Charat Classical Ground Mura Banda

Charat Classical Ground Mura Banda Mura Stars

بائیزوں حرکی دلازاک کرکٹ گراونڈ باندی دا جعمی پہ ورز یوو غٹ فائینل میچ دے مسکان زلمی او دا حغہ ٹول ملگروں تہ دعوت دے راش...
20/05/2026

بائیزوں حرکی دلازاک کرکٹ گراونڈ باندی دا جعمی پہ ورز یوو غٹ فائینل میچ دے مسکان زلمی او دا حغہ ٹول ملگروں تہ دعوت دے راشئ فائینل میچ انجوائے کئ او مسکان زلمی سپورٹ وکئ ۔

  legends ( وفات سن 2002مرحوم صبا خان)مرحوم صبا خان شہباز خان استاد کے بڑے اور شیر خان و غاور خان کے چھوٹے بھائی تھے، مو...
23/04/2026

legends
( وفات سن 2002مرحوم صبا خان)

مرحوم صبا خان شہباز خان استاد کے بڑے اور شیر خان و غاور خان کے چھوٹے بھائی تھے، مورہ بانڈہ کا ایک ایسا نام جسے ہمیشہ عزت اور محبت سے یاد رکھا جائے گا۔ وہ نہ صرف ایک بہترین انسان تھے بلکہ اپنی خوش اخلاقی، ملنساری اور نرم گفتاری کی وجہ سے ہر دل عزیز تھے۔ ان کی شخصیت میں خلوص اور سادگی نمایاں تھی، اور جو بھی ان سے ملا، ان کا گرویدہ ہو گیا۔

کرکٹ کے میدان میں صبا خان کی خدمات قابلِ ستائش ہیں۔ وہ ایک شاندار آل راؤنڈر اور میچ ونر پلیئر تھے۔ بالنگ میں وہ میڈیم فاسٹ بالر تھے، جو نہ صرف تیز رفتاری سے بالنگ کرتے بلکہ فرسٹ بالنگ کے ساتھ ساتھ انتہائی خوبصورتی کے ساتھ ٹرن بھی کر دیتے تھے، بال کو ہوا میں سوئینگ کرنے کا ہنر بہت اچھی طرح جانتے تھے جس سے بڑے بڑے بیٹسمین مشکل میں پڑ جاتے تھے۔ جبکہ بیٹنگ میں ان کا اعتماد اور انداز کھیل کو نئی جان بخشتا تھا۔ان کا کریز پر کھڑا ہونا میچ فنش کرنے کی ذمہ داری کی گارنٹی ہوتی تھی۔ مقامی سطح پر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مورہ بانڈہ میں کرکٹ کے فروغ میں ان کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا تھا، اور انہوں نے نوجوانوں کو اس کھیل کی طرف راغب کیا۔
افسوس کہ یرقان جیسے خطرناک مرض نے انہیں ہم سے بہت جلد جدا کر دیا۔ جوانی میں ان کا اس دنیا سے رخصت ہونا ایک بڑا صدمہ ہے، جس کا خلا شاید ہی کبھی پُر ہو سکے۔ ان کی اطلاع وفات نہ صرف شائقین کرکٹ بلکہ ان کے تمام دوست و احباب بلکہ پورے علاقے کیلئے ایک خبر غم تھی اور تمام نے خوب آنسو بہائے

ہم اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہیں کہ وہ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے، اور جنت الفردوس میں جگہ نصیب کرے۔
صبا خان مرحوم کی خدمات اور ان کی یادیں ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گی۔

کون کون سے دوست اس عظیم پلیئر کے بارے میں جانتے ہیں؟ اپنی رائے کمنٹ سیکشن میں شیئر کر دیں.

تحریر بقلم رضوان اللہ

چڑات کلاسیکل  گراؤنڈ کراس سنگل وکٹ ٹورنامنٹ میں ابوبکر اور وقاص کی جوڑی نے جس انداز میں کھیل پیش کیا، وہ واقعی قابلِ داد...
20/04/2026

چڑات کلاسیکل گراؤنڈ کراس سنگل وکٹ ٹورنامنٹ میں ابوبکر اور وقاص کی جوڑی نے جس انداز میں کھیل پیش کیا، وہ واقعی قابلِ داد تھا۔
اگرچہ فائنل میں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا، مگر ان کی کارکردگی کسی بھی طرح کم نہیں تھی۔ انہوں نے پورے ٹورنامنٹ میں اپنی ٹیم کے لیے بہترین کھیل پیش کیا اور شائقین کرکٹ کے دل جیت لیے۔ ایسے کھلاڑی ہار کر بھی سرخرو رہتے ہیں کیونکہ ان کی محنت اور جذبہ ہی اصل کامیابی ہوتی ہے۔ویلڈن ابوبکر اور وقاص

چڑات کلاسیکل گراونڈ کراس سینگل وکٹ کرکٹ ٹورنامنٹ اس ٹورنمیٹ می 30 ٹیموں نے حصہ لیا اس کا فاینل میچ تاسیرزمان اپنے نام پے...
20/04/2026

چڑات کلاسیکل گراونڈ کراس سینگل وکٹ کرکٹ ٹورنامنٹ اس ٹورنمیٹ می 30 ٹیموں نے حصہ لیا اس کا فاینل میچ تاسیرزمان اپنے نام پے کرلیا ویلڈن تاسیر زمان ارگنایزر کمیٹی کی طرف سے نغد کیش پرایز دیا اور فضل قدیم کی طرف سے 5000 ھزار نغد انعام دیا غفران لالاجی کی طرف سے نغد انعام ویلڈن تاسیرزمان

آج آپ کو دکھائیں ابرار جونیئر)پورے ٹورنامنٹ میں آپ نے کمال کر دیا۔ شروع کے میچ سے فائنل تک آپ کا جذبہ، فوکس اور محنت ہر ...
18/04/2026

آج آپ کو دکھائیں ابرار جونیئر)

پورے ٹورنامنٹ میں آپ نے کمال کر دیا۔ شروع کے میچ سے فائنل تک آپ کا جذبہ، فوکس اور محنت ہر گیند پر نظر آئی۔ ابرار جونیئر بھائی، آپ نے ثابت کر دیا کہ بڑے کھلاڑی وہی ہوتا ہے جو ہر شعبے میں ٹیم کو اٹھا کر لے جائے۔ بیٹنگ میں آپ کا بلا بولتا رہا۔ نئی گیند کو عزت دی، سیٹ ہونے کے بعد بولروں پر ایسا ٹوٹ کر پڑے کہ گراؤنڈ چھوٹا پڑ گیا۔ کور ڈرائیو ہو یا پل شاٹ، ٹائمنگ ایسی کہ فیلڈر دیکھتے رہ گئے۔ مشکل ٹائم میں آپ کریز پر ڈٹ گئے اور پریشر کو چوکوں چھکوں میں اڑا دیا۔ بولنگ میں آپ کی لائن لینتھ اور دماغ کا جو کمبینیشن تھا وہ سب پر بھاری رہا۔ نئی گیند سے وکٹ نکالی، درمیان کے اوورز میں رنز روکے، اور ڈیتھ اوورز میں یارکر اور سلوئر ون سے بلے بازوں کی سانس بند کر دی۔ ہر کپتان کو ابرار جونیئر جیسا بولر چاہیے ہوتا ہے جو میچ کا نقشہ بدل دے۔ فیلڈنگ میں آپ بجلی بنے رہے۔ پوائنٹ پر ڈائیو، باؤنڈری پر ہوائی کیچ، ڈائریکٹ ہٹ سے رن آؤٹ، آپ نے سب کر دکھایا۔ وکٹ کے پیچھے بھی جب موقع ملا تو دستانے کمال کے چلے۔ کیچنگ ہو یا اسٹمپنگ، ہاتھ میں گیند آئی اور بلے باز پویلین۔ ابرار جونیئر، آپ کی انرجی سے پوری ٹیم کا مورال ہائی رہا اور ہر میچ میں فرق صرف آپ کی موجودگی سے پڑا۔ یہ ٹورنامنٹ آپ کے نام رہا۔ اللہ کرے یہ فارم اور عزت ہمیشہ قائم رہے۔ بہت داد، بہت دعائیں۔

تحریر بقلم : رضوان اللہ---

کرکٹ کے شوقین افراد کے لیے کسی بھی ٹورنامنٹ کا فائنل ہمیشہ ایک یادگار لمحہ ہوتا ہے، اور جب بات ہو اپنے گاؤں مورہ بانڈہ ک...
17/04/2026

کرکٹ کے شوقین افراد کے لیے کسی بھی ٹورنامنٹ کا فائنل ہمیشہ ایک یادگار لمحہ ہوتا ہے، اور جب بات ہو اپنے گاؤں مورہ بانڈہ کی تو اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ کئی دنوں کی محنت اور دلچسپ مقابلوں کے بعد بالآخر وہ گھڑی آن پہنچی جس کا سب کو شدت سے انتظار تھا۔ شائقین کرکٹ نہایت جوش و خروش اور والہانہ جذبے کے ساتھ فائنل میچ کے منتظر تھے، جہاں ہر دل میں ایک ہی سوال تھا کہ آج فتح کا تاج کس کے سر سجے گا۔
مورہ بانڈہ میں شاندار کرکٹ ٹورنامنٹ کا فائنل، دل تھام دینے والا مقابلہ
مورہ بانڈہ میں منعقد ہونے والے کرکٹ ٹورنامنٹ کا فائنل ایک ایسا مقابلہ ثابت ہوا جس نے شائقین کو شروع سے آخر تک اپنے سحر میں جکڑے رکھا۔ فائنل میں فضل قدیم سینئر اور عبید گل ینگسٹر کی ٹیمیں آمنے سامنے تھیں، اور دونوں جانب سے کھیل کا ایسا اعلیٰ معیار دیکھنے کو ملا جس نے میچ کو یادگار بنا دیا۔
میچ کے آغاز پر ٹاس ہوا جسے فضل قدیم نے جیت لیا۔ اپنی ٹیم سے مشاورت کے بعد انہوں نے پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا، اور یہ فیصلہ شروع ہی سے درست ثابت ہونا شروع ہو گیا۔
فضل قدیم سینئر کی ٹیم نے مقررہ 6 اوورز میں 89 رنز کا مضبوط ہدف قائم کیا۔ کپتان فضل قدیم نے شاندار انداز میں 62 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیل کر میچ پر اپنی گرفت مضبوط کر لی۔ ان کے بلے سے نکلنے والے دلکش چوکے اور فلک بوس چھکے شائقین کے لیے کسی خوبصورت منظر سے کم نہ تھے۔
اسی دوران بالنگ کے شعبے میں وقاص اور خالد نے ایک ایک وکٹ حاصل کی اور ذمہ دارانہ انداز میں اپنی ٹیم کو سنبھالے رکھا، جو قابل تعریف رہا۔
اب عبید گل ینگسٹر کی ٹیم نے ہدف کے تعاقب کا آغاز کیا اور ابتدا ہی سے مثبت اور پراعتماد انداز اپنایا۔ بلے بازوں نے نہایت جرات، صبر اور مہارت کے ساتھ اننگز کو آگے بڑھایا، جس سے میچ میں سنسنی بڑھتی چلی گئی اور مقابلہ دلچسپ رخ اختیار کر گیا۔
مجموعی طور پر فضل قدیم کی ٹیم کی بالنگ نہایت شاندار رہی۔ باؤلرز نے بہترین کنٹرول، عمدہ لائن و لینتھ اور حکمت عملی کے ساتھ میچ کو برابر رکھا اور حریف ٹیم کو آسانی سے غالب آنے کا موقع نہ دیا۔
میچ اس وقت اپنے عروج پر پہنچ گیا جب آخری اوور میں ایک گیند پر 4 رنز درکار تھے۔ میدان میں موجود ہر شخص کی نظریں ایک ہی لمحے پر مرکوز تھیں اور فضا میں بے چینی اور تجسس اپنے عروج پر تھا۔
ایسے نازک اور فیصلہ کن موقع پر خالد لفٹی نے جس جرات، اعتماد اور غیر معمولی مہارت کا مظاہرہ کیا وہ واقعی قابلِ داد ہے۔ انہوں نے نہ صرف دباؤ کے اس لمحے کو بخوبی سنبھالا بلکہ ایک زبردست اور دلیرانہ شاٹ کھیلتے ہوئے شاندار چھکا لگا کر اپنی ٹیم کو ایک یادگار فتح دلا دی۔ ان کی یہ بیٹنگ اننگز کے آخری لمحے میں ایک شاہکار ثابت ہوئی۔
مزید برآں، خالد لفٹی نے بالنگ کے شعبے میں بھی اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا۔ انہوں نے نہایت نپے تلے انداز، عمدہ لائن و لینتھ اور بہترین کنٹرول کے ساتھ گیند بازی کرتے ہوئے ٹیم کو اہم مواقع فراہم کیے اور مخالف ٹیم پر دباؤ برقرار رکھا۔ ان کی آل راؤنڈ کارکردگی نے میچ میں فیصلہ کن کردار ادا کیا اور انہیں ایک مکمل کھلاڑی کے طور پر نمایاں کیا۔
عبید گل کی ٹیم کی جانب سے سلمان شاہ نے 21 جبکہ عبید گل نے 30 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ دونوں بلے بازوں نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹیم کو آخری لمحے تک مقابلے میں رکھا اور ثابت کیا کہ انہوں نے بھی بھرپور مقابلہ کیا۔
اسی شاندار، ہمہ جہت اور فیصلہ کن کارکردگی کی بنیاد پر خالد لفٹی کو “مین آف دی میچ” قرار دیا گیا۔
اسی طرح ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی کا بھی اعلان کیا گیا، جہاں ابرار کو ان کی غیر معمولی اور مسلسل شاندار کارکردگی پر “مین آف دی ٹورنامنٹ” قرار دیا گیا۔ ابرار نے پورے ٹورنامنٹ میں اپنی آل راؤنڈ صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا، چاہے وہ بیٹنگ ہو یا بالنگ، ہر شعبے میں انہوں نے اپنی ٹیم کے لیے نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی کارکردگی نہ صرف متاثر کن رہی بلکہ کئی مواقع پر ٹیم کی جیت میں فیصلہ کن ثابت ہوئی۔ میدان میں ان کا اعتماد، مہارت اور کھیل کے ساتھ لگن واقعی قابلِ تعریف ہے، اور یہی خصوصیات انہیں اس اعزاز کا حقیقی حقدار بناتی ہیں۔
میچ کے اختتام پر پریزنٹیشن تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں علاقے کے معززین اور مشران نے شرکت کی۔ مشران نے اپنے خطاب میں موجودہ معاشرتی حالات پر روشنی ڈالی اور نوجوانوں کو کھیلوں اور مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے مقابلے نہ صرف ٹیلنٹ کو ابھارتے ہیں بلکہ بھائی چارے اور اتحاد کو بھی فروغ دیتے ہیں۔
آخر میں منتظمین کو ایک کامیاب اور یادگار ٹورنامنٹ کے انعقاد پر خوب سراہا گیا۔

تحریر بقلم: رضوان اللہ

سردار بھائی کرکٹ کے میدان میں ایک نمایاں اور باصلاحیت آل راؤنڈر کے طور پر اپنی پہچان بنا چکے ہیں۔ خاص طور پر باؤلنگ میں ...
17/04/2026

سردار بھائی کرکٹ کے میدان میں ایک نمایاں اور باصلاحیت آل راؤنڈر کے طور پر اپنی پہچان بنا چکے ہیں۔ خاص طور پر باؤلنگ میں ان کی مہارت قابلِ دید ہے؛ ان کی شاندار لائن اور لینتھ، رفتار میں تنوع اور وکٹ لینے کی صلاحیت نے ہر میچ میں مخالف ٹیم کو شدید دباؤ میں رکھا۔ فیلڈنگ میں بھی ان کی پھرتی، برق رفتاری اور درست تھروز ٹیم کے لیے ایک مضبوط سہارا ثابت ہوتے ہیں، جبکہ بیٹنگ میں وہ ذمہ داری اور اعتماد کے ساتھ ٹیم کو سنبھالتے ہیں۔
سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ سردار بھائی نے اپنی غیر معمولی باؤلنگ اور ہمہ جہت کارکردگی کے بل بوتے پر اکیلے ہی اپنی ٹیم کو فائنل تک رسائی دلوانے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا، جو ان کی صلاحیت، محنت اور عزم کی واضح دلیل ہے۔ میدان میں ان کی موجودگی ہی ٹیم کے لیے حوصلہ اور مخالفین کے لیے پریشانی کا باعث بنتی ہے۔
سردار بھائی کی اسی شاندار کارکردگی کو سراہتے ہوئے اسماعیل اور تاج محمد کی جانب سے 15، 15 ہزار روپے کا انعام دینا ایک قابلِ قدر اقدام ہے۔ ہم دل کی گہرائیوں سے اسماعیل اور تاج محمد کے بے حد مشکور ہیں کہ انہوں نے ایک محنتی اور باصلاحیت کھلاڑی کی حوصلہ افزائی کی، کھیل کے فروغ میں اپنا کردار ادا کیا اور نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ایک مثبت اور حوصلہ افزا مثال قائم کی۔ ان کی یہ سپورٹ یقینی طور پر کھلاڑیوں کے حوصلے مزید بلند کرے گی اور کھیل کے میدان میں نئی توانائی پیدا کرے گی۔
بلاشبہ، سردار بھائی اپنی بہترین باؤلنگ، عمدہ فیلڈنگ اور جاندار کھیل کی بدولت کسی بھی ٹیم کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہیں، اور ان کی یہی کارکردگی انہیں دوسروں سے منفرد بناتی ہے۔

ضیا کرکٹ اکیڈمی (ZC) کی شاندار فتح اور کامیاب ٹورنامنٹضیا کرکٹ اکیڈمی کے اونر کی زیرِ نگرانی کراسیکل گراؤنڈ پر منعقدہ کر...
09/02/2026

ضیا کرکٹ اکیڈمی (ZC) کی شاندار فتح اور کامیاب ٹورنامنٹ
ضیا کرکٹ اکیڈمی کے اونر کی زیرِ نگرانی کراسیکل گراؤنڈ پر منعقدہ کرکٹ میچ کی جیت پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی جاتی ہے۔ یہ صرف ایک میچ کی جیت نہیں تھی بلکہ محنت، نظم و ضبط اور کھیل سے سچی محبت کی ایک زندہ مثال تھی۔
اس ٹورنامنٹ میں مردان، سوات، منیر، دیر، اور پورے صوبے کے مختلف علاقوں سے آنے والی متعدد ٹیموں نے بھرپور شرکت کی۔ دور دراز علاقوں سے کھلاڑیوں کی شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ ضیا کرکٹ اکیڈمی نہ صرف ایک ادارہ ہے بلکہ نوجوانوں کے خوابوں کا مرکز بنتی جا رہی ہے۔
ضیا کرکٹ اکیڈمی کے اونر کی انتھک محنت، بہترین انتظامات اور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی نے اس ایونٹ کو کامیاب بنایا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اگر نیت صاف اور مقصد مضبوط ہو تو محدود وسائل کے باوجود بھی بڑے کام سرانجام دیے جا سکتے ہیں۔ اکیڈمی نے نوجوان کھلاڑیوں کو نہ صرف کھیلنے کا موقع دیا بلکہ انہیں نظم، ٹیم ورک اور اسپورٹس مین اسپرٹ کا درس بھی دیا۔
یہ کامیاب میچ اور ٹورنامنٹ پورے علاقے کے لیے فخر کا باعث ہے۔ دعا ہے کہ ضیا کرکٹ اکیڈمی اسی طرح آگے بڑھتی رہے، نوجوانوں کو مثبت راستہ دکھاتی رہے اور مستقبل میں قومی و بین الاقوامی سطح کے کھلاڑی پیدا کرے۔
اللہ تعالیٰ اس کوشش کو قبول فرمائے اور مزید کامیابیاں نصیب کرے۔ آمین۔

07/02/2026
خواہشتمند ٹیمیں اپنی انٹری پوسٹ👇🏻 میں دیئں ہوۓ نمبروں پر کنفرم کریں _ شکریہ
06/12/2025

خواہشتمند ٹیمیں اپنی انٹری پوسٹ👇🏻 میں دیئں ہوۓ نمبروں پر کنفرم کریں _ شکریہ

Address

Mura Banda, Palai, Distt Malakand
Malakand

Telephone

+923448195524

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Charat Classical Ground Mura Banda posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Charat Classical Ground Mura Banda:

Share

Category