائے تو سوراخ سے اس جگہ کا فاصلہ جہاں گلی گرتی ہے ڈنڈےسے ناپا جاتا ہے۔ ہر ڈنڈا ایک پوائنٹ کے برابر ہے ۔فیلڈر وہیں کھڑا ہوتا ہے جہاں گلی پڑی تھی اور اسے بلے باز کی طرف پھینکتا ہے۔ بلے باز گلی کو ہوا میں ہوتے ہوئے مارنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر یہ گرتا ہے تو وہ ٹیپر شدہ سرے کو تھپتھپاتا ہے اور اسے ہوا میں اٹھاتا ہے اور ہوا میں رہتے ہوئے مارتا ہے۔ اسے گلی کو مارنے کے تین مواقع ملتے ہیں۔ اگر وہ اسے نہیں مارتا یا پکڑا جاتا ہے تو وہ باہر ہے ۔
تمام بلے بازوں کے آؤٹ ہونے تک کھیل جاری رہتا ہے ۔ٹیم بدلتی ہے اور یہ کھیل اسی طرح جاری رہتا ہے ۔جو ٹیم زیادہ سکور بناتی ہے وہ جیت جاتی ہے۔ گلی ڈنڈا انٹرنیشنل فیڈریشن نے گلی ڈنڈا کا اصول کتاب کا مسودہ تیار کیا ہے۔ جس کے تحت گلی ڈنڈا کو پیشہ وارانہ طور پر فروغ دیا جا سکے ۔تاکہ گلی ڈنڈاکے قدیم روایتی کھیل کو بحال رکھا جا سکے ۔پاکستان گلی ڈنڈا انٹرنیشنل فیڈریشن، ایشیا ءٹریڈیشنل سپورٹس اینڈ گیمز ایسوسی ایشن پر بھی رجسٹرڈ ہے۔ اس کے ساتھ جنرل ایسوسی ایشن آف ایشیا پیسیفک سپورٹس فیڈریشنز اور انٹرنیشنل سپورٹس نیٹ ورک آرگنائزیشن کے ساتھ بھی الحاق ہے۔
طارق جاوید علی کی وال سے مواد لیا گیا ۔