17/06/2026
اس خاتون کی درخت کو کچھ لوگ کاٹنا چاہتے تھے جبکہ اس 🌲 درخت کو خاتون کاٹنے سے بچانا چھاہتی تھی کیونکہ وہ سمجھتی تھی کہ یہ درخت ان کی کلچرل کا ایک حصہّ ھے۔
کچھ لوگ کلہاڑیاں لے کر آئے تھے۔ ارادہ تھا کہ اس صدیوں پرانے درخت کو جڑ سے اکھاڑ دیں ان کے لیے یہ بس لکڑی تھی، ایندھن تھا لیکن یہ خاتون درخت سے لپٹ گئی آنکھوں میں آنسو اور سینے میں آگ لے کر کھڑی ہو گئی کیونکہ وہ جانتی تھی یہ درخت ان کی دادی کی کہانیاں سنتا تھا۔ اس کی چھاؤں میں بچے کھیلتے تھے۔ اس کے پھل سے پورا گاؤں سیر ہوتا تھا۔ یہ درخت ان کی ثقافت، ان کی شناخت، ان کی مٹی کا زندہ ثبوت تھا۔
یہ خاتون سمجھتی ھے کہ جب ایک قوم اپنا درخت کٹتا دیکھ کر خاموش رہ جائے تو وہ قوم اپنی جڑیں خود کاٹ دیتی ہے۔
آج یہ خاتون ہمیں بتا گئی کہ مزاحمت ہمیشہ بندوق سے نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی بس ایک درخت کو گلے لگانے سے بھی ہو جاتی ہے 🌲