27/05/2026
ہم وہ مڈل کلاس لوگ ہیں جنہیں پیٹ بھر کر
گوشت صرف بڑی عید کے دنوں میں ملتا ہے
باقی ایام میں تو ہم گوشت ایسے کھاتے ہیں جیسے
ڈاکٹر نے ہمیں منع کیا ہو کہ کھانا نہیں بس چھکنا ہے۔
پورے ہفتے میں ہم دو بار گوشت پکاتے ہیں وہ بھی شام
کو ایک بوٹی مل جاتی ہے صبح پھر شوربے سے کام چلانا پڑتا ہے
مہینے میں 4 بوٹیاں اور سال میں 48 بوٹیاں
گوشت کہ ہم کھاتے ہیں۔
اگر بڑی عید والی گوشت نکال دی جائے تو ہم گوشت کھاتے نہیں بس چکھتے ہیں
اب کچھ لوگ بولینگے کہ ایسا نہیں ہے حالانکہ ایسا ہی
70 فیصد لوگوں کا پاکستان میں یہی حال ہے
بس بتاتے ہوئے شرم آڑے آجاتی ہے کہ نہ جی ہم تو کھاتے پیتے گھرانے سے ہیں۔
بھائی ہمارا تو یہی حال ہے
محمد طلحہ