Historical Hub

Historical Hub .

11/08/2024

I saw some Turkish series but this one is my most favorite. Sultan Mehmet fatih is my favorite character. His personality is loving, caring, with full of emotions, adorable, and also most dangerous, because this man no need to shout for regression only his eyes are enough.

By the way I'm new here.




11/08/2024
شکریہ ارشد ندیم بھائی ہمارے ملک کا نام اولمپکس میں اونچا کرنے کے لئےجیو شہزادے 👏
10/08/2024

شکریہ ارشد ندیم بھائی ہمارے ملک کا نام اولمپکس میں اونچا کرنے کے لئے
جیو شہزادے 👏

25/07/2024

دوستی کی آلا مثالیں.
‏تاریخ کربلا میں تین شخصیات ایسی ہیں جن کی داستان دلنشیں ہے۔ یہ تینوں حسین ابن علی کے دوست تھے۔ان کی داستانیں حق دوستی کی لازوال داستانیں ہیں۔ ایک کا نام ہے حبیب ابن مظاہر جو امام حسین سے بچپن سے شناسا تھے اور بوقت شہادت ان کی عمر اسی سال تھی۔ان کو امام نے خط لکھ کر اپنی مدد کے واسطے بلایا تھا۔ خط موصول ہوا تو انہوں نے اپنے حبش النسل غلام جون کو کچھ رقم دے کر آزاد کرتے کہا”میں موت کی جانب جا رہا ہوں ۔تجھے آزاد کرتا ہوں۔”۔ جون جو حبش کا باشندہ تھا اور اس کا بنیادی مذہب عیسائیت تھا اس نے اپنے مالک کا ساتھ چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ دیرینہ تعلق تھا۔ بلآخر وہ حبیب ابن مظاہر کے ہمراہ ناکہ بندیوں سے بچتا کربلا پہنچا۔ اور دونوں کربلا کے شہید ہیں۔

حبیب ابن مظاہر نے لڑتے وقت جو میدان کربلا میں دشمن کو للکار کر رجز پڑھا ہے وہ بلاذری اور دیگر تواریخ کی کتب میں آیا ہے۔ عربوں کا دستور تھا کہ وہ لڑنے سے قبل اپنی بہادری اور اپنے قبیلے کی شان میں اشعار پڑھتے تھے” اب اس بوڑھے کی جنگ دیکھو جس کی کمر جھکی ہوئی ہے۔ جو گھوڑے کی زین پر سیدھا نہیں بیٹھ سکتا۔ تم لوگوں نے اہلبیت کا نہیں رسول اللہ کا خون بہایا ہے۔ آؤ اور مجھ سے لڑو۔” ۔ حبیب کی شہادت کے بعد ان کا غلام جون بھی شہید ہوا۔

دوسرا دوست زہیر ابن قین تھا۔زہیر نے نئی شادی کی تھی اور اپنی دلہن کے ہمراہ واپس کوفہ کی جانب سفر میں تھا۔ دوران سفر اس نے قافلہ حسینی کو دور سے دیکھا اور سمجھ گیا کہ حسین ابن علی اپنے اہل و عیال کے ہمراہ سفر میں ہیں اور یہ کوئی خیر کی بات نہیں۔ علاوہ ازیں مکے سے نکلتے ہوئے وہ تازہ حالات کی خبر رکھتا تھا۔ زہیر قافلہ حسینی سے چھپ کر ایک منزل آگے اپنا خیمہ لگا لیتا تاکہ امام حسین کی نظروں سے بچا رہے۔ وہ کشمکش کا شکار تھا کہ اک جانب نئی زندگی کا آغاز کر رہا ہے اور دوسری جانب اگر جاتا ہے تو مارا جائے گا۔ تیسرے دن وہ ایک مقام پر پڑاؤ ڈالے تھا کہ قاصد آن پہنچا۔ اس نے حسین ابن علی کا خط زہیر کو پہنچا دیا۔ زہیر نے وہ خط پڑھا۔ پریشانی کے عالم میں خیمے میں آیا۔ اس کی بیوی نے پریشانی کا سبب پوچھا تو زہیر نے ماجرا بیان کیا۔ بیوی بولی “ نواسہ رسول تجھے بلاتا ہے اور تو نہیں جاتا ؟ ان کے ہمراہ اہل و عیال ہیں تو مجھے بھیج دے میں بی بی زینب کے ہمراہ سفر کروں گی۔” ۔ زہیر نے جواب دیا “ میں تجھے ابھی آزاد کرتا ہوں۔ تو اپنی زندگی جی لے۔ میرا غلام تجھے تیرے گھر پہنچا دے گا۔ میں جس جانب جا رہا ہوں وہاں سے اب واپسی مشکل ہے۔”

زہیر کی بیوی نہ مانی اور یہ دونوں میاں بیوی قافلہ حسینی میں شریک ہوئے۔ زہیر ابن قین کی شہادت بوقت ظہر نمازیوں کی حفاظت کرتے ہوئے۔ امام عالی مقام نے ظہر کی نماز ادا کرنا چاہی اور ایک دستہ نمازیوں کی حفاظت کے لیے متعین کیا۔ زہیر اس کا سالار تھا۔ عمر سعد نے تیر اندازوں کا دستہ حملہ کرنے کو بھیجا۔ تیر چلے تو زہیر نے اپنی ڈھال پر لیے اور یوں تیروں کی بارش میں بلآخر جسم زخمی ہوا اور شہادت واقعہ ہوئی۔

تیسرے دوست کا نام وہب کلبی ہے۔ وہب بھی دوران سفر امام حسین سے ملا۔ یہ اپنی بزرگ والدہ کے ہمراہ سفر میں تھا۔ اسے حالات و واقعات کی اطلاع ملی تو امام سے دوستی اسے خیام حسینی تک کھینچ لائی۔وہب کی شہادت ہو چکی۔ جب عصر عاشور کو یزیدی لشکر نے تمام شہداء کے سر کاٹنے شروع کیے تو وہب کلبی کا سر کاٹ کر ایک لعین نے اس کی ماں کی جانب اچھال دیا۔ اس کا مقصد اذیت دینا تھا۔ وہب کی والدہ نے اپنے بیٹے کا سر واپس قاتل کی جانب اچھالا اور ایک شعر کہا “ ہم جو کچھ راہ حق میں صدقہ کر دیتے ہیں وہ واپس نہیں لیا کرتے۔”

کربلا کی جنگ دوستی، ماؤں کی قربانیوں اور اولاد کی وفاؤں سے بھری ایک لازوال اور دردناک داستان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چودہ صدیاں بیت جانے کے باوجود آج بھی غم حسین میں آنکھ نم ہوتی ہے۔آج بھی عصرِ عاشور ایک ہی نعرہ گونجتا ہے۔ لبیک یا حسین۔ ساحر لدھیانوی نے کیا خوبصورت نظم اسی پسِ منظر میں کہی ہے۔

ظلم پھر ظلم ہے، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے، ٹپکے گا تو جم جائے گا

🔘 سلطنت عثمانیہ کے دور کے سکے 🔘 مصر کا سلطنت عثمانیہ سے الحاق تھا، اور اس وقت زیر گردش کرنسیوں میں ترکی کے سکے (قسطنطنیہ...
19/07/2024

🔘 سلطنت عثمانیہ کے دور کے سکے

🔘 مصر کا سلطنت عثمانیہ سے الحاق تھا، اور اس وقت زیر گردش کرنسیوں میں ترکی کے سکے (قسطنطنیہ میں بنائے گئے)،

🔘 کچھ غیر ملکی کرنسیاں، اور مصر میں بنائے گئے عثمانی سکوں کا ایک گروپ (درخ خانہ) تھے۔

🔘 سب سے نمایاں کرنسیوں میں پیرا اور پیاسٹریس تھے، اور اس پر عثمانی سلطان کا نام تغرا رسم الخط (عثمانی رسم الخط جو لٹ اور باہم جڑے ہوئے خطوط پر مشتمل تھا) میں کندہ تھا،

🔘 جو بعد میں سلطنت عثمانیہ کا نشان بن گیا۔

80، سلطان عبدالعزیز کے دور میں 1277

الحجاج نے ہند نامی عورت سے شادی کی، جو نہ ہی اس کی مرضی سے اور نہ ہی اس کے والد کی مرضی سے تھی۔ ایک بار، شادی کے ایک سال...
19/07/2024

الحجاج نے ہند نامی عورت سے شادی کی، جو نہ ہی اس کی مرضی سے اور نہ ہی اس کے والد کی مرضی سے تھی۔ ایک بار، شادی کے ایک سال بعد، ہند آئینے کے سامنے بیٹھی ہوئی تھی اور یہ دو شعر گنگنا رہی تھی:

"ہند تو صرف ایک عربی گھوڑی ہے... جو گھوڑے کی نسل سے ہے اور جسے خچر نے حاملہ کیا ہے،
اگر وہ گھوڑی پیدا کرے تو اس کی تعریف ہو، اور اگر خچر پیدا کرے تو خچر کا ہی قصور ہے۔"

یہ سن کر الحجاج کو غصہ آگیا اور وہ اپنے خادم کے پاس گیا اور کہا، "اسے جا کر دو الفاظ میں بتا دو کہ میں نے اسے طلاق دے دی ہے، اگر تیسرا لفظ بولا تو زبان کاٹ دوں گا، اور یہ بیس ہزار دینار بھی دے دو۔"

خادم ہند کے پاس گیا اور کہا:
"كنتِ... فبنتِ!!"
(یعنی "تم میری بیوی تھیں... اب تم آزاد ہو!!")

لیکن ہند خادم سے زیادہ فصیح تھی، اس نے کہا:
"كنا فما فرحنا... فبنا فما حزنا!!"
(یعنی "ہم ساتھ تھے مگر خوش نہ تھے... اب الگ ہو گئے مگر غمگین نہیں ہیں!!")

اور اس نے خادم کو بیس ہزار دینار دے دیے۔ طلاق کے بعد، کسی نے ہند کو شادی کا پیغام نہیں دیا کیونکہ وہ الحجاج سے کم کسی کو قبول نہیں کرتی تھی۔ پھر اس نے کچھ شاعروں کو پیسے دیے تاکہ وہ اس کے حسن و جمال کی تعریف کریں اور عبد الملک بن مروان تک اس کی تعریف پہنچائیں۔

عبد الملک بن مروان نے اس کی تعریف سن کر اس سے شادی کی خواہش ظاہر کی اور اپنے عامل کو بھیجا تاکہ وہ ہند کی بابت معلومات حاصل کرے۔ عامل نے جواب دیا کہ اس میں کوئی عیب نہیں ہے، سوائے اس کے کہ اس کے سینے بڑے ہیں۔ عبد الملک نے کہا، "بڑے سینے میں کیا عیب ہے؟ وہ شوہر کو گرم رکھتے ہیں اور بچے کو دودھ پلاتے ہیں۔"

جب عبد الملک نے ہند کو شادی کا پیغام بھیجا تو اس نے شرط رکھی کہ اسے دمشق لے جانے والا اونٹ الحجاج ہی چلائے۔ عبد الملک نے یہ شرط قبول کر لی اور الحجاج کو حکم دیا۔

راستے میں، ہند نے جان بوجھ کر ایک دینار گرایا اور الحجاج سے کہا، "غلام، میرا درہم گر گیا ہے، مجھے دے دو۔" الحجاج نے دینار اٹھایا اور کہا، "یہ دینار ہے، درہم نہیں۔" ہند نے جواب دیا، "الحمد للہ، جس نے درہم کے بدلے دینار دیا۔" الحجاج نے یہ بات سمجھ لی کہ ہند نے بہتر شوہر پا لیا ہے۔

جب وہ دمشق پہنچے، الحجاج کچھ دیر اصطبال میں رکا رہا جبکہ لوگ ضیافت کی تیاری کر رہے تھے۔ عبد الملک نے اسے بلایا تو الحجاج نے جواب دیا، "میری ماں نے مجھے دوسروں کے بچے کھانے سے منع کیا ہے۔" عبد الملک نے یہ بات سمجھی اور ہند کو ایک محل میں داخل کر دیا لیکن خود اس سے دور رہا۔

ہند نے اس بات کا سبب جان لیا اور ایک دن اپنے غلاموں سے کہا کہ جب عبد الملک آئے تو اسے بتائیں۔ جب عبد الملک آیا، ہند نے جان بوجھ کر اپنے موتیوں کا ہار توڑ دیا اور انہیں جمع کرنے کے لیے اپنا لباس اٹھایا۔ عبد الملک اس کے حسن سے متاثر ہوا اور اپنے فیصلے پر پچھتایا۔

ہند نے کہا، "سبحان اللہ۔" عبد الملک نے پوچھا، "تم اللہ کی تسبیح کیوں کر رہی ہو؟" ہند نے جواب دیا، "یہ موتی اللہ نے بادشاہوں کی زینت کے لیے بنائے ہیں۔" عبد الملک نے کہا، "ہاں، بالکل۔" ہند نے کہا، "لیکن اللہ کی حکمت نے چاہا کہ انہیں صرف خانہ بدوش ہی پرو سکیں۔" عبد الملک نے خوش ہوتے ہوئے کہا، "ہاں، واقعی، تم نے سچ کہا۔ اللہ اس شخص کو برباد کرے جس نے مجھے تم سے دور رہنے کا مشورہ دیا۔" اور اس دن سے ہی عبد الملک نے ہند سے قریبی تعلقات قائم کیے۔

اس طرح ہند کی چالاکی نے الحجاج کی چالاکی کو مات دے دی

عربی ادب اور فصاحت کا ایک خوبصورت نمونہ۔

برائے مہربانی کوئی تبصرہ چھوڑیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے اور اللہ آپ کی کوششوں کو برکت دے۔

نوٹ: کئی لوگوں نے یہ پوسٹ کاپی پیسٹ کر کے شیئر کی ہوئی ہے اور شہر دمشق کی جگہ بغداد لکھا ہوا ہے حالانکہ بغداد تو بہت بعد میں عباسی دور میں تعمیر ہوا اس لئے میں نے پوسٹ میں درستگی کر کے بغداد کی جگہ دمشق لکھا ہے کیونکہ بنی امیہ کا دارالحکومت دمشق تھا ۔

Historical Point Makki TV GEO TV - Har Pal Geo

پاک فوج پر بھونکنے والو۔۔۔۔ !جب میں بھرتی ھوا میری تنخواہ فقط22000 ھزار روپے تھی میری تنخواہ میں ھر سال 1600سے1800روپے س...
09/03/2024

پاک فوج پر بھونکنے والو۔۔۔۔ !
جب میں بھرتی ھوا میری تنخواہ فقط22000 ھزار روپے تھی میری تنخواہ میں ھر سال 1600سے1800روپے سالانہ بڑھتی ھے ....
5سال سروس کرنے کے بعد میری تنخواہ ماشاء اللہ 28000 ھزار ھوگئی ھے جس پر میں بے حد خوش ھوں ..... کیونکہ میری ضروریات تھوڑی سی ھے میرے چھوٹے بہن بھاٸ ہیں ان کو سال میں ایک بار نئے کپڑوں کی ضرورت ھوتی ھے وہ موقع اب قریب اں پہنچا ھے چونکہ عید قریب ھے .... ....
کل میں کپڑوں کے دوکاندار کے پاس گیا انھوں نے مجھے اچھے کپڑے دیکھائے ان کا خیال تھا کہ یہ فوجی ھے اس کی تنخواہ زیادہ ھے میں نے کپڑوں کی قیمت پوچھی جواب ملا یہ جو چھوٹی بچی کا سوٹ ھے یہ2000روپے کا ھے میں ھنس دیا میں نے کہا یار مذاق نہ کر صحیح صحیح قیمت بتا انھوں نے پھر سے کہا جناب یہ فل اینڈ فائنل قیمت ھے میں نے اپنے جیب کی طرف دیکھا تو میرے جیب میں 5000روپے تھے اور تین چھوٹے بہن بھاٸیوں کو سوٹ خریدنے تھے ....
میں نے دوکاندار سے تھوڑی بحث کی یار اتنا مہنگا کیوں دے رھو جواب ملا مہنگائی کا کچھ پتہ ھے آپ کو ......
میں خاموش ھوا میرے پاس جواب نہ تھا مجھے کیا پتہ تھا 4 مہینے بعد عید کے لئے گھر ایا تھا ...
جس پہاڑ پر میری ڈیوٹی تھی وھاں ھم نے پرندوں کی زبانیں سیکھی تھی یہ اخبار کیا ھوتا ھے یہ ٹی وی کیا ھوتی ھے ھمیں کیا معلوم ........... نکل پڑا .... ساتھ میں ریڑھی والے سے بچا لوگوں کے لئے آلو کے چپس اور پکوڑے خریدے..ریڑھی والے نے اخبار کے ایک پیس میں ڈال دئے
اخبار پر نظر پڑھی تو اس پر موٹی سرخی درج تھی

""ھمارے ٹیکس پر پلنے والے فوجی""

سوچ سوچ کر انکھوں سے انسو نکل پڑے ....ھمیں یہ بھی نھیں خبر کہ لوگ ھمارے بارے میں ایسا بھی سوچتے ھیں ...ھم تو اس دھرتی کو ماں سمجھ کر بارڈر لائن پر دشمن کو سینہ تان کر کھڑے ھوتے ھیں اور یہاں کچھ لوگ ھمارے بارے میں ایسا بھی سوچتے ھیں .....

میری تنخواہ قلیل ھے لیکن شکر ھے میرا اس پر گزارہ ھوتا ھے میری ضروریات بہت کم ھیں میری تنخواہ حلال ھے کیونکہ میں جہاں بھی ڈیوٹی کے لئے جاتا ھوں ھر روز موت کا سامنا کرتا ھوں کبھی یہ نھیں سوچا کہ میرے بھائی مجھے صرف 28000ھزار ٹیکس کی تنخواہ دیتیں ھیں اس تھوڑے سے پیسوں میں جان کیوں گنواو ....
بلکہ اس وقت میرے زھن میں ایک خیال اتا ھے کہ

اگر پاکستان ھے تو ھم ھیں اگر پاکستان نھیں تو ھم نھیں .......

میں نے کبھی گھر والوں کا نھیں سوچا کہ وہ میرے جانے کے بعد کیا کرینگے کیوں کہ بات کروڑوں خاندانوں کی ہوتی ہے ،،

فوجی

Address

Rawalpindi West Ridge

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Historical Hub posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Historical Hub:

Share