The Jaguar Cricket Club-TJCC

The Jaguar Cricket Club-TJCC The Jaguar Cricket Club (TJCC) is a cricket club/team based in Pindi Bhattian a tehsil of Hafizabad

آج مورخہ 29 دسمبر 2024 بروز اتوار تحصیل سپورٹس کمپلیکس پنڈی بھٹیاں کے کرکٹ گراؤنڈ میں کمپلیکس انتظامیہ محترمہ مشعل فاطمہ...
29/12/2024

آج مورخہ 29 دسمبر 2024 بروز اتوار تحصیل سپورٹس کمپلیکس پنڈی بھٹیاں کے کرکٹ گراؤنڈ میں کمپلیکس انتظامیہ محترمہ مشعل فاطمہ اور جناب حبیب شاہ صاحب (سپورٹس آفیسران) کی زیر نگرانی The Jaguar Cricket Club-TJCC اور حاجی پورہ الیون کے درمیان ایک دوستانہ میچ کھیلا گیا۔
تفصیلات کے مطابق میچ خراب موسم کے باعث تاخیر کے ساتھ دوپہر بارہ بجے شروع ہوا جس میں حاجی پورہ الیون نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے مقررہ 25 اوورز میں TJCC کو جیت کے لیے 199 رنز کا ہدف دیا۔ جو سنسنی خیز مقابلے کے بعد TJCC نے آخری اوور میں 9 وکٹوں کے نقصان پر پورا کر لیا۔
یوں اس دوستانہ میچ کا دلچسپ مقابلے کے ساتھ انتہائی خوشگوار انداز میں اختتام ہوا۔
دونوں سپورٹس آفیسران نے میچ کو گراؤنڈ میں بیٹھ کر براہ راست دیکھا اور دونوں ٹیموں کے کھیل سے محذوذ ہوئے۔
اس مو قع پر تحصیل سپورٹس آفیسر محترمہ مشعل فاطمہ صاحبہ نے دونوں ٹیمز کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں سپورٹس کمپلیکس میں زیادہ سے زیادہ میچز کھیلنے کی ترغیب دلاتے ہوئے اس بات کی مکمل یقین دہانی کروائی کہ یہاں کھیلنے کے لیے آنے والی ٹیمز کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔
اس کے علاؤہ انہوں نے Jaguar کرکٹ کلب کے کپتان اسد اللہ کو اپنا کلب رجسٹر کروانے کے طریقہ کار سے آگاہ کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مستقبل قریب میں سپورٹس بورڈ کے ساتھ رجسٹرڈ ہونے والے clubs کے درمیان ایک شاندار ٹورنامنٹ کے انعقاد کا ارادہ رکھتی ہیں۔
مجموعی طور پر یہ TJCC کے لیے ایک شان دار دن تھا جس کا اختتام فتح کے ساتھ ہوا۔

آج دو روایتی حریف ٹیمز شوری مانیکا کرکٹ کلب بمقابلہ TJCC ایک شان دار میچ ہوا۔ جو بحمدللہ تعالیٰ The Jaguar Cricket Club-...
14/12/2024

آج دو روایتی حریف ٹیمز شوری مانیکا کرکٹ کلب بمقابلہ TJCC ایک شان دار میچ ہوا۔ جو بحمدللہ تعالیٰ The Jaguar Cricket Club-TJCC نے 5 وکٹوں کے بڑے مارجن سے جیت لیا ۔
تفصیلات کے مطابق شوری مانیکا کلب نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کرتے ہوئے 259 رنز کا پہاڑ جیسا ہدف مقرر کر دیا۔
ہدف کے تعاقب میں TJCC نے گھبرانے کی بجائے مقابلہ کرنے اور جیتنے کے عزم کے ساتھ اپنی اننگ کا آغاز کیا اور پاور پلے کے 6 اوورز میں محض ایک وکٹ کے عوض 106 رنز بنا کر اس بات کا اعلان کر دیا کہ آج وہ beast موڈ آن کیے ہوئے ہیں اور یہ میچ جیت کر ہی دم لیں گے 😌۔۔
بڑے ہدف کے تعاقب میں بغیر کسی پریشر کے اسد اللہ جونئیر اور مہمان کھلاڑی جناب زاہد حسین نے شان دار کھیل پیش کیا۔
دونوں نے بالترتیب 84 اور 56 رنز کی اننگ کھیلی۔
ان دونوں کے سیٹ کیے گئے مومینٹم کو بہترین انداز مین استعمال کرتے ہوئے the jaguar club کے مایہ ناز اور تجربہ کار بلے باز عبداللہ نے کمال کی اختتامی باری کھیلی اور ناٹ آؤٹ رہتے ہوئے ٹیم کو شوری مانیکا کلب کے خلاف رواں سیزن کی دوسری مسلسل جیت سے ہم کنار کروایا۔ انہوں نے صرف 33 گیندوں کا استعمال کرتے ہوئے 6 فلک شگاف چھکوں اور 3 برق رفتار چوکوں کی مدد سے 66 رنز کی ناقابلِ شکست اننگ کھیلی۔
جیتنے کے بعد team Jaguars نے گروپ فوٹو بنایا۔

03/11/2024

Sensational ❣️❣️❣️

آج ٹھٹھہ خیرو مٹمل الیون اور Jaguar کرکٹ کلب کے درمیان سیزن کا پہلا ٹی ٹونٹی میچ کھیلا گیا ۔ یہ میچ انتہائی دلچسپ اور سن...
03/11/2024

آج ٹھٹھہ خیرو مٹمل الیون اور Jaguar کرکٹ کلب کے درمیان سیزن کا پہلا ٹی ٹونٹی میچ کھیلا گیا ۔
یہ میچ انتہائی دلچسپ اور سنسنی خیز مقابلے کے بعد Jaguar کرکٹ کلب نے آخری گیند پر 4 وکٹوں سے جیت لیا۔
تفصیلات کے مطابق ٹھٹھہ خیرو مٹمل کرکٹ کلب نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا۔ انہیں یہ فیصلہ اس وقت مہنگا پڑا جب پہلے دو اوورز میں محض دس رنز کے مجموعے پر ان کے 2 کھلاڑی پویلین لوٹ گئے۔
اس کے بعد ان کے مڈل آرڈر کے بلے بازوں نے انتہائی زمہ داری کے ساتھ کھیلتے ہوئے ایک لمبی شراکت قائم کی۔ جس میں تصور اور عاقب نے ففٹی پلس رنز سکور کیے۔ یوں ان دونوں کی نصف سنچریوں کی بدولت ٹھٹھہ خیرو مٹمل نے 230 رنز کا فائٹنگ ہدف دے دیا۔
جواب میں jaguars کرکٹ کلب کا آغاز بھی کچھ شان دار نہ رہا جب ان کی پہلی وکٹ پہلے ہی اوور میں 7 کے مجموعی سکور پر گر گئی۔ اوپنر اسد اللہ جونئیر محض تین رنز بنا کر کیچ آؤٹ ہو گئے۔
اس کے بعد TJCC کے ابھرتے ہوئے نوجوان بلے باز سعد اللہ نے تجربہ کار اور منجھے ہوئے بلے باز علی رضوان کے ساتھ مل کر بیک وقت ذمہ دارانہ اور جارحانہ انداز میں اننگ کو آگے بڑھانا شروع کیا۔ اور دونوں نے پاور پلے کے اختتام تک مجموعی سکور 91 تک پہنچا دیا۔
اس کے بعد اپنے پچاس رنز مکمل کرنے کے فوری بعد علی رضوان ایک خوبصورت یارکر کا شکار ہو کر پویلین لوٹ گئے۔ اس کے بعد تیسری وکٹ بھی جلد ہی گر گئی جب عذیر محض ایک سکور ک اضافہ کر کے سٹمپ آؤٹ ہو گئے۔
کریز پر جانے والے اگلے باز عبداللہ تھے جو اس سیزن میں jaguars کرکٹ کلب کی جانب سے اب تک سب سے کامیاب بلے باز رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی شان دار کارکردگی کے تسلسل کو جاری رکھتے ہوئے آج بھی زمہ داری سے بلے بازی کی اور سعد اللہ کے ساتھ مل کر ٹیم کے کھوئے مومینٹم کو دوبارہ بحال کر دیا۔
جب ٹیم کو 8 اوورز میں جیت کے لیے مزید 68 رنز کی ضرورت تھی اس وقت سعد بھی 42 کے انفرادی سکور پر آؤٹ ہو گئے۔ اب عبداللہ کا ساتھ دینے کے لیے کریز پر اگلے بلے باز جارحانہ انداز کے لیے جانے جانے والے غلام محی الدین (GMD) تھے۔ انہوں نے روایتی جارحانہ انداز میں اننگ کو آگے بڑھایا مگر وہ بھی بڑی ہٹ کھیلنے کی کوشش میں لونگ آن باؤنڈری پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔
اس کے بعد عبداللہ کا ساتھ دینے کے لیے Jaguars کے کپتان اسد اللہ اعجاز کریز پر آئے۔ اس وقت ٹیم کو جیت کے لیے 8 کی اوسط کے ساتھ پانچ اوورز میں چالیس رنز کی ضرورت تھی ۔
ابھی تک عبداللہ کے کریز پر موجود ہونے کی وجہ سے میچ بہت آسان اور جیت کا پلڑا jaguars کی طرف جھکا ہوا لگ رہا تھا ۔
مگر میچ اس وقت صورتحال میں داخل ہو گیا جب چار اوورز میں 32 رنز کی ضرورت تھی اور عبداللہ ایک غیر ضروری شاٹ کھیلتے ہوئے اپنی وکٹ گنوا بیٹھے۔ اب کپتان کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹیل اینڈرز کے ساتھ مل کر اپنی ٹیم کو کامیابی کی ریکھا پار کروانی تھی۔
کپتان نے تجربہ کار انتصار کے ساتھ مل کر جیت کی طرف قدم بڑھانا شروع ہی کیا تھا کہ انتصار حسین بھی بہت جلد آؤٹ ہو گئے۔
اب کپتان کا ساتھ دینے کے لیے آئے تھے ناتجربہ کار اور نوجوان کھلاڑی جو آج اپنا پہلا میچ کھیل رہے تھے۔ اس موقع پر میچ جیتنے کی زمہ داری دوگنا ہو کر کپتان کے کندھوں پر آن پڑی تھی۔ چناں چہ اپنے تمام تر تجربے کو استعمال میں لاتے ہوئے انہوں نے کسی بھی لمحے صورتحال کا دباؤ لیے بغیر نہایت سمجھ داری اور حوصلہ مندی کے ساتھ میچ آخری اوور تک پہنچا دیا ۔
اب آخری اوور میں جیت کے لیے 10 رنز درکار تھے۔
پہلی چار گیندوں پر چھ رنز آ چکے تھے اور جیت کے لیے دو گیندوں پر مزید چار رنز ابھی باقی تھے اور سٹرائیک پر کپتان خود موجود تھے۔ اس موقع پر تماشائیوں کا دل حلق میں تھا اور تمام کھلاڑیوں کے اعصاب بھی مکمل دباؤ میں تھے۔ پانچویں بال پر کپتان نے میچ ختم کرنے کے لیے زور دار انداز میں بلا گھمایا مگر وہ گیند کو مکمل طور مس کر گئے اور گیند ڈاٹ ہو کر سیدھی کیپر کے ہاتھوں میں چلی گئی۔
اب اننگ کی آخری گیند باقی تھی اور جیت کے لیے درکار تھے وہی چار رنز ۔ ۔
لیکن اب کی آخری گیند پر کپتان گیند کے ساتھ بلے کا سمپرگ بنانے میں ایسے کامیاب ہوئے کہ وکٹوں میں آتے اوور پچ بال کو سیدھے بلے کے ساتھ کھیلتے ہوئے باولر کے سر کے اوپر سے 6 رنز کے لیے باونڈری سے باہر بھیج دیا۔۔۔۔۔
یوں یہ دلچسپ مقابلہ آخری گیند پر jaguars cricket club کی جیت پر اختتام پذیر ہوا۔ اور ایک شان دار فتح ٹیم jaguars کا مقدر ٹھہری ۔

آج TJCC نے رواں سیزن میں عطارانوالہ الیون کے ساتھ پہلا میچ کھیلا جو کہ TJCC نے 100 سکور کے بڑے مارجن سے بآسانی جیت لیا۔ ...
13/10/2024

آج TJCC نے رواں سیزن میں عطارانوالہ الیون کے ساتھ پہلا میچ کھیلا جو کہ TJCC نے 100 سکور کے بڑے مارجن سے بآسانی جیت لیا۔
تفصیلات کے مطابق میچ کا آعاز صبح ساڑھے دس بجے ہوا۔
میچ میں TJCC نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 266 رنز کا مجموعہ ترتیب دیا اور عطارانوالہ الیون کو جیت کے لیے 267 رنز کا ہدف دیا۔
اپنی ٹیم کو 266 کا پہاڑ جیسا ہدف مقرر کرنے میں TJCC کے ابھرتے ہوئے نوجوان کھلاڑی عبداللہ نے ہمیشہ کی طرح بھر پور مدد دی۔
انہوں نے رواں سیزن میں اپنی شان دار اور فتح کن اننگز کھیلنے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے آج پھر 12, چھکوں اور 12 ہی چوکوں کی مدد سے ناٹ آؤٹ رہتے ہوئے 148 رنز کی فاتحانہ باری کھیلی۔
یہ ان کی اب تک کی کیرئیر بیسٹ اننگ ہونے کے ساتھ ساتھ TJCC کی جانب سے کسی بھی پلئیر کا highest سکور ہے۔
یاد رہے عبداللہ ایک انتہائی دلکش سٹائل کے حامل نوجوان بلے باز ہیں جن کے کھیل میں روز بروز نکھار آتا جا رہا ہے اور وہ ٹیم کے اندر ضرورت کے مطابق قریباً ہر نمبر پر بلے بازی کی صلاحیت کے مالک ہیں ۔
آج بھی انہیں ان کے روایتی ٹاپ آرڈرز کے نمبرز سے ہٹا کر مڈل آرڈر میں بیٹنگ کے لیے بھیجا گیا۔ اور ٹاپ آرڈر کی ناکامی کے بعد انہوں نے آج مڈل آرڈر میں کیریر کی بہترین امنگ کھیل ڈالی۔
عطارانوالہ الیون اپنے سامنے کھڑے پہاڑ جیسے ہدف کے تعاقب میں نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو کر ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔
اور TJCC کے باؤلرز خصوصاً سعد اللہ اور انتصار حسین کی نپی تلی باؤلنگ کے سامنے ان کی وکٹیں وقفے وقفے سے خزاں رسیدہ پتوں کی مانند اڑتی رہیں۔

آج مورخہ 29 ستمبر بروز اتوار بنگلہ مجھیانی الیون اور TJCC کے درمیان گھمسان کا رن پڑا۔ جس میں کانٹے دار اور سنسنی خیز مقا...
29/09/2024

آج مورخہ 29 ستمبر بروز اتوار بنگلہ مجھیانی الیون اور TJCC کے درمیان گھمسان کا رن پڑا۔ جس میں کانٹے دار اور سنسنی خیز مقابلے کے بعد TJCC نے تین رنز سے فتح اپنے نام کر لی۔
تفصیلات کے مطابق میچ کا آغاز صبح دس بج کر بیس منٹ پر دونوں ٹیموں کے درمیان ٹاس سے ہوا جو بنگلہ مجھیانی نے جیت کر TJCC کو پہلے بلے بازی کی دعوت دی۔
بنگلہ مجھیانی کا یہ فیصلہ انہیں اس وقت درست ثابت ہوتا معلوم ہوا جب جارحانہ انداز میں کھیلنے والے بائیں ہاتھ کے افتتاحی بلے باز پہلی ہی گیند کو ہوائی راستے سے مڈ وکٹ کے اوپر سے باؤنڈری کے باہر پہنچانے کی کوشش میں وہاں تعینات فیلڈر کو کیچ تھما بیٹھے۔
یوں TJCC کو پہلی ہی گیند پر علی ظفر کی صورت میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔
اس کے بعد ون ڈاؤن پوزیشن پر کھیلنے اور اوپنر عبداللہ کا ساتھ دینے کے لیے مایہ ناز اور سٹائلش بلے باز علی رضوان کریز پر آئے۔
ان کا کریز پر آنا آج وہ فیکٹر تھا جو بعد میں دونوں ٹیموں میں "نمایاں ترین " فرق ثابت ہوا۔
علی رضوان جو TJCC کے سب سے تجربہ کار، قابل بھروسہ اور انتہائی دلکش انداز کے حامل نوجوان بلے باز ہیں انہوں نے پہلی گیند پر وکٹ گرنے کے پریشر کو خاطر میں لائے بغیر گراؤنڈ کے چاروں جانب شاندار اور جاندار اسٹروکس کھیلے۔
انہوں نے ابتداء سے ہی اپنا beast mode چالو کر کے مخالف باؤلرز پر واضح کر دیا تھا کہ آج انہیں ان کا لاٹھی چارج سہنا پڑے گا۔
دوسری جانب عبداللہ نے بھی رضوان کے جارحانہ انداز سے بھرپور اعتماد اور حوصلہ پکڑتے ہوئے اپنے روایتی نپے تلے انداز میں سکور بورڈ کو مسلسل حرکت میں رکھا۔
دونوں نے مل کر پاور پلے کے اختتام تک مجموعی سکور 85 تک پہنچا دیا۔ جو پہلی وکٹ گرنے کے باوجود ہر اعتبار سے بہترین آغاز تھا۔
پاور پلے کے خاتمے کے باوجود عبداللہ اور علی رضوان نے ہائی گئیرز میں ہی اننگ کو آگے بڑھانے کا سلسلہ جاری رکھا۔
لیکن 9ویں اوور میں عبداللہ 19 گیندوں پر 39 رنز کی خوبصورت اننگ کھیل کر ایک سست رفتار گیند کو ڈیپ مڈ وکٹ باؤنڈری سے باہر بھیجنے کی کوشش میں آسان سا کیچ تھما بیٹھے۔ اس وقت ٹیم کا مجموعی سکور 131 تھا ۔ یوں علی رضوان اور عبداللہ کے درمیان 131 رنز کی شان دار شراکت اختتام کو پہنچی۔
دوسری جانب علی رضوان اپنا لاٹھی چارج جاری رکھے ہوئے تھے اور ان کا ساتھ دینے کے لیے اب کریز پر آئے تھے کپتان اسد اللہ۔ مگر شومئی قسمت وہ زیادہ دیر وکٹ پر نہ ٹھہر سکے اور مومینٹم کو برقرار رکھنے کے لیے اونچا شاٹ کھیلنے کی کوشش میں مد وکٹ پر ہی آسان سا کیچ تھما کر اپنی وکٹ محض تین رنز کے عوض گنوا بیٹھے۔
اس کے بعد اسد اللہ جونئیر پانچویں نمبر پر بیٹنگ کے لیے آئے انہوں نے کچھ دیر سٹرائیک گھماتے ہوئے رضوان کا ساتھ نبھانے کی کوشش کی مگر قسمت نے ان کی بھی یاوری نہ کی اور وہ بھی 8 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ ابھی ٹیم مڈل آرڈر کے دو مضبوط وکٹ کھونے کے نقصان سے نہ سنبھل پائی تھی کہ علی رضوان جو ایک اینڈ سنبھالے ہوئے تھے اور ساتھ میں سکور بورڈ کو بھی مسلسل حرکت میں رکھے ہوئے تھے وہ ایک لو فل ٹاس کو لیگ سائیڈ باؤنڈری سے باہر بھیجنے کی کوشش میں 94 کے انفرادی اور 170 کے مجموعی سکور پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔ یہ موقع دوہرے افسوس کا تھا کہ ایک تو رضوان جو سینچری کے بہترین حق دار تھے وہ محض 6 رنز کے فرق سے یہ سنگِ میل عبور نہ کر سکے اور دوسرا اس نازک موقع پر ان کا آؤٹ ہونا ٹیم کے سوچے گئے ہدف تک پہنچنے میں بڑی رکاوٹ ثابت ہو سکتا تھا۔
انہوں نے اس اننگ میں کُل 36 گیندوں کا استعمال کرتے ہوئے گیند کو 9 بار فضائی اور 7 بار زمینی راستے سے باؤنڈری کے پار پہنچایا۔
اس کے بعد کریز پر چھٹی وکٹ اسد اللہ جونئیر اور عزیر موجود تھے ۔ لیکن یہ دونوں ہی یکے بعد دیگرے اپنی وکٹیں گنوا بیٹھے اور اب لوئر آرڈر میں بیٹنگ کے لیے نوجوان آل راؤنڈرز سعد اللہ اور قاسم علی کریز پر آ چکے تھے ۔
دونوں نے جارحانہ انداز میں کھیلتے ہوئے بالترتیب 25 اور 27 رنز کی مختصر اننگ کھیلیں ان کے بعد آخری وکٹ کی شراکت میں محمد زین نے بھی قیمتی 15 رنز بٹورے۔
اس طرح علی رضوان کی شاندار اننگ اور مجموعی ٹیم ایفرٹ کے ذریعے TJCC نے مقررہ 20 اوورز میں بنگلہ مجھیانی الیون کو جیت کے لیے 244 رنز کا ہدف دیا۔
ہدف کے تعاقب میں بنگلہ مجھیانی کے اوپنرز حافظ ضیاء اور عابد حسین نے بھی جارحانہ انداز اپناتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اس ہدف کا تعاقب کرنے کا ارادہ اور اہلیت دونوں رکھتے ہیں۔
لیکن ضرورت سے زائد جارحانہ انداز اپنانے کی کوشش میں بالترتیب چوتھے اور چھٹے اوور میں دونوں اوپنرز 79 کے مجموعی سکور پر نوجوان فاسٹ باؤلر محمد عزیر کے ہاتھوں آوٹ ہو کر پویلین لوٹ گئے۔
اس کے بعد چوتھی وکٹ کے لیے بنگلہ مجھیانی کے بلے بازوں نے TJCC کے فیلڈرز کی ناقص فیلڈنگ کی بدولت ایک لمبی شراکت قائم کی۔ اس دوران میچ بھنور میں کشتی کی مانند جھولتا رہا۔ کبھی اس کا جھکاؤ بنگلہ مجھیانی کی طرف ہوتا نظر آتا اور کبھی فتح کی دیوی TJCC پر مہربان ہوتی نظر آتی ۔
آخری چار اوورز میں مگر میچ دلچسپ اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گیا۔ جب چار اوورز میں بنگلہ مجھیانی کو جیت کے لیے 53 رنز درکار تھے اور ان کی چھ وکٹیں ابھی باقی تھیں۔
17ویں اوور میں جب سعد اللہ کو 21 رنز لگ گئے تو ایک دفعہ بنگلہ مجھیانی کا پلڑا واضح طور پر بھاری نظر آنے لگا۔
اب آخری تین اوورز میں انہیں جیت کے لیے 32 رنز درکار تھے اور ان کے دو سیٹ بلے باز کریز پر موجود تھے۔
اس وقت اٹھارہویں اوور کے لیے کپتان نے گیند تجربہ کار فاسٹ باؤلر انتصار حسین کے ہاتھ میں تھمائی جنہوں نے پورے میچ میں انتہائی نپی تلی اور معیاری باؤلنگ کی تھی انہوں نے ایک مرتبہ پھر کپتان کے بھروسے کو درست ثابت کرتے ہوئے اہم ترین اوور محض سات رنز پر نکالنے کے ساتھ ساتھ دو وکٹیں بھی لے لیں۔
اب مخالف ٹیم کو جیت کے لیے دو اوورز میں 25 رنز درکار تھے۔
اس موقع پر گیند نوجوان قاسم علی کو تھمائی گئی انہوں نے بھی اب تک میچ میں شان دار باؤلنگ کا مظاہرہ کیا تھا اس اوور میں مگر TJCC کی روایتی خراب فیلڈنگ کی وجہ سے انہیں 15 رنز کھانے پڑے۔ جس میں مس فیلڈنگ کے دو چوکے شامل تھے۔ مگر اس دوران قاسم کے بھائی فیصل نے ہی ایک ناقابل یقین کیچ بھی تھاما جس کی وجہ سے اب بنگلہ مجھیانی کی بیٹنگ مکمل طور پر ڈگمگا چکی تھی۔
یوں میچ آخری اوور تک پہنچ چکا تھا اور اب بنگلہ مجھیانی کو جیت کے لیے دس رنز درکار تھے۔ کافی سوچ بچار اور مشاورت کے بعد کپتان نے ہمیشہ کی طرح نوجوان فاسٹ باؤلر سعد اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے آخری اوور کے لیے گیند ان کے حوالے کی۔
اور انہوں نے کپتان کے انتخاب کو درست ثابت کرتے ہوئے اس اوور میں ایک مس فیلڈنگ کا چوکا لگنے کے باوجود صرف سات رنز دئیے اور ٹیم کو 2 رنز کے مختصر مارجن سے بہت بڑی فتح دلا دی۔
یوں کرکٹ کا ایک شان دار اور سنسنی خیز مقابلہ TJCC کی فتح کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔

اسی طرح کے دلچسپ میچز کا احوال جاننے کے لیے پیج کو لائیک فالو اور شئیر کیجیے۔
کمنٹ باکس میں اپنی آراء سے مستفید کرنا نہ بھولیے۔۔ 🙂


آج مورخہ 20 ستمبر, 2024 کو رواں سیزن کا دوسرا میچ TJCC نے دلیکی الیون کے ساتھ کھیلا۔ تفصیلات کے مطابق میچ صبح نو بجے، مق...
20/09/2024

آج مورخہ 20 ستمبر, 2024 کو رواں سیزن کا دوسرا میچ TJCC نے دلیکی الیون کے ساتھ کھیلا۔
تفصیلات کے مطابق میچ صبح نو بجے، مقررہ وقت سے آدھے گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا اور TJCC کے کپتان نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کرتے ہوئے دلیکی الیون کو بلے بازی کی دعوت دی۔
درے کمزور اور ڈھیلی فیلڈنگ کے باوجود TJCC کے باؤلرز نے بہترین اور منظم انداز میں باؤلنگ کرتے ہوئے مخالف بلے بازوں کو زیادہ دیر تک کریز پر رہنے کا موقع نہ فراہم کرتے ہوئے کپتان کا فیصلہ درست ثابت کیا اور دلیکی الیون کو 222 رنز تک محدود رکھا۔ دلیکی الیون کی جانب سے محمد وسیم اور حافظ عثمان کے سوا کوئی بھی بلے باز جم کر نہ کھیل سکا اور دونوں نے بالترتیب 70+ اور 50+ رنز سکور کیے۔ جس سے ان کی ٹیم ایک مناسب مجموعہ جوڑنے میں کامیاب رہی۔
آج کے میچ کی سب سے خاص بات TJCC کے وائس کپتان اور میڈیم پیسر حماد کی نپی تلی باؤلنگ تھی۔ جہاں باقی گیند باز 10+ رنز کی اوسط سے رنز دے رہے تھے وہاں حماد نے اپنے اسپیل میں محض چھ رنز کی اوسط سے 24 سکور دے کر 3 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔
223 رنز کے ہدف کے تعاقب میں TJCC کے اوپنرز علی ظفر اور اسداللہ جونئیر نے بیک وقت جارحانہ مگر محتاط انداز میں اننگ کا آغاز کیا اور پاور پلے میں 80 رنز بٹور لیے۔ دونوں نے درمیان پہلی وکٹ کی شراکت میں دس اوورز میں 142 رنز بنے اور 142 کے سکور پر علی ظفر کیچ آؤٹ ہو گئے۔ اس کے بعد اسد اللہ جونئیر کا ساتھ دینے کے لیے کپتان اسد کریز پر آئے۔ اس وقت ٹیم کو 10 اوورز میں جیت کے لیے مزید 81 رنز درکار تھے اور ابھی 9 وکٹیں باقی تھیں۔
ان تمام حالات کو مد نظر رکھ کر دونوں نے محتاط انداز میں کھیل کو آگے بڑھانا جاری رکھا۔
جب ٹیم کا مجموعی سکور 185 پر پہنچا تو اسد اللہ جونئیر بھی آؤٹ ہو گئے۔ اس کے بعد کپتان کا ساتھ دینے کے لیے علی حسن کریز پر آئے۔
اب ٹیم کو جیت کے لیے چھ اوورز میں 38 رنز درکار تھے۔ یہاں سے کپتان نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے میچ کو جلدی ختم کرنے کا فیصلہ کیا اور 19 گیندوں پر اپنی برق رفتار ففٹی مکمل کر لی۔ جب اٹھارہویں اوور میں ٹیم کو جیت کے لیے صرف چار رنز درکار تھے تب کپتان کو بھی اپنی ففٹی مکمل کرنے کے لیے چار رنز کی ضرورت تھی ۔ چناں چہ انہوں نے چوکا مار کر نہ صرف جیت کو یقینی بنایا بلکہ اپنی ففٹی بھی مکمل کر لی۔۔
یوں آج سیزن کی دوسری لگاتار جیت TJCC نے ٹیم ایفرٹ کے ذریعے اپنے نام کی۔
یاد رہے کہ اگلا اور تیسرا میچ پرسوں بروز اتوار ٹاہلی گورائیہ کی ٹیم کے ساتھ کھیلا جانا طے ہے۔

کل مورخہ 15 ستمبر 2024 بروز اتوار the Jaguar cricket club نے رواں سال کے ہارڈ بال سیزن کا آغاز کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق ...
16/09/2024

کل مورخہ 15 ستمبر 2024 بروز اتوار the Jaguar cricket club نے رواں سال کے ہارڈ بال سیزن کا آغاز کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق کلب نے اپنا پہلا میچ دوستانہ انداز اور ماحول میں Sucha Soda cricket club کے ساتھ اپنے ہوم گراؤنڈ میں کھیلا۔
اس میچ میں پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے TJCC کی بیٹنگ لائن بری طرح فلاپ ہو گئی اور 18ویں اوور میں 136 کے مجموعی سکور پر پوری ٹیم آوٹ ہو گئی۔
جواب میں سچا سودا کلب نے پاور پلے میں 80 کے قریب رنز بنا ڈالے۔ میچ یکطرفہ ہو جانے کے بعد دونوں ٹیموں کی قیادت کے باہمی مشورے اور رضا مندی کے ساتھ ایک نیا میچ کھیلنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اس بار Sucha Soda cricket club نے پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا اور مقررہ 20 اوورز میں جیت کے لیے JAGUARS کو 213 رنز کا ہدف فراہم کیا۔
ٹیم jaguars اس بار مگر بالکل نئے موڈ میں نظر آئی اور انہوں نے یہ پہاڑ جیسا ہدف اٹھارہویں اوور کی پانچویں گیند پر محض تین وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔
یوں team Jaguar نے ایک بری ہار کے بعد شاندار فتح اپنے نام کر لی۔
دوسرے میچ میں TJCC کی افتتاحی جوڑی جو عبداللہ اور عزیر پر مشتمل تھی نے اپنی شان دار بلے بازی کی بدولت بڑے ہدف کے تعاقب کو یک طرفہ مقابلے میں بدل دیا۔
انہوں نے پہلی وکٹ کی شراکت میں 160+ رنز بنائے۔ جس میں عزیر جو ٹیم کی طرف سے اپنا ڈیبیو میچ کھیل رہے تھے نے انتہائی جارحانہ انداز میں کھیلتے ہوئے محض 43 گیندوں پر شاندار سینچری سکور کی جس میں 11 چوکے اور 6 بلندو بالا چھکے شامل تھے ۔ دوسری طرف عبداللہ نے بھی ان کا خوب ساتھ نبھایا اور روایتی جارحانہ انداز اپناتے ہوئے محض 38 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے شان دار 66 رنز سکور کیے۔
ان کی ساجھے داری نے جیت کے لیے جو مضبوط بنیاد فراہم کی تھی اسے اسد اللہ جونئیر نے شاندار کیمیو کے زریعے مکمل کیا انہوں نے 9 گیندوں کا استعمال کر کے 22 اہم اور قیمتی رنز بنائے۔

اس سے پہلے گیند بازی میں TJCC کے مایہ ناز میڈیم پیسر حماد نے انتہائی economical باؤلنگ کرتے ہوئے تین اوورز میں 24 رنز دے کر 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ ان کے ساتھ باقی پیس اٹیک جس میں سعد اللہ ،انتصار حسین اور قاسم علی شامل تھے نے انتہائی نپی تلی باؤلنگ کی اور کسی بھی وقت مخالف ٹیم کے بلے بازوں کو حاوی نہیں ہونے دیا ۔

یوں کل کا دن ایک برے اور مایوس کن آغاز کے بعد ٹیم کے شاندار کم بیک کے ذریعے خوشگوار انداز میں اختتام پزیر ہوا۔

JAGUARS 🐆 DURING PRACTICE SESSION. کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ جو nets میں پسینہ بہاتے ہیں وہی آخر میں میدان مارتے ہیں 😌❤️
09/09/2024

JAGUARS 🐆 DURING PRACTICE SESSION.

کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ جو nets میں پسینہ بہاتے ہیں وہی آخر میں میدان مارتے ہیں 😌❤️

6 days to Go... Stay Tuned.. A big match is on the way.. You will be updated here..
09/09/2024

6 days to Go...
Stay Tuned..
A big match is on the way..
You will be updated here..

26/02/2024

شوری مانیکا سے سنسنی خیز مقابلے کے بعد شان دار فتح کے بعد جشن۔۔
😍😍😍😍😍😍😍

Address

Pindi Bhattian Hafizabad Punjab
Pindi Bhattian

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Jaguar Cricket Club-TJCC posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category