01/09/2026
پیر جماعت علی شاہؒ
تحریکِ پاکستان کے عظیم روحانی سپہ سالار
تحریر: پروفیسر ملک مبشر حسین اعوان
پرنسپل، الصراط اسلامک انسٹیٹیوٹ، اسلام آباد
تحریکِ پاکستان کی تاریخ صرف سیاسی قیادت، جلسوں اور قراردادوں کی تاریخ نہیں؛ یہ ان علماء، مشائخ اور روحانی شخصیات کی جدوجہد کی داستان بھی ہے جنہوں نے مسلمانوں کے دلوں میں آزادی، ملی تشخص اور ایک الگ وطن کا شعور بیدار کیا۔ انہی عظیم شخصیات میں امیرِ ملت پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوریؒ کا نام نہایت نمایاں ہے۔
وہ صرف ایک روحانی پیشوا نہیں تھے بلکہ اپنے زمانے کے جلیل القدر عالم، محدث، خطیب اور وسیع عوامی اثر رکھنے والے رہنما تھے۔ علی پور سیداں ان کا روحانی مرکز تھا، مگر ان کی آواز پنجاب سے نکل کر پورے برصغیر کے مسلمانوں تک پہنچتی تھی۔
مختصر تعارف اور زندگی
پیر سید جماعت علی شاہؒ کا تعلق علی پور سیداں کے ایک سادات گھرانے سے تھا۔ وہ علم و روحانیت کے ایسے ماحول میں پروان چڑھے جس نے آگے چل کر انہیں برصغیر کی ایک مؤثر مذہبی شخصیت بنا دیا۔ ان کی زندگی کا بڑا حصہ دین کی تبلیغ، اصلاحِ معاشرہ، تعلیم اور مسلمانوں کی مذہبی و اجتماعی رہنمائی میں گزرا۔
وہ سلسلۂ نقشبندیہ سے وابستہ تھے اور ان کی علمی و روحانی شخصیت نے برصغیر کے مختلف علاقوں میں گہرا اثر قائم کیا۔ ان کے مریدین اور عقیدت مندوں کا وسیع حلقہ بعد میں تحریکِ پاکستان کے لیے بھی ایک اہم عوامی قوت ثابت ہوا۔
روحانیت سے قومی جدوجہد تک
برصغیر کے سیاسی حالات تبدیل ہو رہے تھے۔ مسلمانوں کے مستقبل اور سیاسی تشخص کا سوال شدت اختیار کرچکا تھا۔ پیر جماعت علی شاہؒ نے اس صورتحال میں مسلم لیگ اور قیامِ پاکستان کے مطالبے کی حمایت کی۔
انہوں نے مسلم لیگ اور قائداعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت کی کھل کر حمایت کی۔ 1945ء میں ان کی جانب سے جاری کیے گئے اہم اعلانات میں پاکستان کے مطالبے اور مسلم لیگ کی حمایت پر زور دیا گیا۔ انہوں نے مسلمانوں کو متحد ہوکر پاکستان کی جدوجہد میں حصہ لینے کی ترغیب دی۔
یہ وہ زمانہ تھا جب برصغیر کے مسلمانوں کے سامنے ایک تاریخی فیصلہ تھا: اپنی سیاسی شناخت کو کس طرح محفوظ رکھا جائے اور مستقبل کی ریاست کیسی ہو؟
پیر جماعت علی شاہؒ نے اس سوال کا جواب مسلمانوں کے اتحاد اور مسلم لیگ کی سیاسی جدوجہد میں دیکھا۔
قائداعظم سے رابطہ
پیر جماعت علی شاہؒ اور قائداعظم محمد علی جناحؒ کے درمیان رابطہ بھی تحریکِ پاکستان کی تاریخ کا اہم پہلو ہے۔ پیر صاحب نے قائداعظم کو خطوط لکھے اور اپنے تعاون و حمایت کا یقین دلایا۔
ان کا قائداعظم پر اعتماد محض رسمی حمایت نہیں تھا۔ انہوں نے اپنے وسیع روحانی حلقے کو بھی مسلم لیگ کے ساتھ کھڑے ہونے کی ترغیب دی۔
ان کی آواز میں ایک روحانی پیشوا کا اثر تھا اور قائداعظم کی قیادت میں ایک منظم سیاسی جدوجہد کی قوت۔ یہی امتزاج تحریکِ پاکستان کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا تھا۔
پنجاب میں مسلم لیگ کی حمایت
پنجاب تحریکِ پاکستان کا ایک فیصلہ کن میدان تھا۔ یہاں مسلم لیگ کو مضبوط سیاسی قوت بنانے کے لیے صرف سیاسی کارکنوں کی محنت کافی نہیں تھی؛ دیہی علاقوں تک رسائی اور عوامی اعتماد بھی ضروری تھا۔
پیر جماعت علی شاہؒ نے اس مرحلے پر اپنے روحانی اثر و رسوخ کو مسلم لیگ کی حمایت میں استعمال کیا۔ ان کے خانوادے اور متعلقین نے بھی انتخابی مہم میں حصہ لیا۔ ان کے صاحبزادے پیر محمد حسین شاہ نے بھی مسلم لیگ کے حق میں عوامی رابطہ مہم میں حصہ لیا۔
یہ اس بات کی واضح مثال تھی کہ خانقاہی اور روحانی تعلقات کس طرح اس دور کی عوامی سیاست پر اثرانداز ہوتے تھے۔
1946ء کے انتخابات
1946ء کے انتخابات تحریکِ پاکستان کا فیصلہ کن مرحلہ تھے۔ مسلم لیگ ان انتخابات کے ذریعے یہ ثابت کرنا چاہتی تھی کہ وہ برصغیر کے مسلمانوں کی حقیقی سیاسی نمائندہ جماعت ہے۔
پیر جماعت علی شاہؒ نے مسلم لیگ کے امیدواروں کی کامیابی کے لیے عوامی سطح پر حمایت پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے دوروں، خطابات اور مریدین سے رابطوں نے مسلم لیگ کے پیغام کو وسیع حلقے تک پہنچایا۔
انہوں نے پنجاب اور صوبہ سرحد کے مختلف علاقوں میں پاکستان اور مسلم لیگ کے حق میں عوامی حمایت پیدا کرنے کے لیے کردار ادا کیا۔
صوبہ سرحد اور ریفرنڈم
تحریکِ پاکستان کے آخری مرحلے میں صوبہ سرحد ایک اہم میدان بن گیا تھا۔ وہاں مسلم لیگ کو کانگریس اور خدائی خدمتگار تحریک کے مقابلے میں اپنی حمایت مضبوط کرنا تھی۔
پیر جماعت علی شاہؒ نے اس خطے کا بھی دورہ کیا اور پاکستان کے حق میں عوامی حمایت پیدا کرنے میں حصہ لیا۔ 1947ء کے ریفرنڈم کے موقع پر ان کی سرگرمیوں کا مقصد مسلم لیگ اور پاکستان کے حق میں عوامی رائے کو مضبوط کرنا تھا۔
یوں علی پور سیداں کی خانقاہ کا روحانی اثر پنجاب تک محدود نہ رہا بلکہ تحریکِ پاکستان کے فیصلہ کن مرحلے میں سرحد کی سرزمین تک بھی پہنچا۔
امیرِ ملت — ایک تاریخی لقب
پیر جماعت علی شاہؒ کو امیرِ ملت کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ لقب محض احترام کا اظہار نہیں بلکہ اس عوامی و روحانی اثر کی علامت تھا جو انہیں اپنے دور میں حاصل تھا۔
1930ء کی دہائی میں مسجدِ شہید گنج کے مسئلے کے سلسلے میں بھی انہیں ایک اہم مذہبی و عوامی تحریک کی قیادت کے لیے منتخب کیا گیا۔ اس دور میں ان کی وسیع عوامی مقبولیت اور مذہبی قیادت نمایاں ہوئی۔
بعد کے برسوں میں یہی عوامی و روحانی اثر تحریکِ پاکستان کے لیے بھی ایک اہم قوت بنا۔
ایک روحانی سپہ سالار کا کردار
سپہ سالار ہمیشہ تلوار لے کر میدان میں نہیں اترتا۔
کبھی وہ لوگوں کے دلوں میں حوصلہ پیدا کرتا ہے، کبھی بکھرے ہوئے لوگوں کو ایک مقصد پر جمع کرتا ہے اور کبھی اپنی آواز سے ایک پوری قوم کو اس کے مستقبل کا احساس دلاتا ہے۔
پیر جماعت علی شاہؒ کا کردار بھی اسی معنوں میں ایک روحانی سپہ سالار کا تھا۔
ان کے پاس سیاسی اقتدار نہیں تھا، مگر عوام کے دلوں میں اعتماد تھا۔ ان کے پاس سرکاری وسائل نہیں تھے، مگر ان کی آواز دور دور تک سنی جاتی تھی۔
اور جب پاکستان کا مطالبہ سامنے آیا تو انہوں نے اپنے روحانی اثر کو مسلمانوں کی سیاسی جدوجہد کے لیے استعمال کیا۔
قیامِ پاکستان اور آخری دور
14 اگست 1947ء کو پاکستان قائم ہوا۔ مسلمانوں کی طویل سیاسی جدوجہد ایک نئی ریاست کے قیام پر منتج ہوئی۔
پیر جماعت علی شاہؒ نے قیامِ پاکستان کے بعد بھی مسلمانوں کی دینی و اجتماعی اصلاح کو اپنی ترجیحات میں رکھا۔ ان کی زندگی کا آخری دور بھی دینی خدمت، اصلاح اور ملت کی رہنمائی میں گزرا۔
30 اگست 1951ء کو یہ عظیم روحانی شخصیت دنیا سے رخصت ہوگئی۔
تاریخ میں مقام
پیر جماعت علی شاہؒ کی تحریکِ پاکستان میں خدمات کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ انہوں نے اپنی روحانی قوت کو سیاسی شعور کے ساتھ جوڑا۔ انہوں نے مسلم لیگ کی حمایت کی، قائداعظم کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا، عوامی رابطہ مہم میں حصہ لیا، پنجاب اور سرحد میں پاکستان کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش کی اور اپنے وسیع مریدین کے حلقے کو تحریکِ پاکستان کے مقصد سے جوڑا۔
ان کا کردار ہمیں یہ بتاتا ہے کہ پاکستان کی جدوجہد صرف ایوانوں میں نہیں لڑی گئی؛ اس کے لیے خانقاہوں سے بھی آوازیں اٹھیں، منبروں سے بھی پیغام دیا گیا، علماء نے بھی رہنمائی کی اور مشائخ نے بھی اپنے مریدین کو ایک قومی مقصد کے لیے متحرک کیا۔
پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوریؒ اسی عظیم روحانی قافلے کے ایک درخشاں سالار تھے۔
علی پور سیداں سے اٹھنے والی ان کی آواز نے پنجاب کے دیہات، خانقاہوں اور عوامی حلقوں تک پاکستان کا پیغام پہنچایا۔
اور آج جب ہم پاکستان کی آزادی کی تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو ہمیں یہ حقیقت واضح نظر آتی ہے کہ اس ملک کے قیام میں سیاسی قیادت کے ساتھ علماء و مشائخ کی جدوجہد بھی ایک اہم تاریخی حقیقت ہے۔
پیر جماعت علی شاہؒ — ایک عالم، ایک محدث، ایک روحانی پیشوا اور تحریکِ پاکستان کے ایک عظیم روحانی سپہ سالار۔
تحریر: پروفیسر ملک مبشر حسین اعوان
پرنسپل، الصراط اسلامک انسٹیٹیوٹ، اسلام آباد