27/10/2025
جیل کی تاریک کوٹھڑی میں ذوالفقار علی بھٹو صاحب قلم تھامے کچھ لکھنے میں محو تھے کہ اچانک دروازے کی کھڑکھڑاہٹ سے ان کی توجہ ٹوٹی، ڈپٹی کمشنر سعید مہدی نے اندر قدم رکھتے ہوئے سلام عرض کیا، بھٹو نے نظریں اٹھائیں اور تیکھے لہجے میں پوچھا "کیوں آئے ہو؟" سعید مہدی نے سہمی آواز میں کہا "سر، معافی نامے کے کاغذات لایا ہوں، بس آپ کے دستخط کی ضرورت ہے"، بھٹو نے کاغذات اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے سوال کیا "یہ کس نے بھیجے ہیں؟" جواب ملا "جنرل ضیاء الحق نے"، بھٹو کے لبوں پر ایک طنزیہ مسکراہٹ پھیل گئی، انہوں نے پوچھا "مجھے جانتے ہو؟" سعید مہدی نے فوراً کہا "سر، آپ کو کون نہیں جانتا، آپ ذوالفقار علی بھٹو ہیں"، بھٹو صاحب نے اگلا سوال داغا "میرے باپ کو جانتے ہو؟" جواب آیا "جی سر، سر شاہنواز بھٹو کو پوری دنیا جانتی ہے"، پھر بھٹو نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے آخری سوال کیا "ضیاء الحق کے باپ کو جانتے ہو؟" سعید مہدی نے گھبرا کر نفی میں سر ہلایا "نو سر"، بھٹو نے کاغذات واپس کرتے ہوئے شیر کی سی گرج میں کہا "جاؤ، اس سے کہو جس کے باپ کا کوئی پتہ نہیں، ذوالفقار علی بھٹو اس سے معافی کی درخواست کیسے کر سکتا ہے"، یہ تھی اس عظیم لیڈر کی شان جس نے موت کے سائے میں بھی اپنی عزتِ نفس کو داؤ پر نہیں لگایا، آج کے دور میں ایسی جرأت اور حوصلہ کسی میں نہیں، بھٹو شہید واقعی ایک سچا لیڈر تھا۔