31/05/2026
السلام علیکم!
میرے تمام آزاد کشمیر، خصوصاً مظفرآباد کے والی بال سے محبت کرنے والے شائقین، کھلاڑیوں اور کھیل سے وابستہ افراد سے ایک مخلصانہ گزارش ہے۔
اگر ہم اپنے لوکل پلیئرز کو سپورٹ کریں تو یہ نہ صرف موجودہ کھلاڑیوں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی بہت فائدہ مند ثابت ہوگا۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مظفرآباد ریجن کا والی بال آہستہ آہستہ زوال کا شکار ہو رہا ہے اور نئے باصلاحیت لڑکے اس کھیل کی طرف کم آ رہے ہیں۔
اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے بعض سینئر کھلاڑی معمولی مالی فائدے کے لیے اپنی اصل پوزیشن اور حیثیت کو قربان کر دیتے ہیں۔ ایسے کھلاڑی جو اپنی ٹیموں کے اہم سنٹر یا مین پلیئر ہوتے ہیں، چند ہزار روپے زیادہ ملنے پر دوسری ٹیموں میں جا کر جھنڈی کھیلنا پسند کرتے ہیں۔ اس سے نہ صرف ان کی اپنی ویلیو متاثر ہوتی ہے بلکہ جونیئر پلیئرز کے سامنے بھی ایک غلط مثال قائم ہوتی ہے۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ باہر سے آنے والے بعض اوپن پلیئرز، جنہیں اپنے علاقوں میں شاید اتنی اہمیت نہ دی جاتی ہو، یہاں آ کر مرکزی کردار ادا کرتے ہیں جبکہ ہمارے اپنے باصلاحیت مقامی کھلاڑی جھنڈی کھیلنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ مقصد کسی مخصوص علاقے یا کھلاڑی پر تنقید کرنا نہیں بلکہ اپنے مقامی ٹیلنٹ کے حق میں آواز بلند کرنا ہے۔
اگر ہمارے سینئر پلیئرز لوکل کھلاڑیوں کے ساتھ کھڑے ہوں، ان کی حوصلہ افزائی کریں اور اپنی صلاحیتوں کے مطابق کردار ادا کریں تو جونیئرز کو بھی آگے بڑھنے کا حوصلہ ملے گا۔ انہیں یہ پیغام نہیں ملنا چاہیے کہ چند ہزار روپے کے لیے اپنی حیثیت اور معیار کو قربان کرنا ہی کامیابی کا راستہ ہے۔
ہم سب کے سامنے احسن ملہو جیسے نوجوانوں کی مثال موجود ہے۔ اگر وہ بھی وقتی فائدوں کو ترجیح دیتے تو شاید آج اس مقام تک نہ پہنچ پاتے۔ کامیابی ہمیشہ مستقل مزاجی، معیار اور خود اعتمادی سے حاصل ہوتی ہے۔
تمام سینئر کھلاڑیوں، منتظمین اور والی بال سے محبت کرنے والوں سے گزارش ہے کہ والی بال کی عزت کریں۔ یہ وہ کھیل ہے جس نے ہمیں پہچان، عزت اور مقام دیا ہے۔ اگر کسی کھلاڑی کو اپنی خدمات کا بہتر معاوضہ چاہیے تو وہ کھل کر بات کرے، لیکن اپنے اصل کردار اور معیار کو برقرار رکھے تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط اور مثبت مثال قائم ہو سکے۔
آئیں مل کر اپنے لوکل پلیئرز کو سپورٹ کریں، انہیں مواقع دیں اور مظفرآباد و کشمیر کے والی بال کا کھویا ہوا معیار دوبارہ بحال کریں۔