26/08/2023
#کرکٹ #کی #دستان
آج کا زمانہ خود غرض کا زمانہ ہے کئی سال پہلے کرکٹ کا بہت جنون تھا ہمارے علاقے میں بہت کرکٹ کھیلی جاتی تھی نہ گرمی دیکھتے تھے نہ سردی دیکھتے اس وقت بھی کام ہوا کرتے تھے لیکن کرکٹ کے وقت سب اپنا کام ختم کر کے گراؤنڈ میں پہنچ جاتے تھے آج کل اگر میچ کا ٹائم 4 بجے کا ہو تو بڑی مشکل سے 6 بجے پہنچ جاتے ہیں ۔ اور اکثر کہتے ہیں کے صحت ساتھ نہیں دیتی ہمارے علاقے کے بہت اچھے پلیر تھے جو غربت اور مجبوری کی وجہ سے کرکٹ کھیلنا چھوڑ گئے اور ہمارے علاقے کو کسی بھی گیم کے لئے کوئی گراؤنڈ میسر نہیں بس جب فصل کی کٹائی ہو جاتی تو کرکٹ کے سیزن شروع ہو جاتے اور بہت جزبے جنون سے کھیلا کرتے تھے ایک دوسرے کے ساتھ چیلنج بھی کرتے تھے اور ایک دوسرے کی عزت بھی کمپرومائز بھی کرتے تھے ۔اس دور کے چند مشہور پلیر Zahoor Nawaz Malik
کچھ پیلیر اور بھی ہیں جو مجھے بھول گئے ہیں لیکن اپنی گیم میں اچھا نام کما کے گئے ہیں کچھ پیلیر آج بھی جوانی کی طرح کھیل رہیے ہیں اور جونئیر کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں دیکھو ان پیلیر کا دور تھا کوئی سہولت میسر نی تھی
جو پلیر 3 چھکے لگا لیتا تو ان کا ریکارڈ توڑنے کے لئے عرصہ لگتا تھا اور اتنے تک نام رہتا تھا اسی طرح بولر بھی ایسے میڈن اواور کرتے تو کافی نام رہتا ۔ آج کل کا سوشل میڈیا کا دور ہے کچھ پلیر اچھی گیم کر کے میڈیا پر دھوم مچا دیتے ہیں لیکن اس ٹائم کوئی سوشل میڈیا نہیں تھا جو دیکھتے تو براہ راست ۔ اللہ ان کو سلامت رکھے اب مجھے کچھ ماہ سے ویسے کرکٹ کا رجحان لگ رہا ہے جو ختم ہوتا جا رہا تھا ۔
دیکھو ڈھانڈلہ شوگر مل میں وکٹ تیار ہو رہی ہے وہ بھی ہارڈ بال کے لئے جو ہماری سوچ میں بھی نہیں تھی ہم سب جونئیر ان تمام پیلروں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جو ہمیں گھر میں ہارڈ بال مہیا کر دی ۔۔شکریہ Zahoor Nawaz Malik