30/05/2026
6 جون 1994، ایجبسٹن، برمنگھم۔ صرف 50 دن پہلے برائن لارا نے اینٹیگوا میں انگلینڈ کے خلاف 375 رنز بنا کر ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کا سب سے بڑا انفرادی اسکور قائم کیا تھا۔ پوری دنیا اس کارنامے کا جشن منا رہی تھی، صحافی ان پر مضامین لکھ رہے تھے اور کرکٹرز ابھی تک اس ناقابلِ یقین اننگز کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔
مگر لارا پہلے ہی اپنے اگلے ریکارڈ کی منصوبہ بندی کر چکے تھے۔
اس فرسٹ کلاس میچ میں ڈرہم نے پہلی اننگز میں 556/8 کا بڑا مجموعہ بنا کر واروک شائر پر دباؤ ڈال دیا تھا۔ جب واروک شائر بیٹنگ کے لیے میدان میں اتری تو ڈرہم کو یقین تھا کہ میچ ان کے قابو میں ہے۔ لیکن وہ اس طوفان سے بے خبر تھے جو برائن لارا کی صورت میں آنے والا تھا۔
لارا کریز پر آئے اور اپنی منفرد مہارت، اعتماد اور خوبصورت اسٹروک پلے سے ڈرہم کے باؤلرز کو بے بس کرنا شروع کر دیا۔ دوسرے دن کے اختتام پر وہ 111 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ تھے۔ سب کو اندازہ تھا کہ کچھ خاص ہونے والا ہے، مگر کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ تاریخ لکھی جانے والی ہے۔
اگلی صبح، 6 جون کو، برائن لارا نے ایک ہی دن میں 390 رنز بنا ڈالے۔
جی ہاں، ایک دن میں 390 رنز! پیشہ ور باؤلرز کے خلاف، ایک اہم فرسٹ کلاس میچ میں، ایک ایسا کارنامہ جو آج بھی ناقابلِ یقین محسوس ہوتا ہے۔
20 رنز سے پہلے ڈرہم کے وکٹ کیپر کرس اسکاٹ نے ان کا ایک آسان کیچ چھوڑ دیا، جسے انہوں نے بعد میں اپنے کیریئر کی سب سے بڑی غلطی قرار دیا۔ اس کے بعد لارا کو روکنا ناممکن ہو گیا۔ وہ 200 تک پہنچے، پھر 300 اور پھر 400 کے ہندسے کو عبور کر گئے۔ انہوں نے عظیم ڈبلیو جی گریس اور ڈان بریڈمین کے ریکارڈز پیچھے چھوڑ دیے اور اب ان کی نظریں حنیف محمد کے 499 رنز کے تاریخی ریکارڈ پر تھیں، جو 1959 میں کراچی کے لیے کھیلتے ہوئے بنایا گیا تھا۔
حنیف محمد بدقسمتی سے 499 پر رن آؤٹ ہو گئے تھے اور 500 کا ہندسہ نہ چھو سکے تھے۔ یہ ریکارڈ دہائیوں تک ادھورا خواب بن کر رہا۔
لارا نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ یہ خواب پورا کریں گے۔
جب وہ 497 پر تھے تو واروک شائر کے وکٹ کیپر کیتھ پائپر میدان میں ایک اہم پیغام لے کر آئے کہ میچ صرف دو گیندوں بعد ختم کیا جا سکتا ہے۔ لارا نے اگلی ہی گیند کو ایکسٹرا کور کے راستے باؤنڈری کے لیے بھیج دیا۔ ایک ہی شاٹ میں وہ 497 سے 501 پر پہنچ گئے اور فرسٹ کلاس کرکٹ کی تاریخ میں 500 رنز کا ہندسہ عبور کرنے والے پہلے اور آج تک واحد بلے باز بن گئے۔
واروک شائر نے 810/4 پر اننگز ڈکلیئر کر دی۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ لارا کے اکیلے 501 ناٹ آؤٹ رنز ڈرہم کے پورے اسکور 556 کے قریب پہنچ گئے تھے۔ ان کی اس تاریخی اننگز میں 427 گیندوں پر 62 چوکے اور 10 چھکے شامل تھے۔
اسکور بورڈ پر 501* جگمگا رہا تھا۔ لارا نے بیٹ بلند کیا اور ایجبسٹن کا پورا مجمع کئی منٹ تک کھڑے ہو کر داد دیتا رہا۔
یہ ریکارڈ اب 31 سال سے قائم ہے۔ ٹی20 کرکٹ، فلیٹ پچز اور جدید بیٹنگ ٹیکنالوجی کے دور میں بھی کوئی کھلاڑی اس کے قریب نہیں پہنچ سکا۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے ماہرین اسے کرکٹ کے ناقابلِ تسخیر ریکارڈز میں شمار کرتے ہیں۔
اور سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ اگلی ہی صبح، 501 رنز بنانے کے 24 گھنٹے سے بھی کم وقت بعد، برائن لارا لندن کے اوول گراؤنڈ پہنچے تاکہ واروک شائر کے لیے بینسن اینڈ ہیجز کپ کا سیمی فائنل کھیل سکیں۔ وہاں بھی انہوں نے 70 رنز اسکور کیے۔
کچھ لوگ واقعی کسی اور ہی سیارے سے آئے ہوئے محسوس ہوتے ہیں، اور برائن لارا انہی میں سے ایک تھے۔