10/10/2026
معاذ صداقت ایسا کھلاڑی ہے جو پاور پلے کا بھرپور فائدہ اٹھانے میں پاکستان کے تقریباً ہر دوسرے کھلاڑی سے بہتر ثابت ہو سکتا ہے۔ وہ ابتدائی چھ اوورز میں مخالف ٹیم کے بولرز کی دھلائی کرتا ہے، اور اس نے یہ مہارت لیگز میں کھیل کر حاصل کی ہے۔ رواں سال پی ایس ایل میں اس نے صرف 19 گیندوں پر نصف سنچری بنائی، جو لیگ کی تاریخ کی مشترکہ طور پر تیسری تیز ترین نصف سنچری ہے۔
ٹی ٹوئنٹی کی 55 اننگز میں وہ 84 چھکے اور 155 چوکے لگا چکا ہے۔ یعنی ہر دو چوکوں کے مقابلے میں ایک چھکا، جبکہ زیادہ تر بلے باز اس تناسب کے آس پاس بھی نہیں پہنچ پاتے۔ یہ سب کرتے ہوئے اس کی اوسط 32.62 ہے۔
پاکستان کو اس نوجوان کھلاڑی کے ساتھ بہت اچھا سلوک کرنا چاہیے اور اس کی صلاحیتوں کی قدر کرنی چاہیے۔ اس کا کھیل صرف بڑے شاٹس لگانے تک محدود نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ وہ کس طرح گیند کو خالی جگہوں میں کھیلتا ہے اور جب باؤنڈری لگانے کا موقع نہ ہو تو بھی چھوٹے شاٹس کے ذریعے رنز بناتا رہتا ہے۔ کبھی کبھار یہی انداز اس کی وکٹ لے سکتا ہے، لیکن زیادہ تر یہی خوبی اسے رنز بنانے سے رُکنے نہیں دیتی۔
معاذ کی عمر صرف 21 سال ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ اس کی حفاظت کرے، اسے نکھارے اور اس پر ضرورت سے زیادہ دباؤ ڈال کر جلد بازی نہ کرے، جیسے کسی کارپوریٹ ملازم سے فوری نتائج کی توقع کی جاتی ہے۔
اسے مناسب وقت اور اعتماد دیا گیا تو وہ یقیناً بہت اچھا کرے گا۔