14/02/2026
انٹر ڈسٹرکٹ فٹبال ٹورنامنٹ اور ضلع غذ۔۔۔
جیسا کہ آپ سب کو بخوبی علم ہے کہ گلگت بلتستان میں فٹبال کا سب سے بڑا ایونٹ انٹر ڈسٹرکٹ ایونٹ ہی ہوتا ہے، اور جب سے FCNA نے اس ایونٹ کی ذمہ داری لی ہے تب سے یہ ایونٹ اور بھی دلچسپ ہوگیا ہے چونکہ FCNA کے پاس ہیومن ریسورس اور فنانس کی کوئی کمی نہیں تو مینجمنٹ کے لحاظ سے بھی کوئی مسلہ درپیش نہیں ہوتا۔ بھاری انعامی رقم اور ڈیپارمنٹس کی شمولیت نے اس ایونٹ کو چار چاند لگا دئے ہیں۔ چونکہ ضلع غذر میں فٹبال کو جنون کی حد تک کھیلا اور دیکھا جاتا ہے اور گلگت بلتستان کے باقی اضلاع کے مقابلے یہاں معیاری کھلاڑی پاے جاتے ہیں لیکن پھر بھی افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ انٹر ڈسٹرکٹ میں ضلع غذر کی پرفارمنس ابتک ناقص رہی ہے، پہلے ایونٹس میں ہم یہی بہانا بناتے رہے کہ ہماری ٹیم میرٹ پر نہیں بنتی ، اس بار یہ بہانا بھی نہیں بنا سکتے کیونکہ اس بار تمام کھلاڑی ہمارے ضلع کے ٹاپ کے کھلاڑی تھے۔ پچلی بار بھی فائنل میں شکست اور اس بار بھی وہی حال آخر وجہ کیا ہے؟ کیوں غذر کی عوام کو بار بار مایوس کیا جا رہا؟
وجہ۔۔۔۔۔۔۔۔پچھلی بار کی ونر ٹیم گلگت غازی نے میرٹ پر ٹیم بنائی اور ایک مہینے تک لگاتار کیمپ لگایا نتیجہ۔۔۔ٹرافی انکی ہوئی، اس دفع NLI نے زیادہ غذر کے ٹیموں سے بچے کچے پلیر اٹھائے تین مہینہ کیمپ لگایا اور نتیجہ آپ کے سامنے۔۔۔۔اسکے برعکس غذر کی دونوں ٹیموں کے پلیرز کو ایونٹ کے پہلے میچ تک یہ ہی پتا نہیں ہوتا کہ انکےساتھ ٹیم میں اور کون کھیل رہا ہے، جس وجہ سے وہ نارمل ٹیموں سے تو اچھا کھیل لیتی مگر جیسے ہی کوئی مقابلے کی ٹیم ٹکرتی ہے تب اصلیت سامنے آجاتی ہے یہ واقعی ایک افسوس ناک عمل ہے مینجمٹ کو شاید اندازہ نہیں کہ عوام ان پر کس قدر امیدیں لگائے ہوتے۔ اور بار بار ہارنے کی وجہ سے کس قدر شدید ذہنی آذیت سے گزر رہے۔۔۔ان کو لگتا ہے کہ اچھے پلیرز جمع کر کے گراونڈ میں ڈال دو جیت جاینگے، ایسے آپ میچ جیت سکتے ہو ایونٹ نہیں۔۔۔۔ این ایل آئی نے اس ایونٹ کے لیے بھرپور تیاری اور محنت کی تھی اسی لیے کامیاب ہوے ۔ جو ہونا تھا ہوگیا آیندہ را احتیاط۔