15/05/2026
غذر کے معروف نوجوان فٹبالر غفران زمان کے بہیمانہ قتل کی خبر نے پورے علاقے کو غم، صدمے اور شدید غصے میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس افسوسناک واقعے نے نہ صرف ایک خاندان بلکہ پورے غذر کے پُرامن معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ مرحوم غفران زمان کی کامل مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور ان کے اہلِ خانہ کو یہ ناقابلِ تلافی صدمہ برداشت کرنے کے لیے صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ غفران زمان ایک نہایت شریف، بااخلاق، نرم مزاج اور ملنسار انسان تھے، جنہیں علاقے کے لوگ عزت، محبت اور اچھے کردار کی وجہ سے جانتے تھے۔ ان جیسی شخصیت کا اس طرح اچانک اور ظلم کے ساتھ ہم سے جدا ہو جانا ہر حساس دل کے لیے تکلیف دہ ہے۔
یہ واقعہ اس لیے بھی انتہائی تشویشناک اور غیر معمولی نوعیت کا حامل ہے کیونکہ غذر اُن علاقوں میں شمار ہوتا ہے جہاں قتل، خونریزی، چوری اور بدامنی جیسے واقعات کو کبھی معمول کا حصہ نہیں سمجھا گیا۔ یہاں ہمیشہ سے امن، بھائی چارے، رواداری اور باہمی احترام کی روایت قائم رہی ہے، اور یہی چیز غذر کو دیگر علاقوں سے ممتاز بناتی ہے۔ اسی لیے اس قسم کے واقعات کا رونما ہونا اہلِ علاقہ کے لیے نہایت حیران کن اور ناقابلِ قبول ہے۔ اگر اس واقعے کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا، اگر غفران زمان کے قاتلوں کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا نہ دی گئی، تو خدشہ ہے کہ مستقبل میں ایسے جرائم کو معمول سمجھنے کا خطرناک رجحان پیدا ہو سکتا ہے، جس سے غذر کا وہ پُرامن ماحول متاثر ہوگا جس پر یہاں کے عوام ہمیشہ فخر کرتے آئے ہیں۔ ہم ہرگز نہیں چاہتے کہ ہمارے علاقے میں بھی ایسے واقعات کو عام سمجھا جانے لگے یا مجرم عناصر کو یہ پیغام ملے کہ وہ قانون اور معاشرے سے بالاتر ہیں۔
لہٰذا ہم ضلعی انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ حکام سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں، قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار کر کے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے تاکہ مرحوم کے اہلِ خانہ کو انصاف مل سکے اور عوام کے دلوں میں موجود بے چینی اور خوف کا خاتمہ ہو۔ اسی طرح ہم سماجی، سیاسی اور میڈیا حلقوں سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ ایسے واقعات کی صرف خبر رسانی تک محدود نہ رہیں بلکہ بھرپور انداز میں ان کی مذمت کریں اور غذر کے پُرامن ماحول کے تحفظ کے لیے اپنی آواز بلند کریں۔ غذر کے امن کو خراب کرنے کی جو کوشش کی گئی ہے، اس کا مؤثر جواب صرف یہی ہے کہ مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لا کر عبرتناک سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں کوئی بھی شخص اس طرح کے گھناؤنے جرم کا سوچنے کی بھی جرات نہ کر سکے