15/10/2025
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سوات کرکٹ 2030 کے بعد کچھ پیچھے چلی جائے گی، کیونکہ 2012 سے2019 تک جو ٹیلنٹ سامنے آیا تھا، وہ واقعی کمال کا تھا۔
بیٹنگ میں اگر دیکھیں تو ڈی ایم ایس معاذ غنی، انیس، مھران سعید، اشرف غنی ،سلمان لکی ،عبدلوھا ب ،نواب،کلیم ،سمیع ،نثار ،با بر،نیا ذ ،عمران اما نکوٹ ،فیصل حیات، ابرار طور لالہ، عماد غنی، عرفان qambri ,شفی، لقمان کوٹا جیسے کھلاڑی تھے۔
بولنگ میں فواد AK47، احسان اللہ، عبدالسلام، عبدالسماد نے نام کمایا،
اور آل راؤنڈرز میں فیضان، جمیل، خیام، حیات پیسر جیسے بہترین پلیئرز تھے — شاید کچھ نام میری یاد سے رہ بھی گئے ہوں۔
بس افسوس اِتنا ہے کہ 2030 کے بعد ہمارے پاس ایسے لیجنڈ کھلاڑی نہیں ہوں گے،
یوں لگتا ہے کہ سوات کرکٹ کی لیگیسی (وراثت) ختم ہو رہی ہے۔
نوٹ:
اس میں میں نے باقی لیجنڈ کھلاڑیوں کا ذکر نہیں کیا، جیسے انوار، عباس، معا ز مامو ،سعید شاہ ،خان دوران ، ُطا ھر united،عرفان united , منظور قاری united ,گران بچہ، کشور (رائٹی)، کشور (لیفٹی)، ارشاد بغدھیرئی، آصف خان لیوانئی، اکبر سعید لالہ، وحید اللہ، ولی احمد، اُستاد صاحب —
شاید کچھ نام بھول بھی گیا ہوں۔
یہ تمام کھلاڑی 2012–13 سے پہلے ڈیبیو کر چکے تھے۔
فیصل اور ابرار نے بھی اُس دور میں آغاز کیا تھا، لیکن ماشاءاللہ آج بھی فِٹ ہیں اور کھیل رہے ہیں۔
وجہ کیا ہو سکتی ہے؟ کمنٹس میں بتاؤ