23/08/2026
واحد چشمدید گواہ کل رات کے پورے واقعہ کی عظمیٰ خان ہیں، اسی لئے میں نے آج صبح والی ویڈیو میں کہا تھا کہ جب تک وه اپنا سچ نہیں بتاتیں تب تک تمام چیزیں قیاس آرائیاں ہیں، کل زہنی مریض نے الگ نوعیت کا پوری قوم کو دھوکہ دیا بلکہ انٹرنیشنل میڈیا کو بھی آج حیران کر دیا، انھوں نے 3 الگ الگ قافلے اڈیالہ سے نکالے، ایک پمز کیلئے ایک شفا کیلئے اور ایک جو سب سے بڑا قافلہ تھا وه وه رستے میں ویڈیوز بنانے کیلئے تاکہ عوام کو یقین ہو جائے کہ اتنے بڑے قافلے میں تو عمران خان ہی ہوگا، جو سکواڈ پمز کیلئے نکلا اس میں ڈاکٹر عظمیٰ خان کو بٹھا دیا جو سکواڈ شفا اسپتال گیا اس میں ڈاکٹر فیصل سلطان کو بٹھا دیا اور ایک سکواڈ میں خالی گاڑیاں کالے شیشے تاکہ باہر سے کچھ نظر ہی نہ آئے، ڈاکٹر فیصل کو شفا اسپتال پہنچا کر بٹھائے رکھا کہ ابھی عمران خان کچھ دیر تک آ رہے ہیں جبکہ عظمیٰ خان کو پمز لے جایا گیا وہاں عمران خان موجود تھے، وہاں بھی جھوٹ بولا گیا کہ یہاں آپکا صرف آنکھ کا فالو اپ ہوگا پھر شفا انٹرنیشنل جائیں گے، عمران خان کو جب ڈاکٹر فیصل کا بتایا تو وه خوش ہوگئے کہ آخر کار ان کا اپنا معالج چیک اپ کر سکے گا، لیکن پھر کوئی 3 گھنٹے بہن بھائی ساتھ رہے باتیں کیں خان نے بتایا کہ یہ مجھے قید تنہائی میں رکھ کر مرسی کی طرح مار دیں گے یہ انسان نہیں ہیں اور میرا BP کا مسلہ نہیں 10 مہینے سے میں قید تنہائی میں ہوں نہ اخبار نہ ٹی وی نہ کسی کو مجھ سے بات کرنے دیتے ہیں انسانی فطرت ہے کہ اگر انسان لمبا عرصہ بولنا سننا ترک کر دے تو دماغ پھٹنے لگتا ہے جس سے anxiety ہوتی ہے اور اس وجہ سے میرا BP بڑھتا ہے ورنہ میری دھڑکن کبھی 45 سے اوپر نہیں گئی خیر خان کا BP چیک ہوا اس وقت کیونکہ عمران خان بہن سے 10 ماہ بعد مل کر خوش تھے اسلئے ان کا BP چیک کیا گیا جو 120/80 تھا جیسے نوجوان کا ہوتا، آنکھ کا خان نے بتایا کہ اب پہلے سے بہت بہتر ہوئی ہے پھر آنکھ کا انجکشن لگا اور جب کوئی 3 گھنٹے گزرےاور ڈاکٹر عظمیٰ اور خان صاحب کو گاڑیوں میں بٹھایا کہ ڈاکٹر فیصل انتظار کر رہے ہونگے جلدی چلیں لیکن جب قافلہ پنڈی کی طرف چل دیا تو تب ڈاکٹر عظمیٰ کو سمجھ آیا کہ یہ تو پوری مجھے ہی نہیں قوم کو دھوکہ دے گئے ہیں اور سکواڈ واپس سخت سیکورٹی میں اڈیالہ پہنچا وہاں پہنچے تو ڈاکٹر فیصل کو دیکھا انہوں نے بتایا کہ مجھے شفا لے جایا گیا کہتے رہے کہ عمران خان صاحب آ رہے ہیں پھر کوئی 4 بجے کہا کہ وه واپس چلے گئے ہیں اڈیالہ آپ بھی چلیں اور پھر واپس لے آئے ہیں ڈاکٹر فیصل کی عمران خان سے ملاقات ہی نہیں ہونے دی گئی، لہٰذا کھلم کھلی توہین عدالت ہے جیسے پورے ملک کی عدلیہ ججوں اور آئین کو یہ کہا گیا ہو کہ پٹ لو جو پٹنا ہے اور یہ والی جرات حکومت نہیں کر سکتی یہ وہی ایجنسیاں کر رہی ہیں جن کی حراست میں پچھلے 3 سال سے عمران خان ہے، اب لانگ مارچ کے علاوہ کوئی حل نہیں اور لونگ مارچ کی تاریخ 27 ستمبر کی بجائے 27 اگست ہو جانی چاہئے کیونکہ جب تک سڑکوں پر عوام کا راج نہ ہوا یہ غنڈے راج کرتے رہیں گے.
جہانزیب پاکستانی