Quetta 360

Quetta 360 any News about Quetta Pakistan

05/06/2026

پشین: جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ نے کہا ہے کہ ختمِ نبوت کے معاملے پر سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے خلاف عوامی ردعمل اور جدوجہد کے نتیجے میں عدالت کو چند گھنٹوں کے اندر اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا۔

پشین میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ انتخابات کے بعد جب وہ پہلے جلسے کے لیے پشین آئے تو عوام کی جانب سے انہیں شکایت موصول ہوئی کہ سپریم کورٹ نے ختمِ نبوت کے حوالے سے ایک غلط فیصلہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے پر ملک بھر میں ردعمل سامنے آیا اور بعد ازاں انہیں سپریم کورٹ میں طلب کیا گیا، جہاں ان کے مؤقف کو تسلیم کرتے ہوئے فیصلہ واپس لیا گیا۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام نے اپنی سیاسی اور نظریاتی جدوجہد میں کبھی شکست قبول نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ ہر امتحان اور چیلنج کا مقابلہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے کیا گیا اور کارکنوں، ووٹروں اور قوم کے اسلامی جذبے کو کمزور نہیں ہونے دیا گیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جمعیت علماء اسلام اس وقت پاکستان کی سب سے بڑی عوامی قوت بن چکی ہے اور ملک میں اسلامی اقدار، آئین اور ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام ہمیشہ قومی اور مذہبی معاملات میں عوام کی ترجمان رہی ہے اور مستقبل میں بھی اپنے نظریاتی مؤقف اور جدوجہد کو جاری رکھے گی۔

05/06/2026

پشین: جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ نے کہا ہے کہ ان کی جماعت نے ہمیشہ عوامی حقوق، قومی یکجہتی اور محبت کی سیاست کی ہے اور کبھی لسانی یا فرقہ وارانہ نفرتوں کو ہوا نہیں دی۔

پشین میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام نے ہر دور میں عوام سے براہِ راست رابطہ رکھا ہے اور جب بھی قوم کو آواز دی گئی، عوام نے بھرپور انداز میں لبیک کہا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت کے جلسوں نے شرکت کے نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں اور حال ہی میں کراچی میں ایک ضلعی جلسہ بھی ایک بڑے عوامی اجتماع اور ملین مارچ کا منظر پیش کر رہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام چاروں صوبوں میں عوام کے پاس جا رہی ہے اور عوام کی بھرپور پذیرائی اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ جماعت کی پالیسیوں اور مؤقف پر اعتماد کرتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ان کی جماعت کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، کارکنوں اور علماء کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور جماعت دہشت گردی کی زد میں ہے، تاہم اس کے باوجود جمعیت علماء اسلام اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹی۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں جب بھی فرقہ وارانہ کشیدگی اور نفرتوں کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی، جمعیت علماء اسلام نے اس سیاست کو مسترد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت نے پشتون، بلوچ، سندھی، مہاجر، سرائیکی اور پنجابی عوام کے درمیان نفرتوں کی بنیاد پر سیاست نہیں کی بلکہ اتحاد، بھائی چارے اور عوامی حقوق کے لیے جدوجہد کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام آئندہ بھی ملک میں امن، ہم آہنگی، جمہوریت اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

05/06/2026

پشین: جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ نے کہا ہے کہ ان کی جماعت نے ہمیشہ پاکستان کے استحکام، قومی اتحاد اور عوامی حقوق کی سیاست کی ہے، جبکہ نفرت، تقسیم اور لسانی و فرقہ وارانہ بنیادوں پر سیاست سے گریز کیا ہے۔

پشین میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام نے مختلف قومیتوں، مسالک اور طبقات کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے جدوجہد کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت نے ہمیشہ ملک میں اتحاد، بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے فروغ کو اپنی سیاسی جدوجہد کا محور بنایا۔

انہوں نے اپنے سیاسی مخالفین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بعض عناصر نے قوم کو مختلف بنیادوں پر تقسیم کرکے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی، جبکہ جمعیت علماء اسلام نے عوام کو جوڑنے اور ملک کے استحکام کے لیے کردار ادا کیا۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قومی اتحاد ناگزیر ہے اور تمام سیاسی قوتوں کو نفرت اور تقسیم کے بجائے ملک و قوم کے وسیع تر مفاد کو ترجیح دینی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام مستقبل میں بھی آئین، جمہوریت، قومی وحدت اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی۔

05/06/2026

پشین: جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ نے پشین میں منعقدہ بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کی بھرپور شرکت جماعت پر ان کے غیر متزلزل اعتماد کا ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کی کوئی طاقت جمعیت علماء اسلام اور اس کے کارکنوں کے درمیان موجود مضبوط رشتے کو کمزور نہیں کر سکتی۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پشین جمعیت علماء اسلام کا ناقابلِ تسخیر قلعہ ہے اور مخالفین کی جانب سے مختلف رکاوٹیں کھڑی کیے جانے کے باوجود کارکنوں کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام ایک مسلسل جدوجہد، قربانیوں اور دینی و سیاسی خدمات کی تحریک ہے، جس کی پشت پر دو سو سال سے زائد کی تاریخی جدوجہد موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تحریک اپنے مقاصد کے حصول تک آگے بڑھتی رہے گی۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان کے اسلامی تشخص کے تحفظ، اسلامی آئین کی تشکیل اور ختمِ نبوت کے معاملے پر جمعیت علماء اسلام نے ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں قانون سازی کو قرآن و سنت کے تابع بنانے کے لیے بھی جماعت نے تاریخی جدوجہد کی۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جمعیت علماء اسلام ملک میں آئین، جمہوریت اور اسلامی اقدار کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ضلع پنجگور میں سیکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشن پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئ...
05/06/2026

کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ضلع پنجگور میں سیکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشن پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بہادر افسران اور جوانوں کی پیشہ ورانہ مہارت، جرات اور قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ دہشت گرد عناصر بلوچستان کے امن، ترقی اور خوشحالی کے دشمن ہیں، تاہم ان کے مذموم عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے دشمن کے ناپاک منصوبوں کو ناکام بنایا اور ایک مرتبہ پھر ثابت کیا کہ ریاستی ادارے ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد عناصر بلوچستان میں بدامنی پھیلانے اور ترقیاتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں، لیکن قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سیکیورٹی فورسز ان عناصر کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور یہ کارروائیاں منطقی انجام تک پہنچائی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام اور حکومت دہشت گردی کے خلاف قومی جنگ میں اپنی سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان تعاون ناگزیر ہے اور پوری قوم اس مقصد کے حصول کے لیے متحد ہے۔

وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک دشمن عناصر اور ان کے غیر ملکی سرپرستوں کو بلوچستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے ریاستی ادارے بھرپور عزم اور یکجہتی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت کی پالیسی اور عزمِ استحکام کے تحت دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے تمام ادارے متحد، متحرک اور پُرعزم ہیں، جبکہ سیکیورٹی فورسز کی حالیہ کامیاب کارروائی اس قومی عزم کی واضح عکاس ہے۔

انہوں نے کامیاب آپریشن میں حصہ لینے والے افسران اور جوانوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کامیاب کارروائیوں پر پوری قوم اپنی سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں اور خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وطن کے دفاع اور عوام کے تحفظ کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء اور ان کے اہل خانہ پوری قوم کا فخر ہیں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے میں امن، استحکام اور ترقی کے سفر کو ہر قیمت پر جاری رکھا جائے گا اور دہشت گردی کے خاتمے تک ریاستی اداروں کی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔

05/06/2026

کوئٹہ: محکمہ جنگلات بلوچستان کے زیر اہتمام عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر ایک آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا، جس میں صوبائی سیکرٹری جنگلات عمران گچکی، ڈائریکٹر جنرل جنگلات نیاز خان کاکڑ، نعیم جاوید، عمران علی، اسلم بزدار، عمر فاروق اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

واک کے شرکاء نے ماحولیات کے تحفظ، شجرکاری کے فروغ اور عوامی شعور بیدار کرنے کے حوالے سے اپنے عزم کا اظہار کیا۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی سیکرٹری جنگلات عمران گچکی نے کہا کہ واک کا مقصد عوام میں ماحول دوست رویوں کو فروغ دینا اور انسانی زندگی میں درختوں کے اہم کردار کو اجاگر کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ درخت ماحول کو صاف رکھنے، آلودگی میں کمی لانے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے اردگرد کے ماحول کو صحت مند، سرسبز اور بہتر بنانے کے لیے زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں اور ان کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ماحول کے تحفظ اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لیے شجرکاری وقت کی اہم ضرورت ہے۔

03/06/2026

کوئٹہ: بلوچستان کے ٹرانسپورٹرز اور ٹرک مالکان نے شاہراہوں پر بڑھتے ہوئے دہشت گردانہ حملوں، ٹرکوں کو نذرِ آتش کرنے، فائرنگ اور ڈرائیوروں کو زخمی کرنے کے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری اقدامات اور متاثرہ ٹرک مالکان کو معاوضے کی ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے۔

ٹرانسپورٹرز کی جانب سے پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ عید سے قبل لورالائی روڈ، ہرنائی روڈ اور خصوصاً کوئٹہ-تفتان شاہراہ پر دہشت گردی کے مسلسل واقعات میں درجنوں ٹرکوں کو جلایا گیا اور ڈرائیوروں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث ٹرک مالکان شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت بلوچستان کی بیشتر شاہراہوں پر جان و مال کا تحفظ یقینی نہیں بنایا جا رہا اور متعلقہ ادارے ٹرانسپورٹرز کو مناسب سیکیورٹی فراہم کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو متعدد ٹرک مالکان بلوچستان میں کارگو سروس بند کرکے دیگر صوبوں میں کاروبار منتقل کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

پریس کانفرنس میں مطالبہ کیا گیا کہ دہشت گردی کے واقعات میں جلائے یا تباہ کیے جانے والے ٹرکوں کے مالکان کو حکومت فوری طور پر کلیم اور معاوضے کی ادائیگی کا اعلان کرے تاکہ متاثرین کی حوصلہ افزائی ہو اور کارگو سروس متاثر نہ ہو۔

ٹرانسپورٹرز نے کہا کہ ملک بھر میں کارگو ٹرانسپورٹیشن ان کا ذریعہ معاش ہے اور وہ کسی کے دباؤ پر لوڈنگ یا سپلائی بند نہیں کر سکتے، تاہم اگر حکومت نے متاثرہ ٹرک مالکان کے نقصانات کا ازالہ نہ کیا تو دہشت گرد اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جائیں گے۔

انہوں نے حکومت کو 10 جون تک کی مہلت دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ متاثرہ ٹرک مالکان کو معاوضے کی ادائیگی کا باضابطہ اعلان کیا جائے۔ ٹرانسپورٹرز کے مطابق اس وقت کوئٹہ-تفتان شاہراہ پر کارگو سپلائی محدود کر دی گئی ہے، جبکہ 10 جون تک مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں احتجاجی لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔

03/06/2026

Writing
خاموشی خطرناک ہے، افغانستان میں عدم استحکام پورے خطے کو متاثر کرے گا، سیاسی مسائل کا حل مذاکرات میں ہے: محمود خان اچکزئی
کوئٹہ: پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ ملک اور خطہ اس وقت انتہائی نازک حالات سے گزر رہے ہیں، ایسے میں سیاسی کارکنوں اور عوام کو تحمل، برداشت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ مخالفین کے خلاف توہین آمیز زبان، طعن و تشنیع اور نامناسب تبصروں سے گریز کریں کیونکہ یہ جمہوری سیاست کے اصولوں کے خلاف ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک اہم تاریخی مرحلے سے گزر رہا ہے اور تمام سیاسی جماعتوں، دانشوروں اور عوام کو ملکی معاملات پر کھل کر رائے دینی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ خاموشی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے اور قومی مسائل پر سنجیدہ مکالمے کی ضرورت ہے۔
محمود خان اچکزئی نے خطے کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران، امریکہ، اسرائیل، چین، روس، بھارت اور دیگر عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی پورے خطے کو متاثر کر سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر خطہ عالمی طاقتوں کے تصادم کا میدان بنا تو اس کے سنگین اثرات پاکستان، افغانستان اور دیگر ممالک پر مرتب ہوں گے۔
انہوں نے افغانستان کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں کسی بھی قسم کا عدم استحکام یا تقسیم پورے خطے میں بحران پیدا کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تاریخ ثابت کرتی ہے کہ افغانستان میں مداخلت کرنے والی بڑی طاقتوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اس لیے تمام فریقین کو امن اور مذاکرات کے راستے کو ترجیح دینی چاہیے۔
انہوں نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہتر تعلقات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کو باہمی احترام اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے چاہئیں۔ ان کے مطابق خطے میں پائیدار امن اور ترقی کے لیے علاقائی تعاون ناگزیر ہے۔
محمود خان اچکزئی نے سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقاتوں پر عائد پابندیوں پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ سیاسی رہنماؤں کو اہل خانہ اور وکلا سے ملاقات کی سہولت ملنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات کا حل پابندیوں یا سخت اقدامات میں نہیں بلکہ مکالمے اور جمہوری عمل میں پوشیدہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خواتین، بچوں اور اہل خانہ کو سیاسی تنازعات کا حصہ نہیں بنانا چاہیے اور تمام سیاسی قوتوں کو تحمل اور مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قومی یکجہتی، آئین کی بالادستی اور جمہوری روایات کا فروغ ضروری ہے۔

03/06/2026

کوئٹہ میں پیٹرول سپلائی بڑھا دی گئی، قلت جلد ختم ہو جائے گی: ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی
کوئٹہ: ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں ایرانی پیٹرول سپلائی ہوتا ہے، تاہم ایرانی پیٹرول کی سپلائی بند ہونے کے باعث کوئٹہ کے پیٹرول پمپس پر غیر معمولی رش دیکھنے میں آیا۔
انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ میں 60 رجسٹرڈ پیٹرول پمپس موجود ہیں اور ضلعی انتظامیہ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کا فوری نوٹس لیتے ہوئے پمپ مالکان سے رابطہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے پیٹرول پمپس پر سپلائی میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
مہراللہ بادینی کے مطابق گزشتہ روز کوئٹہ کے پیٹرول پمپس کو 4 لاکھ لیٹر پیٹرول فراہم کیا گیا، جبکہ آج 6 لاکھ لیٹر پیٹرول سپلائی کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسا نہیں ہے کہ آج پیٹرول دستیاب ہو اور کل نہ ہو، سپلائی کا سلسلہ جاری رہے گا۔
ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ایرانی پیٹرول کو قانونی حیثیت نہیں دی گئی اور اس کی بندش کے بعد مقامی پیٹرول پمپس پر طلب میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بحران کے دوران بعض عناصر ناجائز منافع خوری کی کوشش کرتے ہیں، تاہم ضلعی انتظامیہ صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بعض پیٹرول پمپس پر کم گیج کی شکایات کا بھی نوٹس لیا گیا ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
مہراللہ بادینی نے کہا کہ موبائل ڈیٹا سروس سیکیورٹی خدشات کے باعث عارضی طور پر معطل کی گئی ہے اور عوام کے مفاد میں تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

Address

Quetta
Quetta
87300

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Quetta 360 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category