28/12/2024
مٹھو لالی VS منتظر مہدی
بازیو ں کے حوالے سے سوشل میڈیا کا ہاٹ ایشو اپنے منطقی انجام کو پہنچا ۔۔۔ جب اطراف کا مقصد صرف شوق کرنا ہو اور شوقین کو اپنے پرندوں اور اپنے بازوں پر مکمل اعتماد ہو تو تب ایسا منظر دیکھنے کو ملتا جیسا استاد مٹھو لالی کی ویڈیو میں پاکستان کی عوام نے دیکھا لیکن اگر سوشل میڈیا کے توسط سے صرف حریف کو ٹرول کرنا واحد مقصد ہو تو کاغذی شیروں کا حال جناب منتظر مہدی والا ہوتا اور اس چیلج کو جو انجام ہوا وہ سو فیصد متوقع تھا وجہ۔۔۔
اگر یہ بازیاں پکی ہو جاتی تو مہدی صاحب اپنے ساتھ ساتھ سارے لاہور کے بازی گر شوقین حضرات کو بھی لے ڈوبتے غیر جانبدار تجزیہ اور رائے شماری کا سہارا بھی لیا جائے تو رزلٹ یہی اتا کہ منتظر مہدی صاحب اور مٹھولالی کا کوئی جوڑ ہی نہیں ہے اور مٹھو لالی لاہور میں شوق شروع کرتے تو لاہور کا شوق لاہور والوں کا سخت موسم والا بیانیہ اور کبوتروں کی سیل اور ٹیڈی گولڈن یہ سب ایسے ہوا میں اڑتے جیسے آندھی میں شاپر اڑتے ہیں اس لیئے "کاروباری حضرات " کبھی بھی منتظر مہدی کو یہ شوق طے نا کرنے دیتے مٹھو لالی کو تنقید کا نشانہ اس لیئے بنایا جاتا رہا کہ چنیوٹ کا موسم ٹھنڈا اور لاہور میں آگ برستی اور بازیاں اس لیئے طے نہیں ہو سکیں کہ مٹھو لالی لاہور کی " آگ " 🌞 میں شوق کرنا چاہتے اور منتظر صاحب کی " ضد " رہی کہ ٹھنڈے موسم بھی کھیلو🐥۔۔۔ پاکستان کے شوقین حضرات کے سامنے 2024 کے جیٹھ میں لاہور کے کبوتر اور اساتذہ کا فن پہلے ہی طشت ازبام ہو چکا تھا رہی کسر منتظر مہدی صاحب نے نکال دی لہظہ مہدی صاحب کو چاہیے کہ خود بھی جیو اور لاہور والوں کو بھی جینے دو اور لاہور کے شوق پر مٹھولالی کی صورت میں وبال کو دعوت نا دو
استاد مٹھو لالی صاحب اپنے شوق کے عروج پر ہیں اللہ نے انہیں فن دلیری اور اخلاق سے نوازہ ہے جس وجہ سے چیمپین کا تاج انکے سر پہ سجا اور تب تک رہے گا جب تک اخلاق اور عاجزی کو تھامے رکھیں گے ورنہ یہی کبوتر ہاتھ اور فن موجود تو ہوگا لیکن تاج نہیں ہوگا
خیر اندیش