From cricket to politics

From cricket to politics only for cricket lover

خواتین کے عالمی دن کے موقع پر قوم کے عظیم لیڈر عمران خان کو جنم دینے والی ماں" شوکت خانم" کو قوم کا سلام۔
08/03/2026

خواتین کے عالمی دن کے موقع پر قوم کے عظیم لیڈر عمران خان کو جنم دینے والی ماں" شوکت خانم" کو قوم کا سلام۔

عارضہ قلب میں مبتلا ‏پاکستان تحریکِ انصاف کے سینیئر رہنما 70 سالہ میاں محمود الرشید کے 9 مئی کے بوگس کیسز میں ناحق قید ک...
02/02/2026

عارضہ قلب میں مبتلا ‏پاکستان تحریکِ انصاف کے سینیئر رہنما 70 سالہ میاں محمود الرشید کے 9 مئی کے بوگس کیسز میں ناحق قید کے 1000 دن مکمل ہو گئے، پریس کانفرنس کروانے کیلئے دوران حراست انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا، میاں محمود الرشید کو متعدد دفعہ دل کی شدید تکلیف ہوئی لیکن پراپر علاج نہ کروایا گیا۔
جون 2024 میں دورانِ قید ان کا اپینڈکس پھٹ گیا، جس کی وجہ سے ان کی ہنگامی سرجری کرنی پڑی، تشویشناک بات یہ تھی کہ آپریشن کے فوراً بعد جب زخم ابھی تازہ تھے، انہیں واپس جیل کی تپتی سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا گیا، جو کہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی تھی۔
میاں محمود الرشید کو حال ہی میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں نے مختلف مقدمات میں 10 سے 33 سال تک کی سزائیں سنائی ہیں تمام عدالتی فیصلے رات کے اندھیرے میں سنائے گئے دفاع کا پورا موقع تک نہیں دیا گیا۔
ان کا جرم کوئی مالی کرپشن یا غداری نہیں، بلکہ صرف یہ ہے کہ انہوں نے اپنے لیڈر کا ساتھ چھوڑنے اور "مصلحت" کا شکار ہوکر پریس کانفرنس سے انکار کیا تھا۔ ان کی قید دراصل ان تمام لوگوں کے لیے ایک پیغام ہے جو سمجھتے ہیں کہ جبر کے ذریعے نظریات کو بدلا جا سکتا ہے۔

🎉 Facebook recognized me as a top rising creator this week!
02/02/2026

🎉 Facebook recognized me as a top rising creator this week!

01/02/2026
کہا جاتا ہے وہ بہت سادہ آرمی چیف تھے۔نہ پروٹوکول پسند، نہ سڑکیں بند کرواتے، نہ نمود و نمائش۔سادہ وردی، کم گوئی، وقت کے پ...
25/01/2026

کہا جاتا ہے وہ بہت سادہ آرمی چیف تھے۔
نہ پروٹوکول پسند، نہ سڑکیں بند کرواتے، نہ نمود و نمائش۔
سادہ وردی، کم گوئی، وقت کے پابند—واہ کیا کردار تھا! 👏

بس سادگی کا یہ عالم تھا کہ تنخواہ کبھی خرچ ہی نہیں کی۔
ادھر اُدھر سے معمولی سی 25–30 ارب کی کرپشن کی
اور آسٹریلیا میں ایک الگ تھلگ جزیرہ خرید لیا—
کیونکہ سادگی بھی عالمی معیار مانگتی ہے 🌍

موصوف اتنے اصولی تھے کہ پاکستان میں رہنا گوارا نہ کیا،
آخر اصول تھا: جہاں نوکری کرو، وہاں رہا نہیں جاتا۔

اسامہ بن لادن کی قیمت بھی وصول کی،
نوکری کی، فائدہ اٹھایا،کچھ کا کہنا تھا کہ موصوف نے حفظ بھی کر رکھا تھا لیکن عاجزی اتنی تھی کہ یہ بتائے بنا ہے باقی جرنیلوں کی طرح بیرون ملک قیام پذیر ہو گئے ۔

ایسے نایاب “ہیروں” کی قدر کیا کریں—
یہ عوام کی جیب سے نکل کر ہی چمکتے ہیں

منقول

24/01/2026

🕌*“کربلا بمقابلہ پیٹرو‑ڈالر”*☠️
👈اسلام کی دو راہیں — حسینی اور درباری۔
اسلام ایک ہے… لیکن کربلا کے بعد سے آج تک، دو اسلام چل رہے ہیں۔
ایک کربلا کا اسلام اور دوسرا درباری اسلام۔
کربلا کا اسلام کہتا ہے:
👉 “ظلم کے سامنے کھڑے ہو جاؤ، حق کہو، ظالم کی ہاں میں ہاں مت ملاؤ”
درباری اسلام کہتا ہے:
👉 “حالات سمجھو… چپ رہو… سمجھوتہ کرو” طاقتور حاکموں کی ہاں میں ہاں ملاؤ اور خاموشی سے زندگی گزارو۔
ایک نے سر کٹایا، سر نہیں جھکایا۔
دوسرے نے سر سلامت رکھا اور روز سر جھکایا۔
اور آج ایک ہی سوال ہے— تم کس اسلام کے ساتھ کھڑے ہو؟
🩸 کربلا — خون سے لکھا گیا اسلام۔
کربلا کوئی میدان نہیں تھا— وہ ایک فیصلہ تھا جہاں 72 لوگ پوری سلطنت کے سامنے کھڑے تھے۔ جن کے ساتھ بھوک تھی، پیاس تھی، بچے تھے، عورتیں تھیں لیکن ضمیر کا سودا نہیں تھا اور اسی میدانِ کربلا سے امام حسین نے کہا—
“مجھ جیسا یزید جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا۔”
یہ حسینی اسلام تھا— جو طاقت نہیں حق دیکھتا ہے۔ یہ اسلام تھا— جو جیت نہیں سچ دیکھتا ہے۔
💰 پیٹرو‑ڈالر پر — خریدا ہوا درباری اسلام۔
انگریزوں کے تلوے چاٹے، اصلی اسلام چھوڑ کر درباری اسلام لے لیے۔ ان کے اشارے پر قتل و غارت گری کی چھوٹی چھوٹی حکومتیں ملیں۔ انگریزوں نے تیل نکالا، ڈالر آیا، محل بنے، عیش و عشرت ہونے لگی اور اصلی اسلام کو مٹانے کی سازش شروع ہوئی۔
💵 پیٹرو‑ڈالر سے دنیا بھر میں مسجدیں بنوائی گئیں۔
📦 قرآن فری بانٹے گئے۔
🎓 مدرسے کھڑے کیے گئے۔
🎤 ملا تیار کیے گئے۔
ایک خوبصورت اور دھوکہ دینے والا نعرہ سکھایا—
👉 “صرف اللہ کے آگے جھکو، کسی اور کے آگے جھکنا شرک ہے”
اور حقیقت؟ یہ ہے کہ یہی لوگ خدا کے آگے کبھی نہیں جھکے، برطانیہ اور امریکہ کے آگے جھک گئے اور اسرائیل کے بنتے ہی اسرائیل کے آگے جھک گئے، یورپ کے آگے جھک گئے اور اب تو پوری طرح لیٹے ہوئے ہیں۔ اور ایسے ہی مسلم حکمرانوں کے پیچھے پیچھے پیٹرو ڈالرز پر پلنے والے امامِ کعبہ سے لے کر دن رات شرک شرک کرنے والا ایک ایک ملا منہ کے بل لیٹا ہوا ہے اور بہت پریشان ہے کہ کہیں پیٹرو ڈالر نہ رک جائے۔ حالاتِ حاضرہ پر جب ان سے سوال کیجئے کہ یہ عرب ممالک فلسطین کی حمایت میں امریکہ اسرائیل کے خلاف فوج کیوں نہیں بھیجتے، کیوں قرآن پر عمل نہیں کرتے، قرآن بانٹتے ہیں مگر مظلوم فلسطینیوں کی مدد نہیں کرتے، اور کیوں قرآن کے منع کرنے کے باوجود مسلمانوں پر ظلم کرنے والے یہود و نصاریٰ کو سرپرست بنائے ہوئے ہیں، تو شرک شرک رٹنے والا ملا کہتا ہے: وہ لوگ ہم سے بہتر سمجھتے ہیں، امریکہ اسرائیل سے لڑنا خودکشی ہے، دعا کیجئے دعا، اللہ کرم فرمائیں گے۔
🧨 پیٹرو‑ڈالر والے درباری اسلام کا اصلی ایجنڈا
یہ اسلام ظالم سے لڑنا نہیں، مظلوم کو صبر کرنا سکھاتا ہے۔
درباری اسلام کہتا ہے—
❌ فلسطین مٹا دیا جائے مت بولو۔
❌ قبلۂ اوّل گرا دیا جائے مت بولو۔
❌ اسرائیل کا نام مت لو۔
❌ امریکہ پر سوال مت اٹھاؤ۔
❌ صرف زبان سے مذمت کرو اور دل سے امریکہ اسرائیل کے ساتھ رہو۔
یہ درباری اسلام یزید کو حکمران اور حسین کو فسادی بتاتا ہے۔
🧨 پیٹرو‑ڈالر والے درباری اسلام کو آج بھی کربلا سے ڈر لگتا ہے؟
کیونکہ کربلا پوچھتا ہے—
👉 “ظالم امریکہ اسرائیل کے ساتھ کیوں ہو؟”
👉 “چپ کیوں ہو؟”
👉 “سچ بولنے سے ڈر کیوں؟”
کربلا کرسی نہیں بچاتا، کربلا ضمیر جگاتا ہے۔
اسی لیے پیٹرو‑ڈالر والا درباری اسلام— سب سے زیادہ کربلا سے ڈرتا ہے۔ کربلا کو سسٹم نہیں بننے دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ درباری اسلام والے کربلا کے ذکر کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ ان کی سب سے بڑی دشمنی کربلا کے ذکر سے ہے۔
🧨 خامَنَہ آئی — کربلا کا زندہ چہرہ
یہیں سے ❌ خامَنَہ آئی اور ایران کا انقلاب سمجھ میں آتا ہے۔
❌ خامَنَہ آئی پیٹرو‑ڈالر سے نہیں بنے، وہ کربلا سے بنے ہیں، وہ کربلا کے ذکر کا صدقہ ہیں۔
وہ کہتے ہیں—
👉 “اگر امریکہ اور اسرائیل ظالم ہیں تو اُسکی مخالفت عبادت ہے۔”
👉 “اگر امریکہ ظلم کرتا ہے تو اس سے ڈرنا گناہ ہے۔”
اسی لیے وہ نہیں جھکتے، کیونکہ حسینی اسلام والے ہیں، درباری نہیں ہیں۔
ان کے سامنے صرف ایک راستہ ہے اور وہ حق اور شہادت کا راستہ ہے۔
💣 اصلی ٹکراؤ
آج جنگ ایران اور امریکہ کی نہیں ہے— آج جنگ ہے—
🩸 کربلا بمقابلہ پیٹرو‑ڈالر
🕌 ضمیر بمقابلہ وائٹ ہاؤس اور محل۔
ایک طرف ڈالر سے چلنے والا درباری اسلام، دوسری طرف خون دے کر حاصل کیا گیا اسلام۔
⚡ نتیجہ: آخری فیصلہ
جو اسلام ظالم سے سوال نہیں کرتا وہ اسلام نہیں— درباری مذہب ہے۔
اور جو اسلام ظلم کے سامنے کھڑا ہوتا ہے— وہی کربلا والا اصلی حسینی اسلام ہے، وہی اصلی اسلام ہے۔
اب فیصلہ تمہارا ہے—
👉 کربلا؟ یا 👉 پیٹرو‑ڈالر؟
حسینی اسلام یا پیٹرو ڈالر والا درباری اسلام!
یاد رکھیے، یہ دونوں کبھی ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔

✍️*شوکت بھارتی*

ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺟﻨﮓِ ﻋﻈﯿﻢ ﮐﮯ ﺍﺧﺘﺘﺎﻡ ﭘﺮ ﺟﺮﻣﻦ ﻓﻮﺝ ﮐﻮ ﻓﺮﺍﻧﺲ ﺧﺎﻟﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﻣﻼ ﺗﻮ ﺟﺮﻣﻦ ﮐﻤﺎﻧﮉﻧﭧ ﻧﮯ ﺍﻓﺴﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺟﻤﻊ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ :" ﮨﻢ ﻧ...
18/01/2026

ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺟﻨﮓِ ﻋﻈﯿﻢ ﮐﮯ ﺍﺧﺘﺘﺎﻡ ﭘﺮ ﺟﺮﻣﻦ ﻓﻮﺝ ﮐﻮ ﻓﺮﺍﻧﺲ ﺧﺎﻟﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﻣﻼ ﺗﻮ ﺟﺮﻣﻦ ﮐﻤﺎﻧﮉﻧﭧ ﻧﮯ ﺍﻓﺴﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺟﻤﻊ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ :
" ﮨﻢ ﻧﺎﺯﯼ ﺟﻨﮓ ﮨﺎﺭ ﭼُﮑﮯ ﮨﯿﮟ، ﻓﺮﺍﻧﺲ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔
ﯾﮧ ﺳﭻ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺳﭻ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺷﺎﯾﺪ ﺍﮔﻠﮯ 50 ﺑﺮﺳﻮﮞ ﺗﮏ ﮨﻢ ﮐﻮ ﺩﻭﺑﺎﺭﺍ ﻓﺮﺍﻧﺲ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻠﮯ ﮐﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﻣﻠﮯ۔

ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﺣﮑﻢ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭘﯿﺮﺱ ﮐﮯ ﻋﺠﺎﺋﺐ ﮔﮭﺮﻭﮞ، ﻧﻮﺍﺩﺭﺍﺕ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﮮ ﻧﻤﺎﺋﺶ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺛﻘﺎﻓﺖ ﺳﮯ ﻣﺎﻻ ﻣﺎﻝ ﮨﻨﺮ ﮐﺪﻭﮞ ﺳﮯ ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﺳﻤﯿﭧ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﻮ ﺳﻤﯿﭧ ﻟﻮ۔
ﺟﺐ ﻓﺮﺍﻧﺴﯿﺴﯽ ﺍﺱ ﺷﮩﺮ ﮐﺎ ﺍﻗﺘﺪﺍﺭ ﺳﻨﺒﮭﺎﻟﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺟﻠﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭘﯿﺮﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﮦ ﮐﭽﮫ ﻧﮧ ﻣﻠﮯ ... "
ﺟﻨﺮﻝ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺗﮭﺎ ﺳﺐ ﺍﻓﺴﺮ ﻋﺠﺎﺋﺐ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﭨﻮﭦ ﭘﮍﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﺭﺑﻮﮞ ﮈﺍﻟﺮﺯ ﮐﮯ ﻧﻮﺍﺩﺭﺍﺕ ﺍُﭨﮭﺎ ﻻﺋﮯ۔ ﺍُﻥ ﻣﯿﮟ ﮈﻭﺋﭽﯽ ﮐﯽ ﻣﻮﻧﺎ ﻟﯿﺰﺍ ﺗﮭﯽ، ﻭﯾﻦ ﮔﻮﮦ ﮐﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮﯾﮟ، ﻭﯾﻨﺲ ﮈﯼ ﻣﻠﻮ ﮐﺎ ﻣﺮﻣﺮﯾﮟ ﻣﺠﺴﻤﮧ ﻏﺮﺽ ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﻧﮧ ﭼﮭﻮﮌﺍ۔
ﺟﺐ ﻋﺠﺎﺋﺐ ﮔﮭﺮ ﺧﺎﻟﯽ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﺟﻨﺮﻝ ﻧﮯ ﺳﺐ ﻧﻮﺍﺩﺭﺍﺕ ﺍﯾﮏ ﭨﺮﯾﻦ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﭨﺮﯾﻦ ﮐﻮ ﺟﺮﻣﻨﯽ ﻟﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ۔ ﭨﺮﯾﮟ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﺗﻮ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺷﮩﺮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻠﺘﮯ ﮨﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﻧﺠﻦ ﺧﺮﺍﺏ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔

ﺍﻧﺠﯿﻨﺌﺮز ﺁﺋﮯ ﺍﻧﺠﻦ ﭨﮭﯿﮏ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭨﺮﯾﻦ ﭘﮭﺮ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﻟﯿﮑﻦ 10 ﮐﻠﻮﻣﯿﭩﺮ ﻃﮯ ﮐﺮﻧﮯ کے ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﮐﮯ وھیل ﺟﺎﻡ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ۔ ﺍﻧﺠﯿﻨﺌﺮز ﺁﺋﮯ،
ﻣﺴﺌﻠﮧ ﭨﮭﯿﮏ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭨﺮﯾﻦ ﭘﮭﺮ ﺭﻭﺍﻧﮧ
ﮨﻮ ﮔﺌﯽ، ﻟﯿﮑﻦ ﭼﻨﺪ ﮐﻠﻮﻣﯿﭩﺮ ﺑﻌﺪ ﺑﻮﺍﺋﻠﺮ ﭘﮭﭧ ﮔﯿﺎ، ﺍﻧﺠﺌﻨﯿﺮز ﺁﺋﮯ ﺑﻮﺍﺋﻠﺮ ﻣﺮﻣﺖ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﭨﺮﯾﻦ ﭘﮭﺮ ﭼﻞ ﭘﮍﯼ۔
ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﻭﺭ ﮨﯽ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﭘﺮﯾﺸﺮ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﭘﺴﭩﻦ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﮮ ﮔﺌﮯ۔
ﺍﻧﺠﯿﻨﺌﺮز ﺁﺋﮯ ﭘﺴﭩﻦ ﻣﺮﻣﺖ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﭨﺮﯾﻦ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ ...
ﻣﯿﺮﮮ ﭘﯿﺎﺭﻭ ! ﭨﺮﯾﻦ ﺧﺮﺍﺏ ﮨﻮﺗﯽ ﺭﮨﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺮﻣﻦ ﺍﻧﺠﯿﻨﺌﺮز ﺍﺳﮯ ﭨﮭﯿﮏ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ۔
ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﻓﺮﺍﻧﺲ ﮐﺎ ﺍﻗﺘﺪﺍﺭ ﻓﺮﺍﻧﺴﯿﺴﯿﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﻨﺒﮭﺎﻝ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭨﺮﯾﻦ ﺍﺑﮭﯽ ﻓﺮﺍﻧﺲ ﮐﯽ ﺣﺪود ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺭﮨﯽ۔ ﭨﺮﯾﻦ ﮐﮯ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﮐﻮ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﻣﻼ ﮐﮧ :
ﻣﻮﺳﯿﻮ _ ﺑﮩﺖ _ ﺷﮑﺮﯾﮧ _ ﻟﯿﮑﻦ _ ﺍﺏ _ ﭨﺮﯾﻦ _ ﺝرﻣﻨﯽ _ ﻧﮩﯿﮟ _ ﻭﺍﭘﺲ _
ﭘﯿﺮﺱ _ ﺁﺋﮯ _ ﮔﯽ ...
ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﻧﮯ ﻣﮑﮯ ﮨﻮﺍ ﻣﯿﮟ ﻟﮩﺮﺍﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﭘﺲ ﭘﯿﺮﺱ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔
ﺟﺐ ﻭﮦ ﭘﯿﺮﺱ ﭘﮩﯿﻨﭽﺎ ﺗﻮ ﻓﺮﺍﻧﺲ ﮐﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﻟﯿﮉﺭﺷﭗ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺳﺘﻘﺒﺎﻝ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﮭﮍﯼ ﺗﮭﯽ، ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﭘﺮ ﮔُﻞ ﭘﺎﺷﯽ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﺋﯿﮏ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ، ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﺑﻮﻻ :
" ﺟﺮﻣﻦ ﮔﺪﮬﻮﮞ ﻧﮯ ﻧﻮﺍﺩﺭﺍﺕ ﺗﻮ ﭨﺮﯾﻦ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﺮ ﺩﯾﺌﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﺌﮯ ﮐﮧ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﻓﺮﺍﻧﺴﯿﺴﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﻧﮧ ﭼﺎﮨﮯ ﺗﻮ ﮔﺎﮌﯼ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﻨﺰﻝ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﮐﺮﺗﯽ ... "
ﻋﺰﯾﺰ ﺩﻭﺳﺘﻮ ! ﻋﺮﺻﮯ ﺑﻌﺪ ﮨﺎﻟﯽ ﻭﮈ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﭘﺮ ﺩﯼ ﭨﺮﯾﻦ ﻓﻠﻢ ﺑﻨﺎﺋﯽ ...
ﻗﺎﺭﺋﯿﻦ ﮐﺮﺍﻡ ﺍﻟﻤﺨﺘﺼﺮ ﻭ ﻣﻘﺼﻮﺩ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻠﮏ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﭘﺮ ﻧﻈﺮ ﮈﺍﻟﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺩﯼ _ ﭨﺮﯾﻦ ﮐﯽ ﺳﭩﻮﺭﯼ ﺳﮯ ﮐﻢ ﻧﮩﯿﮟ،
ﮐﺒﮭﯽ ﺍﻧﺠﻦ ﻓﯿﻞ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﭘﮩﯿﮧ ﺟﺎﻡ، ﮐﺒﮭﯽ ﭘﺴﭩﻦ ﭘﮭﭧ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﻮﺍﺋﻠﺮ۔ ﭘﮩﻠﮯ ﺩﻥ ﺳﮯ ﺍﺏ ﺗﮏ ﺑﺤﺮﺍﻥ ﮨﯽ ﺑﺤﺮﺍﻥ ہیں۔
ﺍﺱ ﭨﺮﯾﻦ ﮐﺎ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﺍﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻣﻨﺰﻝ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ۔ ﮨﻢ ﺳﺐ ﮐﻮ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮈﺭﺍﺋﯿﻮﺭ ﮐﻮ ﮈﻫﻮﻧﮉﻧﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﮯ ﻟﺌﮯ ﭘﺸﺘﻮﻥ، ﺑﻠﻮﭼﯽ، ﺳﻨﺪﻫﯽ، ﭘﻨﺠﺎﺑﯽ، ﻣﺴﻠﻢ ﻟﯿﮕﯽ، ﺗﺤﺮﯾﮏ ﺍﻧﺼﺎﻓﯽ، ﺑﮭﭩﻮﺋﯽ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﺎ ﺭﻧﮓ ﺍﺗﺎﺭ ﮐﺮ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﺑﻨﻨﺎ ﮨﻮﮔﺎ۔
ﺧﺪﺍﺭﺍ ! ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﮧ ﺑﮩﺖ ﺩﯾﺮ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ۔
ﺍﻟﻠﮧ ﺍﺱ ﺍﺭﺽ ﭘﺎﮎ ﮐﻮ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺁﺑﺎﺩ ﻭ ﺧﻮﺷﺤﺎﻝ ﺭﮐﮭﮯ..

فالوؤ اور شیئر کیجئے 👍۔

ماتم اپنے سینے پر کروں یا ریاست کے
17/01/2026

ماتم اپنے سینے پر کروں یا ریاست کے

09/01/2026

آج مجھے اپنے اشرف المخلوقات ہونے پر شرمندگی محسوس ہوئی جب میں نے ابنِ خلدون کی یہ بات پڑھی کہ

"پرندے کا دماغ صرف 2 گرام ہے اور وہ آزادی کی تلاش میں ہے۔ کچھ لوگوں کے سر کا وزن 5 کلو ہے اور وہ ذلت اور غلامی کی تلاش میں ہیں..!! "

ابنِ خلدون تاریخ کے بڑے دماغوں میں سے ایک دماغ تھا اس نے ایک اور عجیب بات بھی کہی کہ

"اگر مجھے ظالم حکمرانوں اور غلاموں میں سے کسی ایک کو مٹانے کا اختیار ملے تو میں غلاموں کو مٹا دوں گا کیونکہ یہ غلام ہی ہیں جنہوں نے ظالم حکمران پیدا کیئے ہیں.
سوچ کی غلامی ملک و قوم کو تباہ کر دیتی.!
(مستعار)

08/01/2026

جنگِ نہروان:

9 صفر 38 ہجری (17 جولائی 658ء) کی ایک سحر، نہروان کے میدان میں ہوا کچھ یوں:

ہوا میں تلخی اور خاموشی کے ساتھ ایک عجیب دھند چھائی ہوئی تھی۔ ایک طرف حضرت علی بن ابی طالبؓ کا لشکرِ حق ڈٹا تھا، تو دوسری طرف وہی لوگ جو کل تک اسی لشکر کا حصہ تھے—خوارج—اپنے ہی بھائیوں کے سامنے صف آرا تھے۔ یہ جنگ نہیں، ایک المناک انجام تھا جو اپنے ہی ہاتھوں لکھا جا رہا تھا۔

سب کچھ جنگِ صفین کے بعد شروع ہوا۔ جب معاملہ ثالثی کے لیے گیا تو حضرت علیؓ کے لشکر میں سے ایک گروہ آگ بگولا ہو گیا۔ ان کا نعرہ تھا: "حکم صرف اللہ کا ہے!"۔ ان کے نزدیک دو انسانوں کو فیصلہ کا اختیار دینا کفر تھا۔ وہ چار ہزار کی تعداد میں حروراء نامی جگہ پر جمع ہو گئے اور اعلان کر دیا کہ اب علیؓ کی خلافت بھی ناجائز ہے۔ انہوں نے اپنا ایک الگ "خلیفہ" بھی بنا لیا—۔

لیکن محض عقیدے کا اعلان ہی کافی نہیں تھا۔ انہوں نے عام بستیوں میں دہشت پھیلانی شروع کر دی۔ جو ان کے عقیدے سے متفق نہیں تھا، اسے کافر قرار دے کر قتل کر دیا جاتا۔ عبداللہ بن خبابؓ نامی ایک صحابی اور ان کی حاملہ بیوی کا قتل اس انتہا کی آخری حد تھی۔ جب قاتل حضرت علیؓ کے پاس گرفتاری کے لیے لائے گئے تو خوارج نے زور دے کر کہا کہ انہیں چھوڑ دو۔ اب صرف ایک ہی راستہ بچا تھا۔

حضرت علیؓ نے فوج تیار کی، لیکن ان کا دل جنگ کے لیے نہیں تھا۔ وہ جانتے تھے کہ یہ انہی کے بھائی ہیں۔ انہوں نے میدانِ نہروان پہنچ کر خوارج کے پاس ایک قاصد بھیجا: "صرف قاتلوں کو حوالے کر دو، باقی سب معاف۔"

خوارج نے جواب دیا: "ہم سب قاتل ہیں، ہم سب نے فیصلہ کیا تھا۔" بات بنتی نظر نہیں آ رہی تھی۔

تب حضرت علیؓ نے اعلان کروایا: "جو شخص ہمارا لشکر چھوڑ کر چلا جائے، یا خوارج کے لشکر سے الگ ہو کر ہمارے پاس آ جائے، اس کے لیے امان ہے۔" یہ اعلان ایک کاری ضرب ثابت ہوا۔ خوارج کے لشکر میں تفرقہ پڑ گیا۔ 1,200 سے 1,500 کے قریب لوگ، جو ممکنہ طور پر صرف جذبات میں آ کر شامل ہوئے تھے، راتوں رات میدان چھوڑ کر چلے گئے۔ باقی رہ گئے محض 2,800 افراد، جو اپنی بات پر ڈٹے رہنے کو تیار تھے۔

صبح ہوئی۔ حضرت علیؓ نے اپنی فوج کو حکم دیا: "تم حملہ نہ کرنا، جب تک وہ حملہ نہ کریں۔" دونوں فوجیں گھنٹوں آمنے سامنے کھڑی رہیں۔ اچانک، خوارج کی صف سے ایک شخص باہر نکلا اور چیخا: "اے علیؓ! ہمارے درمیان خدا کی کتاب حاکم ہے، اسے پکار!"

حضرت علیؓ نے جواب دیا: "میں اس سے زیادہ کتابِ خدا کا طالب ہوں۔"

یہ جواب سنتے ہی خوارج کا ایک گروہ بپھر گیا۔ انہوں نے پہلا تیر چلایا۔ پھر دوسرا۔ پھر ایک ہی جوش میں، تمام 2,800 خوارج نے اپنے سے کئی گنا بڑے لشکر پر یکبارگی حملہ کر دیا۔

یہ جنگ نہیں تھی، یہ ایک قتلِ عام تھا۔ حضرت علیؓ کے تربیت یافتہ لشکر نے انہیں گھیرے میں لے لیا۔ تلواریں چلنے لگیں۔ آوازیں گونجنے لگیں۔ تھوڑی ہی دیر میں سب ختم ہو گیا۔

شام ڈھلتے ڈھلتے، نہروان کا میدان ایک خوفناک خاموشی میں ڈوب گیا۔ زمین 2,400 سے زائد خوارج کی لاشوں سے پٹی پڑی تھی۔ حضرت علیؓ کے لشکر سے محض سات سے تیرہ افراد شہید ہوئے تھے۔

حضرت علیؓ نے زخمیوں کے علاج کا حکم دیا۔ لاشوں کو ان کے خاندانوں کے حوالے کرنے کا بندوبست کیا گیا۔ ان کے چہرے پر فتح کی خوشی نہیں، بلکہ ایک گہرا غم تھا۔ وہ زمین پر بیٹھ گئے اور فرمایا: "افسوس! کاش میں کل ہی مر گیا ہوتا۔"

لیکن اس خونریزی سے صرف نو سے بارہ افراد فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔ انہی فراریوں میں ایک نام عبدالرحمن بن ملجم المرادی کا تھا۔ یہ وہی شخص تھا جس نے تقریباً دو سال بعد، 19 رمضان 40 ہجری کو، مسجد کوفہ میں نماز کی حالت میں حضرت علیؓ کے سر پر زہر میں بجھی ہوئی تلوار سے وہ وار کیا، جو آپ کی شہادت کا سبب بنا۔ نہروان کا خونی سایہ، آخر کار اپنے مرکز تک پہنچ ہی گیا۔

نہروان کا میدان خالی ہو گیا، لیکن یہ اختلاف ختم نہ ہوا۔ خوارج کا نظریہ ایک آگ کی طرح پھیلتا رہا۔ وہ ایک باقاعدہ فرقہ بن گئے اور آنے والی صدیوں میں کئی بار بغاوتیں کرتے رہے۔ انہوں نے یہ خطرناک عقیدہ دیا کہ "جو ہمارا عقیدہ نہیں رکھتا، وہ کافر ہے اور اس کا قتل جائز ہے۔"

جنگ نہروان محض ایک لڑائی نہیں تھی۔ یہ وہ المناک موڑ تھا جہاں سیاسی اختلاف، مذہبی تفسیر اور تلوار کا راستہ ایک دوسرے سے ٹکرا گئے۔ اس دن مسلمانوں نے پہلی بار بڑی تعداد میں اپنے ہی بھائیوں کو میدانِ جنگ میں دیکھا۔ یہ وہ زخم تھا جو کبھی پورے طور پر نہیں بھرا۔ آج بھی جب اسلامی تاریخ میں فرقہ واریت اور انتہا پسندی کی بات ہوتی ہے، تو نہروان کا یہ واقعہ ایک گہرا اور پر درد سبق بن کر سامنے آتا ہے۔

Address

Mana Ahmadani

Telephone

+923428258107

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when From cricket to politics posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to From cricket to politics:

Share