20/12/2023
میرا پہلا کوٹ ...'
سردیاں شروع ہو چکی تھیں،امی نے پچھلے سال کی سویٹر نکال کر مجھے تھمائی تو میرا منہ بن گیا. .مجھے تو کوٹ چاہئے تھا. .کوٹ پہن کر اسکول جاتے بچے مجھے بڑے معتبر لگتے تھے..اور پھر کوٹ میں باہر دو جیب بھی تو لگے ہوتے ہیں جن میں اپنے کنچے اور سکے ڈال سکتا تھا.، گرم مونگ پھلیاں اور چلغوزے بھی..، اور اس کے گھر کے سامنے شو مارنے کے لئے شام کو انہی جیبوں میں ھاتھ ڈال کر ایک خاص انداز سے کھڑا بھی ہو سکتا تھا. .مگر پرانی سویٹر میں بھلا وہ بات کہاں. .؟ میں مچل گیا اور امی نے مجبوراً بازار جانے کے لئے اپنا سیاہ برقعہ نکال لیا. ..لنڈا بازار میں اسی شام نئی گانٹھ کھلی تھی اور کسی انگریزنی نے ٹھیک میرے ناپ کے اپنے بچے کا ایک عنابی رنگ کا کوٹ جیسے میرے لئے ہی بھیج رکھا تھا.میں خوشی میں کوٹ پہن کر ہی واپس گھر لوٹا اور شام ڑھلے تک محلے میں اتراتا پھرتا رھا..وہ پرانا کوٹ آج بھی میرے دل کی کسی کھونٹی سے ٹنگا ہے. ھم ساری زندگی اپنی خوشیاں گوچی اور ارمانی کی اونچی برانڈڈ دوکانوں میں ڈھونڈتے پھرتے ہیں مگر ہمارے دل کی اصل خوشی ایسی ہی کسی کھونٹی سے ٹنگے ، پرانے لنڈے کے کوٹ کی جیب میں چھپی ملتی ہے. ..
ھاشم ندیم