03/04/2024
کیا آپ جانتے ہیں کہ 1983 اور 1987 کے ورلڈ کپ میں بھی پاکستانی ٹیم کی قیادت عمران خان کر رہے تھے؟
جب مسلسل دو ورلڈ کپ میں ٹیم جیت نہ سکی تو عمران خان نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور ایک کھلاڑی کی طرح کھیلنے لگے مگر جب 1992 کا مشہورِ زمانہ ورلڈ کپ آیا تو ٹیم کی باگ دوڑ پھر سے انہی کو سونپ دی گئی اور اہلِ دنیا نے دیکھ لیا کہ عمران خان کی قیادت میں پاکستان جیسی ٹیم جو ایک موقع پر ورلڈ کپ سے اخراج کے دہانے پر بیٹھی تھی، اس کے کھلاڑی کارنر ٹائیگر بن کر پلٹتے ہیں اور جھپٹ کر ورلڈ کپ ٹرافی اٹھا لیتے ہیں۔ 💝
ہم نے مان لیا کہ بابر اعظم 2021 میں ٹیم کو ٹائٹل نہیں جتوا سکا۔
ہمیں تسلیم ہے کہ بابر اعظم 2022 کے ورلڈ کپ میں بھی ورلڈ کپ ٹرافی نہ اٹھا سکا۔
ہم اقرار کرتے ہیں کہ 2023 کے ورلڈ کپ میں بھی بابر اعظم ٹیم کو فائنل فور تک میں بھی نہ پہنچا سکا۔
لیکن یہ دنیا ہے، یہاں چمتکار ہوتے رہتے ہیں، کرامات کا ظہور ہوتا بھی ہم نے دیکھا ہے
تو عزیزانِ وطن۔۔۔! 🌹
اعلان ہو چکا ہے، قیادت کا تاج بابر کے سر پر سج چکا ہے، اگلے کچھ مہینوں میں پاکستان نے اہم سیریز اور پھر ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کھیلنا ہے، اگلے سال ہم نے اپنے گھر میں چیمپئن ٹرافی کھیلنی ہے ۔
سب کی چاہت، تمنا اور خواہش یہی ہوتی ہے کہ ٹرافی پاکستان آئے ۔ ہمارا سبز ہلالی پرچم 🇵🇰 سر بلند ہو اور جس ایک نکتے پر پوری قوم یکجا ہے یعنی کہ کرکٹ، اس پر ہم سر فخر سے بلند کر کے اختلافات بھلا کر کچھ دیر اپنا غم غلط کر سکیں۔
تو آئیے ۔۔۔! ہم اعلان کرتے ہیں
بابر بھی ہمارا ہے
شاہین بھی ہمارا ہے۔
رضوان اور شاداب بھی ہمارے ہیں۔
عامر اور عماد بھی ہمارے ہیں۔
ہر وہ کھلاڑی ہمارا ہے جس کے سینے پر سبز ستارہ سجا ہے، ہمیں کسی سے کوئی اختلاف نہیں۔
آئیے مل کر ٹیم کو سپورٹ کرتے ہیں اور مل کر نعرہ لگاتے ہیں
پاکستان؟
Zariyaan رائٹس