All cricket news

All cricket news you can get all cricket news here
(4)

اگر آپ ٹیلنٹ کو موقع فراہم کریں گے تو ٹیلنٹ آپ کو مایوس نہیں کرے گا عرفات منہاس نے یہ ثابت کیا ہے سفیان مقیم بھی ثابت کر...
30/05/2026

اگر آپ ٹیلنٹ کو موقع فراہم کریں گے تو ٹیلنٹ آپ کو مایوس نہیں کرے گا عرفات منہاس نے یہ ثابت کیا ہے سفیان مقیم بھی ثابت کر چکے مگر مسلسل نظر انداز کیونکہ شاداب کی طرح تعلقات نہیں ہیں

6 جون 1994، ایجبسٹن، برمنگھم۔ صرف 50 دن پہلے برائن لارا نے اینٹیگوا میں انگلینڈ کے خلاف 375 رنز بنا کر ٹیسٹ کرکٹ کی تاری...
30/05/2026

6 جون 1994، ایجبسٹن، برمنگھم۔ صرف 50 دن پہلے برائن لارا نے اینٹیگوا میں انگلینڈ کے خلاف 375 رنز بنا کر ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا انفرادی اسکور قائم کیا تھا۔ پوری دنیا اس کارنامے کا جشن منا رہی تھی، صحافی ان پر مضامین لکھ رہے تھے اور کرکٹرز ابھی تک اس ناقابلِ یقین اننگز کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔
مگر لارا پہلے ہی اپنے اگلے ریکارڈ کی منصوبہ بندی کر چکے تھے۔
اس فرسٹ کلاس میچ میں ڈرہم نے پہلی اننگز میں 556/8 کا بڑا مجموعہ بنا کر واروک شائر پر دباؤ ڈال دیا تھا۔ جب واروک شائر بیٹنگ کے لیے میدان میں اتری تو ڈرہم کو یقین تھا کہ میچ ان کے قابو میں ہے۔ لیکن وہ اس طوفان سے بے خبر تھے جو برائن لارا کی صورت میں آنے والا تھا۔
لارا کریز پر آئے اور اپنی منفرد مہارت، اعتماد اور خوبصورت اسٹروک پلے سے ڈرہم کے باؤلرز کو بے بس کرنا شروع کر دیا۔ دوسرے دن کے اختتام پر وہ 111 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ تھے۔ سب کو اندازہ تھا کہ کچھ خاص ہونے والا ہے، مگر کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ تاریخ لکھی جانے والی ہے۔
اگلی صبح، 6 جون کو، برائن لارا نے ایک ہی دن میں 390 رنز بنا ڈالے۔
جی ہاں، ایک دن میں 390 رنز! پیشہ ور باؤلرز کے خلاف، ایک اہم فرسٹ کلاس میچ میں، ایک ایسا کارنامہ جو آج بھی ناقابلِ یقین محسوس ہوتا ہے۔
20 رنز سے پہلے ڈرہم کے وکٹ کیپر کرس اسکاٹ نے ان کا ایک آسان کیچ چھوڑ دیا، جسے انہوں نے بعد میں اپنے کیریئر کی سب سے بڑی غلطی قرار دیا۔ اس کے بعد لارا کو روکنا ناممکن ہو گیا۔ وہ 200 تک پہنچے، پھر 300 اور پھر 400 کے ہندسے کو عبور کر گئے۔ انہوں نے عظیم ڈبلیو جی گریس اور ڈان بریڈمین کے ریکارڈز پیچھے چھوڑ دیے اور اب ان کی نظریں حنیف محمد کے 499 رنز کے تاریخی ریکارڈ پر تھیں، جو 1959 میں کراچی کے لیے کھیلتے ہوئے بنایا گیا تھا۔
حنیف محمد بدقسمتی سے 499 پر رن آؤٹ ہو گئے تھے اور 500 کا ہندسہ نہ چھو سکے تھے۔ یہ ریکارڈ دہائیوں تک ادھورا خواب بن کر رہا۔
لارا نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ یہ خواب پورا کریں گے۔
جب وہ 497 پر تھے تو واروک شائر کے وکٹ کیپر کیتھ پائپر میدان میں ایک اہم پیغام لے کر آئے کہ میچ صرف دو گیندوں بعد ختم کیا جا سکتا ہے۔ لارا نے اگلی ہی گیند کو ایکسٹرا کور کے راستے باؤنڈری کے لیے بھیج دیا۔ ایک ہی شاٹ میں وہ 497 سے 501 پر پہنچ گئے اور فرسٹ کلاس کرکٹ کی تاریخ میں 500 رنز کا ہندسہ عبور کرنے والے پہلے اور آج تک واحد بلے باز بن گئے۔
واروک شائر نے 810/4 پر اننگز ڈکلیئر کر دی۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ لارا کے اکیلے 501 ناٹ آؤٹ رنز ڈرہم کے پورے اسکور 556 کے قریب پہنچ گئے تھے۔ ان کی اس تاریخی اننگز میں 427 گیندوں پر 62 چوکے اور 10 چھکے شامل تھے۔
اسکور بورڈ پر 501* جگمگا رہا تھا۔ لارا نے بیٹ بلند کیا اور ایجبسٹن کا پورا مجمع کئی منٹ تک کھڑے ہو کر داد دیتا رہا۔
یہ ریکارڈ اب 31 سال سے قائم ہے۔ ٹی20 کرکٹ، فلیٹ پچز اور جدید بیٹنگ ٹیکنالوجی کے دور میں بھی کوئی کھلاڑی اس کے قریب نہیں پہنچ سکا۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے ماہرین اسے کرکٹ کے ناقابلِ تسخیر ریکارڈز میں شمار کرتے ہیں۔
اور سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ اگلی ہی صبح، 501 رنز بنانے کے 24 گھنٹے سے بھی کم وقت بعد، برائن لارا لندن کے اوول گراؤنڈ پہنچے تاکہ واروک شائر کے لیے بینسن اینڈ ہیجز کپ کا سیمی فائنل کھیل سکیں۔ وہاں بھی انہوں نے 70 رنز اسکور کیے۔
کچھ لوگ واقعی کسی اور ہی سیارے سے آئے ہوئے محسوس ہوتے ہیں، اور برائن لارا انہی میں سے ایک تھے۔

مصباح الحق کے ون ڈے کیریئر میں ایک بھی سنچری نہ ہونا کرکٹ کی سب سے بڑی ناانصافیوں میں سے ایک ہے۔ وہ پاکستان کے لیے مشکل ...
30/05/2026

مصباح الحق کے ون ڈے کیریئر میں ایک بھی سنچری نہ ہونا کرکٹ کی سب سے بڑی ناانصافیوں میں سے ایک ہے۔ وہ پاکستان کے لیے مشکل ترین حالات میں سہارا بننے والے بلے باز تھے، لیکن زیادہ تر نمبر پانچ پر بیٹنگ کرتے تھے اور اکثر دوسرے اینڈ سے انہیں خاطر خواہ سپورٹ نہیں ملتی تھی۔ اس کے باوجود ان کے نام 42 نصف سنچریاں ہیں، جو ان کی مستقل مزاجی، ذمہ داری اور غیر معمولی ذہنی مضبوطی کا واضح ثبوت ہیں۔ مصباح نے کئی مواقع پر پاکستان کو شکست کے دہانے سے واپس لا کر یادگار فتوحات دلائیں، مگر سنچری کا سنگِ میل ان سے ہمیشہ ایک قدم دور رہا۔

30/05/2026

آج پہلا ون ڈے بابر کتنے اسکور کریں گے
0 20 50 70 100

ورلڈ کپ 1999 آج کے دن ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا کی ٹیمز مد مقابل تھیں گلین ميگرات اور شین وارن کی تباہ کن بولنگ کی بدولت و...
30/05/2026

ورلڈ کپ 1999 آج کے دن ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا کی ٹیمز مد مقابل تھیں
گلین ميگرات اور شین وارن کی تباہ کن بولنگ کی بدولت ویسٹ انڈیز کی ٹیم 110 پر آل آؤٹ ہوئی
میگرات نے 14 رنز کے عوض پانچ شین وارن نے 11 رنز کے عوض تین وکٹ حاصل کیں
آسٹریلیا نے مطلوبہ ہدف 4 وکٹ کے نقصان پر حاصل کرلیا تھا

2000 کے اینٹیگوا ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز نے ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کی سب سے سنسنی خیز فتوحات میں سے ایک اپنے نام کی۔ 216 رنز کے ...
30/05/2026

2000 کے اینٹیگوا ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز نے ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کی سب سے سنسنی خیز فتوحات میں سے ایک اپنے نام کی۔ 216 رنز کے ہدف کے تعاقب میں ایک وقت پر ویسٹ انڈیز 144/3 پر مضبوط پوزیشن میں تھا، لیکن پاکستان کی شاندار باؤلنگ نے اسے 197/9 تک محدود کر دیا۔ اس موقع پر جمی ایڈمز اور کورٹنی والش نے غیر معمولی حوصلہ دکھایا اور آخری وکٹ پر 13 اوورز تک پاکستانی حملے کا مقابلہ کرتے ہوئے ٹیم کو صرف 1 وکٹ سے یادگار فتح دلوا دی۔
جمی ایڈمز 48 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے اور ویسٹ انڈیز کو سیریز میں 1-0 کی کامیابی دلائی۔ دوسری جانب وسیم اکرم نے میچ میں 11 وکٹیں حاصل کیں اور 50 رنز بھی بنائے، لیکن ان کی شاندار آل راؤنڈ کارکردگی پاکستان کو شکست سے نہ بچا سکی۔ یہ مقابلہ آج بھی ٹیسٹ کرکٹ کے عظیم ترین تھرلرز اور ڈرامائی اختتامات میں شمار ہوتا ہے۔

1982 دوسرا ٹیسٹ لارڈز پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے انگلینڈ کے خلاف 428 رنز آٹھ کھلاڑی آؤٹ پر اننگز ڈیکلیئر کی محسن خا...
29/05/2026

1982 دوسرا ٹیسٹ لارڈز
پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے انگلینڈ کے خلاف 428 رنز آٹھ کھلاڑی آؤٹ پر اننگز ڈیکلیئر کی
محسن خان نے ڈبل سینچری اسکور کی تھی ،
پاکستان نے انگلینڈ کو پہلی اننگز میں 227 جبکہ دوسری میں 276 رنز پر آوٹ کیا
پاکستان کو 77 رنز کا ہدف ملا جو پاکستان نے بغیر وکٹ کھوئے حاصل کیا

ہارون الرشید 25 مارچ 1953 کراچی میں پیدا ہوئے 1977 میں آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ ڈیبیو کیاہارون رشید پاکستان کے انڈر ریٹڈ مگ...
29/05/2026

ہارون الرشید 25 مارچ 1953 کراچی میں پیدا ہوئے
1977 میں آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ ڈیبیو کیا
ہارون رشید پاکستان کے انڈر ریٹڈ مگر نہایت باصلاحیت بلے بازوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے اپنے ٹیسٹ کیریئر میں 23 میچز کھیلتے ہوئے 1217 رنز اسکور کیے، جن میں 3 شاندار سنچریاں اور 5 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ ان کا بہترین انفرادی اسکور 153 رنز رہا۔ ہارون رشید اپنی تکنیکی مہارت، پراعتماد بیٹنگ اور لمبی اننگز کھیلنے کی صلاحیت کے باعث 1970 اور 1980 کی دہائی میں پاکستان کی بیٹنگ لائن کا اہم حصہ رہے اور قومی کرکٹ میں قابلِ قدر خدمات انجام دیں۔

ورلڈ کپ 1999 میں 29 مئی کو کھیلے گئے یادگار میچ میں زمبابوے نے مضبوط جنوبی افریقہ کو 48 رنز سے شکست دے کر بڑا اپ سیٹ کیا...
29/05/2026

ورلڈ کپ 1999 میں 29 مئی کو کھیلے گئے یادگار میچ میں زمبابوے نے مضبوط جنوبی افریقہ کو 48 رنز سے شکست دے کر بڑا اپ سیٹ کیا۔ زمبابوے نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50 اوورز میں 233/6 اسکور بنایا، جس میں اوپنر نیل جانسن نے شاندار آل راؤنڈ کارکردگی دکھائی۔ جواب میں جنوبی افریقہ کی بیٹنگ ابتدا ہی میں لڑکھڑا گئی اور ٹیم 40/6 تک پہنچ گئی۔ ہیث اسٹریک اور نیل جانسن کی عمدہ بولنگ نے جنوبی افریقہ کو سنبھلنے نہ دیا، جبکہ گیری کرسٹن، ہرشل گبز اور جیک کیلس جیسے بڑے بلے باز جلد آؤٹ ہوگئے۔
لانس کلوزنر اور مارک باوچر نے نصف سنچریاں ضرور اسکور کیں جنوبی افریقہ پوری ٹیم 185 رنز پر ڈھیر ہوگئی اور زمبابوے نے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی ون ڈے فتوحات میں سے ایک حاصل کی۔
نیل جانسن نے 76 رنز کی باری بھی کھیلی اور تین وکٹ بھی حاصل کیں
کیا آپ نے نیل جانسن کو کھیلتے دیکھا تھا ؟

کولن کرافٹ 15 مارچ 1953 کو پیدا ہوئے کولن کرافٹ ویسٹ انڈیز کے خطرناک فاسٹ بولرز میں شمار ہوتے تھے اور پاکستان کے خلاف ٹی...
29/05/2026

کولن کرافٹ 15 مارچ 1953 کو پیدا ہوئے
کولن کرافٹ ویسٹ انڈیز کے خطرناک فاسٹ بولرز میں شمار ہوتے تھے اور پاکستان کے خلاف ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی کارکردگی انتہائی شاندار رہی۔ انہوں نے پاکستان کے خلاف 9 ٹیسٹ میچز میں 50 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ 77 میڈن اوورز بھی کرائے۔ ان کی بہترین بولنگ 8 وکٹیں 29 رنز دیکر تھی، جو ان کے کریئر کی یادگار پرفارمنسز میں سے ایک ہے۔ پاکستان کے خلاف انہوں نے ایک مرتبہ پانچ وکٹیں لینے کا کارنامہ انجام دیا جبکہ دو بار چار، چار وکٹیں حاصل کیں۔ اپنی تیز رفتاری، جارحانہ انداز اور خطرناک باؤنس کی بدولت کولن کرافٹ پاکستانی بلے بازوں کے لیے ہمیشہ ایک بڑا چیلنج ثابت ہوئے۔
آپ میں سے کس کس نے انکو کھیلتے دیکھا تھا؟

28 مئی 1999 — ڈربی میں پاکستان کا زبردست وار! 1999 ورلڈ کپ میں پاکستان نے نیوزی لینڈ کے خلاف ایسا آل راؤنڈ کھیل پیش کیا ...
28/05/2026

28 مئی 1999 — ڈربی میں پاکستان کا زبردست وار!
1999 ورلڈ کپ میں پاکستان نے نیوزی لینڈ کے خلاف ایسا آل راؤنڈ کھیل پیش کیا جسے آج بھی شائقین بڑے فخر سے یاد کرتے ہیں
پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے جارحانہ آغاز کیا۔ سعید انور اور شاہد آفریدی نے ابتدا ہی میں کیوی بولرز پر دباؤ ڈال دیا۔
بعد میں اعجاز احمد نے ذمہ دارانہ نصف سنچری اسکور کی جبکہ انضمام الحق نے اپنی کلاس دکھاتے ہوئے صرف 61 گیندوں پر 73* رنز کی شاندار اننگز کھیلی ،
ان کی بیٹنگ میں طاقت، ٹائمنگ اور اعتماد سب کچھ موجود تھا، جس کی بدولت پاکستان نے 269/7 کا مضبوط مجموعہ کھڑا کیا۔
جواب میں پھر آیا راولپنڈی ایکسپریس کا طوفان
شعیب اختر نے اپنی رفتار سے نیوزی لینڈ کی ٹاپ آرڈر ہلا کر رکھ دی۔ وسیم اکرم نے بھی اہم وکٹ حاصل کی جبکہ اظہر محمود نے آل راؤنڈ پرفارمنس دیتے ہوئے 3 وکٹیں اپنے نام کیں۔
کپتان اسٹیفن فلیمنگ نے مزاحمت ضرور کی، مگر کیوی ٹیم 207/8 تک محدود رہی اور پاکستان نے 62 رنز سے شاندار فتح حاصل کی ،
پلیئر آف دی میچ: انضمام الحق رہے

Address

Bhakkar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when All cricket news posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share