07/07/2026
گزشتہ ہائیکنگ میں *دو واقعات* پیش آئے۔۔۔۔
ہم ایک جگہ قدرتی نظاروں میں آرام فرما رہے تھے اچانک تین جوان آئے۔۔۔
شکل سے پڑھے لکھے۔۔۔
بڑے بڑے لیز lays کے پیکٹ پانی کی بوتلیں۔۔۔
کھانے لگ گئے ہمیں ترسانے لگ گئے😁 بغیر صلح مارے۔۔۔
اچانک ایک افریقی اور چینی نمودار ہوئے ان دونوں سے ان پاکستانی جوانوں نے مضبوط انگریزی میں بہت روانی سے گپ شپ لگائی۔۔۔
صاف پتہ چل رہا تھا تینوں نوجوان حد سے زیادہ انگریزی کو سمجھتے ہیں۔۔۔
اچانک ان کی طرف سے خرمچوں خرمچوں والا lays کا شاپر یونہی جھاڑیوں میں پھینکا گیا تو میں حیران رہ گیا کیونکہ میں اپنے بھائیوں کے ساتھ ان کے نمودار ہونے سے پہلے کچرہ پھیلانے والوں کی ہی غیبتیں کر کے لمبا چواڑا قصیدہ پڑھ رہا تھا۔۔۔
پھر بوتلیں ڈکاریں اور وہ بھی ظالموں نے پھینک دیں۔۔۔
مطلب ماحولیاتی تحفظ اور ان کی انگریزی کی ڈگریاں گئی تیل لینے۔۔۔
وہ پڑھے لکھے رُوپ میں صرف جاہل لوگ یا یوں کہیں کہ *ماحولیاتی دہشت گرد* تھے۔۔۔
الغرض ہم لوگوں نے کچرہ اُٹھایا اور پہاڑ سے نیچے آ گئے۔۔۔
لیکن راستے پہ ایک بہت پیارے انسان سے ملاقات ہوئی۔
بزرگ سے تھے۔
شکل سے ہی پڑھے لکھے نہیں لگ رہے تھے۔
انہوں نے کافی خالی بوتلیں اُٹھائی ہوئی تھیں،
ان کے پاس بیگ نہیں تھا اسلئے انہوں نے لوگوں کی پھینکی گئی کئی خالی بوتلوں کو دونوں بازوؤں سے سینے سے لگا رکھا تھا۔
ہم نے ان سے وہ بوتلیں بھی لے لیں ۔
پارکنگ میں پہنچے تو میں نے گاڑیوں کا رش دیکھا تو منہ سے پزیرائی کے انداز میں نکل گیا کہ دیکھو کافی پڑھے لکھے لوگ صبح سویرے سویرے ورزش پہ آئے ہوئے ہیں۔۔۔
وہ بزرگ میری طرف دیکھ کے ہنسے اور ہمارے اُٹھائے ہوئے کچرے کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگے کہ کیا اس چیز کے بعد بھی آپ ان کو پڑھا لکھا سمجھ رہے ہیں۔۔۔؟
خُدارا ماحولیاتی آلودگی مت پھیلائی ۔
اگر ہم اچھائی نہیں کر سکتے
تو کم از کم اپنے حصے کی بُرائی تو ختم کریں۔
ہماری دعا ہے کہ اللّٰہ پاک ہمارے آنے والی نسلوں کیلئے ان گلیات، ان وادیوں، ان جنگلات کو یونہی سر سبز و شاداب رکھے اور پلاسٹک پھیلانے والے پڑھے لکھے جاہلیں کے شر سے محفوظ رکھے۔
بلکہ اللّٰہ ان کو پہاڑوں میں جانے کی توفیق ہی نہ دے۔
غضب خُدا کا کہ ایک 1000 گرام کی ایک لیٹر والی بوتل اُٹھا کے پہاڑ کی چڑھائی پہ چڑھ جاتے ہیں۔
وہی بوتل جب خالی ہو گئی اور اس کا وزن 26 گرام ہو گیا۔
اور واپسی پہ پہاڑ کی چڑھائی بھی نہیں ہے تو ہمیں یہ توفیق نہیں ہوتی کہ اس ہلکی سی بوتل یا پاپڑوں کا شاپر ہم واپس لے آئیں اور کسی سرکار کی بنائی ہوئی کچرا کُنڈی (Dustbin) میں ڈال دیں۔
بلاشبہ پڑھے لکھے ہونے کیلئے ڈارون کا نظریہ ارتقا پڑھنا واجب ہوتا ہے لیکن بندروں اور ہم میں کم از کم یہ فرق رہنا چاہئے۔۔۔
*آئیں اور سب مل کے وعدہ کریں کہ ہم پہاڑوں ، وادیوں اور جنگلات کو اپنے گھر کی طرح سمجھیں گے اور ان میں کچرہ پھیلانے والوں کی حوصلہ شکنی کریں گے، ہم اپنے حصے کا کام کریں گے۔*
تعلیم شعور دیتی ہے۔
ٹریلز پہ آنے والے زیادہ تر لوگ اس چیز کو سمجھتے ہیں۔
پھر بھی اتنی سُستی کیوں۔
ہم سب کی صرف یہ ایک اجتماعی سوچ کہ میری ایک بوتل سے کیا ہو جائے گا۔
گُستاخی بقلم شیر خان مسافر۔