24/01/2026
**“خطبۂ حجۃ الوداع کے سبق ہمیں کیوں یاد نہیں رہے؟”**
آج میں ایک ایسے موضوع کو اُجاگر کرنا چاہتا ہوں جو ہمیں پہلے ایک اچھا انسان اور پھر ایک اچھا مسلمان بننے میں مدد دے سکتا ہے، اِن شاء اللہ۔ کچھ عرصہ پہلے مجھ سے ایک ایسے شخص نے، جو آٹھ سال بھارت میں رہ چکا تھا، نہایت معصوم انداز میں سوال کیا: *“فاروٖق، آپ لوگ تو مسلمان ہیں، کیا پاکستان میں بھی ذات پات کا نظام موجود ہے؟ اور کیا اسی بنیاد پر لوگوں کے ساتھ عزت یا سختی کا برتاؤ کیا جاتا ہے؟”* میں نے وہاں کوئی جھوٹ نہیں بولا، بلکہ اپنے گاؤں کی مثال دے کر اُسے حقیقت سمجھانے کی کوشش کی۔ ہمارے ہاں اگر آپ کو “اچھی ذات” سے جوڑ دیا جائے تو آپ خود بخود معتبر سمجھے جاتے ہیں؛ جرگے کے مشران بن سکتے ہیں، آپ کی رائے کو وزن دیا جاتا ہے، چاہے آپ کے خیالات واقعی معاشرے کے لیے فائدہ مند ہوں یا نہ ہوں۔ اس کے برعکس اگر آپ کو “کم تر ذات” سے جوڑ دیا جائے تو آپ کو اپنی قابلیت، کردار اور محنت سے بار بار خود کو منوانا پڑتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر آپ دنیا میں عزت کما بھی لیں، تب بھی اپنے گاؤں یا علاقے میں وہ مقام نہیں ملتا، صرف اس لیے کہ آپ کی ذات کو کمتر سمجھا جاتا ہے۔
کوریـا آ کر مجھے شدت سے احساس ہوا کہ اصل “اچھی ذات” کوئی نسل یا برادری نہیں، بلکہ کردار، نظم و ضبط اور اجتماعی شعور ہوتا ہے۔ یہاں میں نے لوگوں کو ذات کی بنیاد پر لڑتے نہیں دیکھا، بلکہ ظلم کے خلاف ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہوتے دیکھا ہے۔ انہوں نے نہ صرف اپنی زندگیاں بہتر بنائیں بلکہ ہمارے جیسے ہزاروں غیر ملکیوں کے لیے بھی روزگار اور عزت کے مواقع پیدا کیے۔ یہی وجہ ہے کہ جن ممالک میں آج بھی ذات پات کی بنیاد پر انسانوں میں تفریق کی جاتی ہے، انہی ممالک کے لوگ یہاں آ کر اس معاشرے کی زبان، ثقافت اور نظام سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میں خود کوریـن لینگویج کلاس میں تھا جہاں میرے ساتھ بھارتی اور بنگلہ دیشی طلبہ بھی موجود تھے—سب ایک ہی صف میں، ایک ہی حیثیت کے ساتھ۔ یہ منظر خود ایک خاموش سبق تھا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں خطبۂ حجۃ الوداع یاد آتا ہے، جس میں رسولِ اکرم ﷺ نے واضح فرما دیا کہ کسی عربی کو عجمی پر، اور کسی گورے کو کالے پر کوئی فضیلت نہیں، سوائے تقویٰ کے۔ آج وقت آ گیا ہے کہ ہم ذات پات کے فرسودہ خ*ل سے نکل کر ایک ایسا نظام قائم کریں جو انسان کو اس کے عمل، اخلاق اور کردار کی بنیاد پر پرکھے۔ یہی انسانیت کی بقا ہے اور یہی دینِ اسلام کا اصل تقاضا۔ اگر ہم نے یہ سبق نہ سیکھا تو ہم نہ اچھے انسان بن سکیں گے اور نہ ہی سچے مسلمان۔