22/08/2023
پوری قوم جان چُکی ہے کہ مُلک کا حقیقی کنٹرول اور فیصلے کرنے کی اصل اتھارٹی “کمپنی” کے پاس ہے۔ بلکہ اب تو گاؤں دیہاتوں کے لوگ بھی جانتے ہیں۔
لیکن بنیادی بات یہ ہے کسی بھی مُلک میں سب سے بڑی طاقت اور قوت عوام ہوتی ہے۔ لیکن جب عوام بُری طرح سے تقسیم ہو اور عوامی طاقت کئی سو بلکہ کئی ہزار dividers کی بنیاد پہ تقسیم ہو، بے شعور بھی ہو اور اسکی اجتماعی طاقت و قوت صفر ہو۔ تو پھر شکوہ کیسا کہ “کمپنی” کی حکومت ہے یا فلانے کا کنٹرول ہے؟
جس قوت میں صلاحیت و استعداد اور نظم و ضبط ہوتا ہے کنٹرول اُسی قوت کا ہوتا ہے۔اس میں عجیب بات کیا ہے۔
حقیقی جمہوری طاقتیں جب تک خود کو ایک قومی سوچ کےتحت منظم نہیں کرتیں، طاقت اور کنٹرول کا مرکز غیر
عوامی اور غیر جمہوری قوتوں کے پاس ہی رہے گا۔
۔۔۔۔۔۔زاہد عمران صاحب۔۔۔۔۔ Zahid Imran