Mujahid Sports Bhera

Mujahid Sports Bhera Mujahid Sports Bhera – Promoting sports, fitness, and youth development.

14/09/2025

پاکستان بیڈمنٹن میں بعض مواقع پر بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ نہیں لیتا، اور اس کی کچھ وجہ معلوم ہیں۔ ذیل میں میں نے وہ پالیسیاں یا restrictions جو معلوم ہیں بیان کی ہیں:

1. Pakistan Badminton Federation (PBF) کی ممبرشِپ کا مسئلہ

2011 میں BWF نے پاکستان کی ممبرشپ معطل کی تھی کیونکہ PBF میں دو مختلف گروپس تھے جو دعویٰ کر رہے تھے کہ وہ ہی اصلی فیڈریشن ہیں۔

ممبران کو یہ مسئلہ حل کرنا پڑا کہ کس کو تسلیم شدہ نمائندہ گروپ ہونا چاہیے۔

2. مقبول سیاسی/انتطامی اختلافات (Parallel Federations)

دو گروپس (مثلاً ریاستی/وزارتی پشت پناہی اور دوسری Olympic Committee کی پشت پناہی) کے مابین اختلافات نے کھیل کی ترقی کو نقصان پہنچایا ہے۔

اس وجہ سے کھلاڑیوں کو بین الاقوامی ایونٹس کے لیے بھیجنا مشکل ہوا۔

3. ڈیفالٹس یا تقرری کے مسائل

نیچے سے ادارے کی داخلی کارکردگی یا مالی اور انتظامی وسائل کی کمی بھی رکاوٹ بن سکتی ہے۔

بعض مرتبہ PBF یا مقامی انتظامیہ کو مناسب خط و کتابت، مالی تعاون، یا بیرونی تعاون فراہم نہیں ہوتا۔

مثال کے طور پر کوچنگ کا معیار یا فٹنس مراکز کی کمی، ٹریننگ کی عدم دستیابی، وغیرہ۔

4. عوامی سطح پر یا PSB/POA کی پالیسیز

پاکستان سپورٹس بورڈ (PSB) اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن (POA) کی پالیسیز، مالی امداد، اور ترجیحی فنڈنگ بھی فرق ڈالتی ہیں۔ اگر کسی ایونٹ یا ٹیم کو فنڈ نہ ملے، تو شرکت ممکن نہیں ہوتی۔

❓ موجودہ صورتحال — کیا ابھی بھی یہی مسائل ہیں؟

مجھے دستیاب ترین معلومات میں یہ واضح نہیں کہ ابھی بھی مکمل پابندی ہے یا نہیں۔ کچھ شواہد ہیں کہ PBF دوبارہ مستحکم ہو چکا ہے، اور کچھ نئے اقدامات کیے گئے ہیں جیسے کوچنگ کورسز کا انعقاد، وغیرہ۔










08/09/2025

🎯 اچھا کھلاڑی بننے کے لیے بُنیادی صلاحیتیں

1. جسمانی فٹنس

ہر کھیل میں طاقت، برداشت اور پھرتی لازمی ہے۔

مثال: بیڈمنٹن میں تیز ردِ عمل، فٹبال میں دوڑنے کی طاقت، کرکٹ میں برداشت۔

2. بنیادی تکنیک

ہر کھیل کی اپنی بنیادی حرکات اور مہارتیں ہیں (شاٹ، پاس، تھرو، سروس وغیرہ)۔

اگر یہ صحیح نہ آئیں تو آگے بڑھنا مشکل ہے۔

3. حکمتِ عملی اور منصوبہ بندی

کھیل میں صرف زور یا تیز رفتاری نہیں، عقل کا استعمال بھی ضروری ہے۔

مثال: شطرنج میں سوچ سمجھ کر چال چلنا، کرکٹ میں فیلڈ سیٹنگ۔

4. مستقل مزاجی اور مشق

روزانہ پریکٹس اور ڈرلز ہی کھلاڑی کو مکمل بناتی ہیں۔

ایک دن میں چیمپئن بن جانا صرف کہانی ہے۔

5. ٹیم ورک اور رابطہ

ہر کھیل میں دوسروں کے ساتھ سمجھ بوجھ اور تعاون ضروری ہے۔

حتیٰ کہ اکیلے کھیلوں (ٹینس، بیڈمنٹن) میں بھی کوچ اور کھلاڑی کا رابطہ اہم ہے۔

6. ذہنی مضبوطی

سیمی فائنل، فائنل یا تماشائیوں کے دباؤ میں اصل کھلاڑی کا امتحان ہوتا ہے۔

فاتح وہی بنتا ہے جو اپنے اعصاب پر قابو رکھے۔

---

🏆 "فاتح بننے" کے بارے میں غلط فہمیاں

1. غلط فہمی 1: صرف ٹیلنٹ ہی کافی ہے

حقیقت: ٹیلنٹ ایک آغاز ہے، مگر محنت اور مشق کے بغیر ٹیلنٹ ضائع ہو جاتا ہے۔

2. غلط فہمی 2: فاتح کبھی نہیں ہارتے

حقیقت: ہر فاتح نے بار بار ہار کا سامنا کیا ہے۔ ہار ہی سے جیتنے کا سبق ملتا ہے۔

3. غلط فہمی 3: صرف قسمت سے جیت ہوتی ہے

حقیقت: قسمت کبھی کبھار مدد کرتی ہے، مگر مستقل جیت ہمیشہ محنت اور حکمتِ عملی سے ہوتی ہے۔

4. غلط فہمی 4: صرف کھیل کی مہارت کافی ہے

حقیقت: ڈسپلن، خوراک، نیند، فٹنس اور فوکس بھی اتنے ہی ضروری ہیں۔

5. غلط فہمی 5: فاتح ایک دن میں بنتا ہے

حقیقت: سالوں کی محنت اور مستقل مزاجی ہی ایک کھلاڑی کو چیمپئن بناتی ہے۔


اچھا کھلاڑی بننے کے لیے صرف ٹیلنٹ نہیں بلکہ محنت، فٹنس، مشق، حکمتِ عملی، ٹیم ورک اور ذہنی مضبوطی ضروری ہے۔ اور جو لوگ کہتے ہیں کہ فاتح کبھی نہیں ہارتے یا صرف قسمت سے جیت ہوتی ہے، یہ سب محض وہم ہیں۔










19/08/2025




















19/08/2025

یہ موضوع والدین اور کوچز دونوں کے لیے نہایت اہم ہے، :

---

✨ میرے ایتھلیٹ کو کب ٹریننگ شروع کرنی چاہیے؟

اکثر والدین یہ سوال کرتے ہیں کہ بچے کو کھیلوں کی ٹریننگ کب سے شروع کروانی چاہیے۔
اس کا سیدھا سا جواب یہ ہے:

👉 جتنا جلدی وہ ٹریننگ شروع کرے، اتنا ہی زیادہ فائدہ ہوگا۔

کیوں؟
کیونکہ بچپن میں شروع ہونے والی تربیت بچے کو وہ فزیکل ایڈوانٹیج دیتی ہے جو پوری زندگی اس کے ساتھ رہتی ہے۔

---

🏃 نوجوان ایتھلیٹس کو کیسے ٹرین کرنا چاہیے؟

یہ ان کی عمر اور ڈویلپمنٹ کے مرحلے پر منحصر ہے۔ عام طور پر 6 سے 16 سال کے ایتھلیٹس تین مراحل میں آتے ہیں:

1️⃣ ابتدائی مرحلہ (6–9 سال)

مقصد: جسمانی ہم آہنگی (Coordination) پیدا کرنا

ہلکی پھلکی ورزش، کھیل کود، جمپنگ، رننگ، اور بیلنس ایکٹیویٹیز

بھاری وزن یا سخت ایکسرسائز سے گریز

2️⃣ درمیانی مرحلہ (10–13 سال)

مقصد: اسپیڈ، ایجیلیٹی (Agility) اور فٹنس بڑھانا

جمپنگ ڈرلز، رننگ اسپرنٹس، ہلکی ریزسٹنس ٹریننگ

صحیح ٹیکنیک سکھانا ضروری ہے

3️⃣ اعلیٰ مرحلہ (14–16 سال)

مقصد: طاقت (Strength)، پاور اور اسپورٹس اسکلز کو پالش کرنا

اسٹیمنہ ورک، اسپرنٹس، ایڈوانس ڈرلز اور ضرورت کے مطابق ویٹ ٹریننگ

کھیل کے مطابق اسپیشل ٹریننگ (جیسے فٹبال، کرکٹ، باسکٹ بال وغیرہ)

---

✅ صحیح ٹریننگ کے فوائد:

تیز رفتاری اور Explosive Speed

Agility & Quickness یعنی پھرتی

Strength & Power

زیادہ ہائی جمپ کرنے کی صلاحیت

کھیل میں اعتماد اور کامیابی

---

🚫 عام غلطیاں جو والدین کرتے ہیں:

1. بچے کو کم عمری میں بھاری ویٹ ٹریننگ کروانا

2. بغیر پلان کے زیادہ ایکسرسائز کروانا

3. صرف ایک ہی ورزش پر زور دینا (جیسے صرف push-ups یا pull-ups)

---

🎯 نتیجہ

اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ زیادہ کامیاب ہو، کھیل میں ایوارڈز جیتے اور اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کرے تو:
👉 ٹریننگ جتنی جلد شروع ہوگی، اتنا ہی زیادہ فائدہ ہوگا۔
لیکن یہ ضروری ہے کہ ہر مرحلے میں عمر کے حساب سے صحیح ٹریننگ دی جائے۔

---

📌 ہیش ٹیگز

















Proud of Bhera
15/08/2025

Proud of Bhera

فخرے بھیرہ ابھرتا ہوا ستارا ❤️
عدیل محبتی اج کل کمال اور شاندار پرفارمنس کا سلسلہ جاری ہے دروازہ سپر لیگ میں اوٹ کلاس لاجواب الرونڈ پرفارمنس جتنی بھی تعریف کی جاۓ وہ کم ہے پورا دن گرونڈ میں کمال چھکے لگاۓ کسی بھی بولر کو نہیں بخشا اپنی ٹیم کیلۓ ون مین شو کیا فاٸینل تک لیکر آۓ لیکن بد قسمتی سےفاٸینل ہارگۓ۔
فاٸینل ہارے ضرور لیکن عوام اور لاٸیو دیکھنے والوں سےخوب داد وصول کی ۔۔اللہ پاک بھاٸی کو مزید عزت دے ۔امین

15/08/2025

کسی بھی اسپورٹس مین کی روزمرہ زندگی منظم، متوازن اور مقصد پر مبنی ہونی چاہیے تاکہ وہ جسمانی، ذہنی اور تکنیکی طور پر بہترین کارکردگی دے سکے۔
یہاں میں آپ کو ایک پروفیشنل ایتھلیٹ روٹین کا خاکہ دے رہا ہوں:

---

اسپورٹس مین کی مثالی روزمرہ روٹین

1️⃣ صبح کا آغاز (Fajr + Motivation)

فجر کی نماز کے بعد 5–10 منٹ شکریہ ادا کرنا (Gratitude practice) — اپنے مقصد اور خواب کو یاد کرنا۔

10–15 منٹ ہلکی اسٹریچنگ یا یوگا تاکہ جسم گرم ہو جائے۔

ایک گلاس نیم گرم پانی میں لیموں ملا کر پینا (ڈیٹاکس کے لیے)۔

---

2️⃣ ناشتہ (Balanced Breakfast)

پروٹین: انڈے، دال، دودھ یا دہی

کاربوہائیڈریٹ: اوٹس، براؤن بریڈ، فروٹ

صحت مند چکنائی: بادام، اخروٹ، مونگ پھلی
(کیونکہ ورزش کے دوران توانائی کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے)

---

3️⃣ ٹریننگ سیشن (Morning Practice)

وارم اپ: 10 منٹ

اسکل ٹریننگ: کھیل کے حساب سے مخصوص ڈرلز (مثلاً کرکٹ میں بیٹنگ/بولنگ پریکٹس، فٹبال میں پاسنگ و شوٹنگ، وغیرہ)

کارڈیو اور اسٹرینتھ ٹریننگ: اسٹیمنا اور مسلز پاور کے لیے

کول ڈاؤن اسٹریچنگ

---

4️⃣ دوپہر کا وقت

ہلکا پروٹین رچ لنچ (چکن/مچھلی + سبزیاں + چاول یا براؤن بریڈ)

20–30 منٹ آرام یا نیند (Power Nap) تاکہ جسم ریکور ہو سکے۔

---

5️⃣ شام کا سیشن

دوبارہ ہلکی پریکٹس یا جِم ورک آؤٹ

اسپورٹس اسکل پالش کرنا (کمپیٹیشن جیسی سیچویشن میں پریکٹس)

فٹ ورک، ریاکشن ٹائم اور ٹیم ورک کی مشق

---

6️⃣ رات کا کھانا اور آرام

پروٹین + ہلکی سبزیاں، زیادہ آئل یا جنک فوڈ سے گریز

سونے سے کم از کم 1 گھنٹہ پہلے کھانا کھا لینا

رات کو 7–8 گھنٹے نیند (مسلسل اور گہری نیند)

---

7️⃣ اضافی عادات

پانی زیادہ پینا (Hydration)

موبائل/ٹی وی کا استعمال محدود رکھنا

روزانہ ذہنی سکون کے لیے 5–10 منٹ مراقبہ یا سانس کی مشق

ہر ہفتے اپنی پرفارمنس کا جائزہ لینا اور اگلے ہفتے کا پلان بنانا

Address

Sargodha

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mujahid Sports Bhera posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category