02/06/2025
حکومت پاکستان سے درخواست
( خدارا عوام کے لیے آسانیاں پیدا کریں نہ کہ مشکلات )
واپڈا کی جانب سے ایک گھر میں صرف ایک بجلی کے میٹر کی پالیسی جاری کردی گئی
واپڈا کی پالیسی کے مطابق ایک گھر میں دوسرا میٹر رکھنے کے لیے گھر میں الگ خارجی راستہ الگ پورشن ہونا ضروری ہے
( کیا 2 مرلے کے گھر میں 2 خارجی گیٹ ممکن ہے ؟ )
ساتھ ہی الگ وائرنگ ، الگ کچن ہونا چاہیے ۔ سمجھ سے باہر ہیں کہ ایسی پالیسیاں کون بناتا ہے
پاکستان میں زیادہ تر ڈھائی 3 مرلے کے گھروں میں 3 ۔۔۔3 فیملیز رہتی ہیں سب کا اپنا الگ کھانا پینا ہوتا ہے اس ڈھائی
یا 3 مرلے کے مکان میں الگ پورشن الگ راستہ اور الگ کیچن کیسے بنا سکتے ہیں
مجبوراً الگ الگ کمروں میں گزر بسر کرنا پڑتی ہے ،
سب ایک ہی بجلی کے میٹر کو کیسے استعمال کرسکتے ہیں ؟
جن گھروں میں ایک میٹر ہے وہاں بجلی کے بلوں کی وجہ سے اکثر لڑائی ہی رہتی ہے کہ ہم بجلی کم استعمال کرتے ہو آپ زیادہ
ان بجلی کے بلوں کی لڑائی ختم کرنے کا واحد حل یہ ہی تھا کہ ایک ہی گھر میں رہنے والی مختلف فیملیز اپنا اپنا بجلی کا میٹر لگواتے جس کی جتنی بساط ہوتی اتنی بجلی استعمال کرتے مگر آپ کے اس فیصلے سے مڈل کلاس گھروں میں لڑائیاں بڑھ جائیں گی
غریبوں کے میٹرز اتارنے کی بجائے بجلی کے یونٹ کی قیمت کم کر کے یونٹ کی قیمت ایک ہی کردی جائے چاہے یونٹ 50 چلیں ، 100 چلیں یا 400 سب کو ایک ہی حساب سے بل دینا پڑے۔