14/06/2026
انگلینڈ کی ٹیم انتظامیہ نے ورلڈکپ 2015 سے جلد باہر ہونے کو بہت زیادہ سنجیدگی سے لیتے ہوئے ٹیم کی ون ڈے کرکٹ کھیلنے کی حکمت عملی کو مکمل تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا- انگلینڈ کے بیٹسمین پہلی بار اپنے تسلسل کے ساتھ اتنی جارحانہ بیٹنگ کرتے نظر آئے تھے- اس تبدیلی کا پہلا مظاہرہ نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز سے ہوا اور پھر 2016 میں پاکستان کے خلاف ایک میچ میں انگلینڈ نے ایک ون ڈے اننگ میں زیادہ سے زیادہ سکور بنانے کا عالمی ریکارڈ بھی بنا ڈالا-
چمپئنز ٹرافی 2017 کے اس پہلے سیمی فائنل میں ٹاس میں شکست کے بعد بیٹنگ کرنے والی انگلینڈ کا آغاز ایک بار پھر سے جارحانہ تھا لیکن پچ تھوڑی سی سست تھی تو یہاں دھماکے دار بیٹنگ کا امکان کم تھا- محمد عامر ان فٹ تھے اور ان کی جگہ کھیلنے والے رمان رئیس نے ایلیکس ہیلز کی وکٹ جلدی حاصل کر لی تھی لیکن پھر بیئرسٹو اور جو روٹ کے درمیان ایک عمدہ پارٹنرشپ کا آغاز ہوا- بیئرسٹو کی وکٹ گرنے کے بعد رن ریٹ میں کمی ضرور آئی لیکن جوئے روٹ اور مورگن کی کریز پر موجودگی کے وقت یہی لگ رہا تھا کہ انگلینڈ ٹیم تین سو کے آس پاس سکور بنانے میں کامیاب ہو جائے گی-
جوئے روٹ کو فہیم اشرف کی جگہ کھیلنے والے شاداب خان اور مورگن کو حسن علی نے آؤٹ کیا تو اس کے بعد انگلینڈ کی اننگ بکھر گئی- بین سٹوکس کے علاوہ کوئی بھی وکٹ پر نہ رک سکا- وکٹیں تسلسل سے گر رہی تھیں اور سکور بنانا بھی نہایت مشکل ہوا جا رہا تھا- بین سٹوکس جیسے بیٹسمین کی اننگ اس میچ میں انگلینڈ کی مشکلات کو بیان کرنے کے لئے کافی ہے- بین سٹوکس نے 64 گیندوں پر 34 رنز بنائے اور اس دوران وہ باؤنڈری لگانے میں ناکام رہے- حسن علی 35/3، رمان رئیس 44/2 اور جنید خان کی 42/2 کی عمدہ باؤلنگ نے انگلینڈ کو 211 تک محدود کر دیا-
پاکستانی اننگ کا آغاز نہایت شاندار تھا, فخر زمان اور اظہر علی ایک بار پھر سے اپنے اپنے کردار کو بخوبی نبھا رہے تھے- جہاں فخر زمان گیند کو ہوا میں کھیل کر باؤنڈری کے پار پہنچا رہے تھے وہیں اظہر نہایت سکون سے صرف بری گیندوں کو بہترین سٹروکس کھیل رہے تھے- نصف سنچری بنانے کے بعد فخر زمان (58 گیندوں پر 57) آؤٹ ہو گئے لیکن اظہر علی (100 گیندوں پر 76) اور بابر اعظم (45 گیندوں پر 38) نے ایک اور عمدہ پارٹنرشپ بنا ڈالی- اظہر کی وکٹ گری تو اس کی جگہ محمد حفیظ (21 گیندوں پر 31) نے لے لی اور باقی سکور بڑی تیزی سے حاصل کر لیا گیا اور یوں پاکستانی ٹیم فائنل میں پہنچ گئی، دوسرے فائنلسٹ کا فیصلہ اگلے دن ہونے والے انڈیا بنگلہ دیش میچ میں ہونا تھا- حسن علی کو شاندار باؤلنگ پر مین آف دی میچ قرار دیا گیا تھا-
تحریر: شہزاد فاروق
in 2017