05/06/2026
پشین: جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ نے کہا ہے کہ ختمِ نبوت کے معاملے پر سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے خلاف عوامی ردعمل اور جدوجہد کے نتیجے میں عدالت کو چند گھنٹوں کے اندر اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا۔
پشین میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ انتخابات کے بعد جب وہ پہلے جلسے کے لیے پشین آئے تو عوام کی جانب سے انہیں شکایت موصول ہوئی کہ سپریم کورٹ نے ختمِ نبوت کے حوالے سے ایک غلط فیصلہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے پر ملک بھر میں ردعمل سامنے آیا اور بعد ازاں انہیں سپریم کورٹ میں طلب کیا گیا، جہاں ان کے مؤقف کو تسلیم کرتے ہوئے فیصلہ واپس لیا گیا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام نے اپنی سیاسی اور نظریاتی جدوجہد میں کبھی شکست قبول نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ ہر امتحان اور چیلنج کا مقابلہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے کیا گیا اور کارکنوں، ووٹروں اور قوم کے اسلامی جذبے کو کمزور نہیں ہونے دیا گیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جمعیت علماء اسلام اس وقت پاکستان کی سب سے بڑی عوامی قوت بن چکی ہے اور ملک میں اسلامی اقدار، آئین اور ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام ہمیشہ قومی اور مذہبی معاملات میں عوام کی ترجمان رہی ہے اور مستقبل میں بھی اپنے نظریاتی مؤقف اور جدوجہد کو جاری رکھے گی۔