29/08/2026
ناصر حسین نے امام لحق پے تنقید کرتے ہوئے کہا اس مشکل صورتحال میں امام کو بیٹینگ کے لیے آنا چاہیے تھا کیا وہ ناتھن لائن یا کرس ووکس سے زیادہ زخمی تھے کیا ساتھ انہوں ان کا ذکر بھی کیا
ناتھن لائن اور مارک ووڈ دونوں کی کرکٹ کی تاریخ میں ایسی لازوال کہانیاں موجود ہیں جب وہ شدید زخمی ہونے کے باوجود اپنی ٹیم کی خاطر میدان میں بیٹنگ کے لیے اترے۔ آسٹریلیا کے مایہ ناز اسپنر ناتھن لائن ایشز سیریز کے دوسرے ٹیسٹ (لارڈز) کے دوران فیلڈنگ کرتے ہوئے پنڈلی کے شدید پٹھے پھٹنے کی تکلیف کا شکار ہو گئے تھے اور وہ ویساکھیوں کے سہارے اسٹیڈیم پہنچے تھے۔ چوتھے دن جب آسٹریلیا کی نو وکٹیں گر چکی تھیں اور ٹیم کو ہر ایک رن کی ضرورت تھی، تو انہوں نے تمام طبی مشوروں کے خلاف جا کر خود کو بیٹنگ کے لیے پیش کیا۔ جب وہ لارڈز کے پویلین کی سیڑھیوں سے لنگڑاتے ہوئے باہر نکلے تو انگلش بولرز نے ان پر شارٹ پچ باؤنسرز کی بارش کر دی، مگر وہ ایک پاؤں پر کھڑے ہو کر اور درد برداشت کرتے ہوئے کھیلے۔ انہوں نے آخری وکٹ کے لیے قیمتی پندرہ رنز جوڑے اور ان کی اس قربانی نے ٹیم کو فتح دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ دوسری طرف، انگلینڈ کے طوفانی فاسٹ بولر کرس ووکس بھی اپنی تیز رفتار بولنگ اور سخت جان مزاج کے لیے جانے جاتے ہیں، جو مختلف میچوں میں پسلیوں کی تکلیف یا دیگر انجریز کے باوجود ٹیم کی بیٹنگ لائن کو سہارا دینے کے لیے گراؤنڈ پر اترے۔